07:57 am
انہدام معیشت اور انہدام ریاست

انہدام معیشت اور انہدام ریاست

07:57 am

بنیادی سوال یہ ہے کہ فوج نے بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا تھا؟ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں معیشت کے حوالے سے لیکچر کیوں دیا ایک قومی انگریزی روزنامہ کے ادارئیے میں فوج کے معیشت کے حوالے سے موجودہ کردار پر تنقید کی گئی ہے۔ قومی ترقیاتی عمل میں وزیراعظم نے جو قومی کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں آرمی چیف کو رکنیت دینے پر بھی سخت اعتراض کیا گیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ سوویت یونین آف رشیاء کے پاس کتنا بڑا جغرافیہ اور اس کے دفاع کے لئے کتنے ہزار ایٹمی ہتھیار و میزائل موجود تھے؟ اہم فیصلے اگر ریاست‘ عوام‘ ملک کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں توشدید نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔ 
 
سوویت  یونین آف رشیاء غلط فیصلہ سازی کی بنیاد پر افغانستان میں فوج بھیجے کر آٹھ دس سال تک افغانوں سے لڑتا رہا تب بھی فاتح نہ بن سکا‘ حالانکہ یہی سوویت یونین آف رشیاء تھا جس نے انقلاب کے ذریعے زارروس‘ سے حکومت حاصل کرکے کیمونزم کالینین جیسے فلسفی اور اس کے رفقاء کی مدد سے دنیا میں پہلا نظریاتی کمیونسٹ انقلاب بپا کیا تھا‘ ساتھ ہی ملحق ریاستوں  چھ سات کو جبراً نئے عسکری طور پر فاتح بنے سوویت یونین میں ضم کیا تھا۔ اس وقت فضا ‘ماحول چونکہ سوویت یونین آف رشیاء کے نظریاتی کمیونزم کے حق میں تھا۔ ہٹلر کی شکست کے ساتھ ہی عثمانی خلیفہ عبدالحمید کو بھی شکست ہوئی تھی۔ چیچن میں مسلمان جدوجہد کو کمیونزم نے کچل دیا تھا۔دو ٹوک سفاک کمیونزم نظام کی جھلک اسٹالن عہد میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ٹراٹسکی جیسے حقیقی نظریاتی کیمونسٹ فلسفی کو بھی ملک سے بھاگ جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں ہی تو چیچن امام  شامل کو بھی بھاگ کر جان بچانے اور قیام مکہ میں عافیت نظر آئی۔  سخت گیر اسٹالن نے دو بہت غلط کام کئے تھے۔ وہ مسلمان جو کمیونزم انقلاب میں بہت بڑے ساتھی اور مددگار تھے۔ انہیں ریاستی طور پر بطور مسلمان کمیونزم نے اتحادی ساتھ رکھنے کی بجائے کچل ڈالا کہ کمیونزم میں مذہب کی کوئی علامت باقی نہ رہے۔ 
دوسرا غلط کام پہلے غلط کام سے ہی وابستہ ہے۔ وہ روسی مسلمان جو کمیونسٹ سوویت  یونین آف رشیاء اور شاہ عبدالعزیز آل سعود کے مابین دوستی کا اہم کردار تھا اسے سوویت یونین   میں ہی قتل کر ڈالا۔ تاریخ میں یہ دو اہم غلط کام تھے جنہوں نے نظریاتی کمیونسٹ ملک کو بالآخر سعودی آئیل کے ذریعے اہمیت اختیار کر چکے۔ شاہ عبدالعزیز سے دور کر دیا اور یوں سعودی عرب رو س سے دور ہو کر امریکہ کے  زیادہ قریب ہوگیا۔ اگر اسٹالن کا آرمی چیف مدبر ہوتا‘ مستقبل بین ہوتا وہ حکمران اسٹالن کو ہرگز نہ مسلمان کمیونسٹ طاقتور وجود کو ختم کرنے کا مشورہ دیتا‘ نہ سعودی ‘ روسی دوستی میں موجود روسی کردار کا قتل کرنے دیتا جو اصلاً شاہ عبدالعزیز کا ذاتی دوست بھی تھا۔ بالآخر افغانستان میں فوجی مداخلت جوروسی صدر  برزنیف نے کی وہ بھی غلط تھی۔ اس طویل ناکام عمل نے سوویت یونین آف رشیاء کو معاشی طور پر تباہ کرکے اس کے انہدام کو طلوع کر دیا تھا یعنی غلط پالیسیوں کے سبب مسلمان کمیونسٹوں کا قتل عام‘ سعودی شاہ کے ذاتی دوست روسی کا قتل‘ افغانستان میں تکبر کے ساتھ فوج کا داخلہ‘ نتیجتاً انتہائی مہک معاشی تباہی کا طلوع ہو جانا۔ جنرل باجوہ اور فوج نے اگر معیشت کو اصلاح میں کردار ادا کرنے کا آپشن استعمال کیا ہے تو بہت اچھا کیا ہے۔ ہمیں سیکولر اور لبرل ہو کر بھی محب وطن ہی رہنا چاہیے اور فوج اور آرمی کے موجودہ کردار کی حمایت کرنی چاہیے۔ جنرل باجوہ کا ترقیاتی کمیٹی کا ممبر بننا بالکل درست ہے۔ 
اگر ماضی میں  سوویت یونین اتنے ہزار ایٹمی میزائل رکھنے کے باوجود بھی بکھر گیا‘ ٹوٹ گیا‘ تو اس عمل میں رہنمائی حاصل کرنا ہر ملک‘ ہر فوج کے لئے لازمی بات ہونی چاہیے۔ ہم آرمی کے موجودہ مثبت کردار کی حمایت کرتے ہیں۔ ترقیاتی کمیٹی میں جنرل باجوہ کے ذریعے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مطلوب ترقیاتی عمل کو یقینی بنایا جائے گا ورنہ بلوچستان میں سیاسی لوگ اور بیورو کریٹ سارا ترقیاتی بجٹ ہڑپ کر جایا کرتے تھے۔
روحانی وژن: لاہور کے روحانی دوست کا پیغام ہے کہ جولائی میں زیادہ ذکر الٰہی‘ استغفار کریں19اور 17جولائی کے اردگرد زیادہ توجہ طلب امور واقعات وقوع پذیر ہوسکتے ہیں۔ پروفیسر غنی 20جولائی اور اس کے بعد بھی فوج کی زیادہ اہمیت کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔ میری التجاء ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ حکومت مخالف کردار میں کسی بھی تحریک کا حصہ نہ بنیں جو موجودہ اسمبلی کا خاتمہ اور عمران حکومت کو نیست و نابود کرنا ہی اپنا مشن بنا چکا ہو مبینہ مذہبی جذباتی معاملات کے ذریعے بھی حکومت مخالف تحریک کا سرخیل بننے پر کمربستہ ‘ آٹھ سال تک میں خودبھی  درس نظامی کی تعلیم مدرسے کی چٹائیوں پر بیٹھ کر حاصل کرنے کی نعمت سے سرفراز رہا ہوں‘ لہٰذا بہت محبت سے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کو متوجہ کرتا ہوں کہ کسی بھی سیاسی کردار کے ساتھ ہرگز کھڑے  نہ ہوں۔ خود کو ملک دشمنوں کی صف میں اپنی سادہ لوحی سے شامل نہ ہونے دیں۔ سیاست شاطر لوگوں کا بزنس اور کاروبار ہے لہٰذا دینی مدارس کو اس تخریبی عمل سے دور رہنا چاہیے جو فائدے کی جگہ دینی مدارس کو ہی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے  قابل احترام حنفی اذہان کو شاہ ولی اللہ کے معاشی نظام اسلام کی فہم حاصل کرکے ریاست‘ ملک اور عوام کے لئے مسلمان معاشی کردار بننا چاہے یوں ریاست کا دست و بازو بنیں  گے  جس کی ہم اور آپ ریاست میں اسلامی عہد کے فاتحانہ وجود کے لوٹ آنے کی نوید بن سکتے ہیں۔ 
یاد رہے  جولائی اگست مارشل لگنے کا موسم کہا جارہا ہے۔ مذہبی کردار‘ دینی مدارس کے چکمے میں نہ آئیں۔ ریاست کے ساتھی بنیں۔
امریکہ نے بی ایل اے‘ مجلس الاحرار‘ جنداللہ وغیرہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے۔ اس عمل کے بعد امریکہ کو ذرا بھارت کا مکروہ چہرہ بھی دیکھنا چاہیے جو وہ قبائلی علاقوں  اور بلوچستان میں بغاوتوں کے لئے ادا کرتا رہا ہے۔ ماما قدیر کون تھا؟ بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں سے روابطہ رکھنے والوں کی سرکشی اور بغاوتوں میں بھارت کا کتنا کردار ہے ‘یہ تو مخفی نہیں ہے ۔ قبائلی علاقوں میں بھی بھارت اور مغربی ایجنسیوں کا کردار سب کو محسوس ہوتا ہے۔ حکومت سے  لاکھ اختلاف کرلیں مگر ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوں۔ ریاست اور حکومت کو بین الاقوامی این جی اوز پر سخت نظر رکھنی چاہیے۔ تخریبی عمل ماما قدیر جیسے کردار انہی این جی اوز کے ذریعے ییدا ہوتے اور طاقتور ہوتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں