07:55 am
 معاشی غارت گری اور قومی سلامتی! 

 معاشی غارت گری اور قومی سلامتی! 

07:55 am

    یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ عوام میں بے چینی او ر بے یقینی تیزی سے بڑھی ہے۔ یہ عمل موجودہ حکومت کے آنے کے بعد رکنے کا نام نہیں لے رہا ۔ عوام کو بہت زیادہ امیدیں دلائی گئیں ۔ مسائل کا درست ادراک نہ ہونے اور مناسب تیاری نہ کر نے کے باعث ابتدائی سال میں  معیشت کی پہلے سے جھکی کمر اب ٹوٹنے ہی والی ہے۔ مہنگائی کا  طوفان غریب اور سفید پوش طبقے کی پردہ داری رکھنے والی چادر تار تار کر چکا ہے۔
ایندھن ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کے معاشی اہداف پورا کرنے کی پالیسی دراصل سادہ لوح عوام کی بچی کھچی کھال کھینچنے کے مترادف ہے۔ معیشت کی بحالی  کے دعوے کرنے کے بجائے عوام کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنے والی اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ سابقہ حکومتوں کی نااہلی پہ کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی لیکن موجودہ حکومت محض پچھلے حکمرانوں کا واویلا مچا کے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے بری ا لذمہ نہیں ہو سکتی۔ آئی ایم ایف سے محض چھ ارب ڈالر کے قرضوں کے لیے جس طرح ایڑیاں رگڑی گئیں اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ چھ ارب ڈالر کے  مونگ پھلی کے دانے جیسے قرضے تین برس سے زائد مدت میں جاری ہوں گے۔ ملکی وسائل کو  بروئے کار لانے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی تاحال  سامنے نہیں آئی  ۔ جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یا تو زبانی دعوے ہیں یا ایسے مبہم اقدامات ہیں جن کے نتائج سامنے آنا ممکن نہیں۔ ایمنسٹی اسکیم کے تحت جو  اثاثے ظاہر کئے جا چکے ہیں اُن سے ملک کو کیا حاصل ہو گا ؟ جو اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے اُن کو حکومت ضبط کرنے کے بعد کیسے استعمال کرے گی ؟ فی الحال کچھ بھی واضح نہیں ! غالب امکان یہی ہے کہ ضبط شدہ جائیدادوں کے اصل مالکان عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا کے حکم امتناعی حاصل کر لیں گے ۔ ملکی معیشت کے بارے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ وکلاء برادری کا کاروبار چمکنے کا امکان ضرور ہے۔ جن نعروں پہ موجودہ حکمراں جماعت نے الیکشن مہم کی بنیاد رکھی تھی اُن میں بدعنوان حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دولت کی بیرون ملک سے واپسی کا نعرہ سر فہرست تھا ! ایک سال سے زائد عرصے میں ایک پائی بھی واپس نہیں آسکی! کچھ سوال بہت اہم ہیں ۔ کیا الزامات غلط ہیں ؟ کیا تفتیش ناقص ہے؟ کیا نظام عدل میں ایسی خامیاں اور کمزوریاں ہیں جن کی بدولت مجرموں کے خلاف جرم ثابت نہیں کیا جا سکا ؟ احتساب اداروں کا کام ہے اور حکومت اس میں براہ راست مداخلت کی مجاز نہیں لیکن اداروں کی ناقص یا مشکوک کارکردگی پہ نگاہ رکھنا اور ضرورت پڑنے پہ کڑی باز پرس کرنا حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ وقت بے وقت بیان بازی کر کے اپنی تشہیر کے شوقین وزراء اور مشیر اکثر یہ کہہ کے حکومت اور عدلیہ کی جگ ہنسائی کا باعث بنتے رہے ہیں کہ سابق حکمرانوں کا احتساب تو دراصل حکمراں جماعت کر رہی ہے۔ ایسے بے تکے بیانات کو بنیاد بنا کے حزب اختلاف احتساب کے عمل کی غیر جانبداری پہ سنگین اعتراضات اٹھاتی رہی ہے۔ ملک کی لڑکھڑاتی معیشت اور حد سے زیادہ ناقص گورننس اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سابقہ حکمراں بحیثیت مجموعی بد عنوانی کے ذمہ دار ہیں ۔ تاہم ناقص تفتیش اور بوسیدہ عدالتی نظام کی وجہ سے ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہو پارہا ۔ 
بیرون ملک چھپایا دھن دولت واپس لانے کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہو پارہی ۔ معیشت کی بربادی قومی سلامتی پہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ عین حالتِ جنگ میں دفاعی بجٹ میں کٹوتی جیسے اقدامات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاشی کینسر کی جڑیں کتنی گہری ہیں ۔ چند ارب ڈالر کے قرضوں کی بھیک کے عوض آئی ایم ایف جیسیا عالمی رسہ گیر ادارہ حساس دفاعی معاملات  اور اہم قومی امور کے متعلق معلومات کا مطالبہ کرتا دکھائی دیا ۔ یہ بے انتہا تشویش ناک صورتحال ہے۔ حکومتی دعووں کے برعکس معیشت کی بحالی ممکن نہیں ۔ آج تک آئی ایم ایف کے مشوروں پہ اندھا دھند عمل کرنے والے کسی ملک کی معیشت کبھی مستحکم نہیں ہوئی ۔ پاکستان کے معاملے میں نہ تو قانون فطرت بدل سکتا ہے اور نہ ہی عالمی مالی ادارے کی روش میں کوئی تبدیلی متوقع ہے۔ ڈارئنگ روم میں کئے جانے والے معاشی فیصلے ملک کے گلی کوچوں میں بکھری زمینی حقیقتوں سے متصادم ہیں۔ اربوں روپے خیرات کرنے والی قوم ٹیکس چور نہیں ۔ بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں ستر برس سے زائد عرصے تک نقاب بدل بدل کے مسلط ہو نے والے چور ہیں ۔ کروڑوں روپے روزانہ تیل ، آٹا، پتی، دودھ ، صابن اور گھی جیسی اشیاء کی خریداری کے وقت ٹیکس کی مد میں جمع کروانے والے غریب عوام چور نہیں ۔ بلکہ عوام کے ادا کردہ ٹیکس کو ایف بی آر سے ملی بھگت کر کے ہڑپ کرنے والے سیٹھ چور ہیں ۔ یہ بھی خوب ہے کہ ٹیکس چوری امیر طبقہ اور حکومتی اہلکار کریں جبکہ خمیازہ غریب عوام بھگتیں۔ بجلی چوری حکومتی اہلکاروں کی مدد سے ہو اور بوجھ عوام برداشت کریں ۔ 
جو حکومت اپنے نااہل سرکاری ملازمین اور بد عنوان بیورو کریٹس کو لگام نہیں دے سکتی وہ بھلا کس کام کی ؟ سابق حکمرانوں میں اور موجودہ حکومت میں کارکردگی کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ۔  وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے! معاشی بربادی پہ ہمارے ازلی ابدی دشمن جشن منا رہے ہیں ۔ دفاعی بجٹ میں کٹوتی کا اقدام توجہ کا متقاضی ہے۔ دشمن جو ہدف  جنگ کے میدان میں نہ حاصل کرپایا وہ  معاشی غارت گروں نے قرضوں اور سود کے بہی کھاتوں میں حاصل کر لیا ۔ وزیر اعظم صاحب ! ہوش کے ناخن لیں ! آئی ایم ایف کے زہریلے ٹیکوں سے کبھی کسی قوم کی جان نہیں بچی ۔ اپنی پالیسیاں بدلیں ! اپنی سوچ بدلیں ! اپنی معاشی ٹیم بدلیں ! جنگی بنیادوں پہ ایف بی آر کے بد عنوان افسروں کا احتساب کر کے نیک نام اہلکاروں کی ٹیمیں تشکیل دیں ۔ پاکستان میں ابھی دیانت دار اور امانت دار افراد کا قحط نہیں پڑا۔  تین سال میں جتنا قرض آئی ایم ایف سے ملنا ہے اس سے دگنا ٹیکس تو  محض ایک برس سے کم عرصے میں پاکستان کی اشرافیہ سے جمع کیا جاسکتا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں