07:57 am
زندگی کی ہمسفرہے موت 

زندگی کی ہمسفرہے موت 

07:57 am

ہاں ایساہی ہوتاہے۔میں کاچکرکبھی ختم نہیں ہوتا۔بس میں کاچکر۔دھوکاہی دھوکا اور خود فریبی ۔ دربارِ عالیہ میں مسندِنشین خوشامدپسندحکمران اورچاپلوس مشیرانِ کرام ، جھوٹ،غلط پالیسیوں کااجراء اورعوام کادرووغم یکساں کیسے ہوسکتے ہیں!ہوہی نہیں سکتے۔نہیں جناب آپ نے بجا ارشاد فرمایاآپ ہی تو صحیح فرماتے ہیںآبِ زرسے لکھنے کے قابل ہیں آپ کے ارشاداتِ عالیہ۔درنایاب ہیں آپ، نجات دہندہ اورزمین پرخداکاسایہ۔رحمت باری تعالیٰ او ر اوتارِ زمانہ ہیں آپ سرکارآپ جئیں ہزاروں سال سداجئیں کانعرہ‘اورخود فریبی میںرچابسافریب خوردہ انسان۔اتنی آوازوں میں کون اپنے آپ میں رہتا ہے۔ جامے سے باہرہوہی جاتاہے۔
 
لیکن کون جیاہے سدا!کوئی بھی نہیں۔سب کوچلے جاناہے۔زندگی پرموت کاپہرہ ہے۔نہیں بچاکوئی۔کوئی بھی تونہیں بچالیکن کون سمجھائے جب قلب سیاہ ہوکر پتھربن جائے چاہے دھڑکتاہی ہو،اس سے کیاہوتاہے!ہاںپتھرتوپتھرہوتاہے۔فریب ہی فر یب  اوردھوکاہی دھوکا۔زمین پرپاں ٹکنے ہی نہیں دیتایہ دھوکا۔چاہے کچھ کرلیں ہاں کچھ بھی،نہیں بچ سکاکوئی بھی موت کے منہ سے۔بے حس وسفاک موت،کسی کو خاطر میں نہ لانے والی۔ہاں وہ کسی کی بھی دھمکی نہیں سنتی،کسی کے نام ونسب، منصب وجاگیرسے اجنبی موت لیکن پھربھی جیئے جیئے سداجیئے کاخمار۔ایسانشہ جوسارے نشے کودوآتشہ اورسہ آتشہ کردے۔ آہ نہیں بچا کوئی۔آگ وخون کی بارش کرنے والے بھی اورمظلوم،معصوم اور مقہوربھی‘نہیں کوئی نہیں بچالیکن پھرسب ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔تب خیال آتاضرورہے لیکن ساعت ولمحات بیت چکے ہوتے ہیں،سب ٹھاٹھ پڑارہ جاتاہے،پھرپل کی خبرنہیں ہوتی حالانکہ سامان سوبرس کادھراہوتاہے۔
وہ مجھے اکثرکہتاہے کوالٹی لائف ہونی چاہیے ۔  ہاں وہ اسی طرح کی زندگی بسر کرتاہے۔ ہر چیز وافراوروقت نپاتلالیکن کیایہ ہے کوالٹی لائف! اچھی نوکری کیلئے بہترین تعلیم حاصل کرنا ۔پھرپیسے جمع کرنااورکرتے ہی چلے جانا۔پھرایک خوب صورت لڑکی سے شادی۔ایک آسائشوں بھراگھراوراس کے لان میں بچھی ہوئی آرام دہ کرسی پرجھولتے ہوئے گپ شپ ۔بس یہ ہے آج کی کوالٹی لائف۔کیایہی ہے زندگی!میراایک دیہاتی دوست بہت ہنستااورکہتاتھا:کچھ لوگوں کی زندگی پتاہے کیسی ہوتی ہے؟میں کہتانہیں،توکہنے لگا:ان کی زندگی ہوتی ہے’’نہ ہم کسی کے نہ ہماراکوئی‘‘۔کسی سے کوئی مطلب ہی نہیںبس میں،میں اورمیں کاچکر۔
زندگی موت کی امانت ہے۔ان کایہ جملہ ہروقت میری سماعتوں میں رس گھولتاہے۔میں اکثران سے ملتاتھا۔بس ہروقت ایک ہی بات تھی ان کی،پیٹ کی نہ ماننایہ کبھی نہیں بھرتا۔ دنیابھرکی نعمتیں اس پیٹ میں ڈال لے،اگرایک وقت کافاقہ آگیاتوہٹ دھرمی سے کہنے لگتاہے میں نے توآج تک کچھ کھایاہی نہیں۔ پیٹ بھی ایک جہنم ہے۔کیاتشبیہ ہے۔ یہ  زندگی موت کی امانت ہے،مت بھولنا۔ہم اگربھول بھی جائیں تب بھی کیاہوگا؟کچھ نہیں۔خودکوفریب دیں گے۔موت توہمیں نہیں بھولتی۔زندگی کے ساتھ ہم سفرموت،کبھی نہیں مہلت دیتی۔آکررہتی ہے۔
بس ایک فرق ہے۔کس نے کس طرح موت کااستقبال کیا۔بس یہ ہے اصل۔ایک دن انہوں نے مجھے کہاتھا:دیکھ،سامان اول توہوناہی نہیں چاہیے اوراگرہوبھی تو بس مختصر۔ دیکھ ،موت کی گاڑی زندگی کے ساتھ ہی روانہ ہوتی ہے،تجھے کسی اسٹیشن پرجانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کاکوئی وقت ہی نہیں جوتجھے معلوم ہولیکن آتی بروقت ہے۔اس لیے بس چھوٹی سی گٹھڑی سے زیادہ جمع نہ کرنا،موت کی ٹرین آئے توبس ہنس کھیل کرسوارہوجانا۔ہوناتوہے،توپھرہنس کھیل کر کیوں نہیں اورپھران کانعرہ مستانہ گونجتا’’کوئی بھی نہیں بچے گا ،آآمجھے توتیارپائے گی‘‘ انسان اوربندہ عاجزلیکن طاقت کے زعم میں لتھڑاہوا۔فریب خوردہ سمجھ ہی نہیں پاتا،بس اتنی طاقت کے نشے میں چور چلاتا رہتاہے‘ یہاں سے ماریں گے،وہاں ماریں گے،کوئی نہیں بچے گا،نہیں چھوڑیں گے،بس ماریں گے ہم، ہلاک کردیں گیاورپھرآگ وخون کی بارش برستی ہے اورموت کا ہر کا ر ہ  پروانہ اجل تقسیم کرنے لگتاہے اورپھرسب رخصت ہو جاتے  ہیں،سب نے ہوناہے رخصت۔
مجھے یادآیا،اس کی گردن تن سے جداکرنے لگے توپکارنے لگا:رب کعبہ کی قسم،میں توکامیاب ہوگیا۔ہاں یہ بھی ایک موت ہے،بارود کی بارش میں معصومیت کاقتل عام۔کوئی بھی نہیں بچے گا جناب۔ زندگی موت کی امانت ہے اورمہلتِ عمل بہت تھوڑی۔ دنیادھوکاہے،سراسردھوکا۔ کسی کی رہی نہ رہے گی،اپنے اپنے حصے کی آگ اوراپنے اپنے حصے کے پھول لیکرسب چلے جائیں گے۔
بس دیکھ کہیں تواپنے لیے آگ ہی آگ توجمع نہیں کررہا۔اس کی ماں نے اس ریگستان کی ٹھنڈسے بیتاب ہوکراس سے کہاتھا‘جاآگ لا۔بہت دیربعدوہ خالی ہاتھ لوٹا ماں کے حضوردست بدستہ عرض گزاری:ماں کہیں سے آگ نہیں ملی’’تب ماں نے تلخ ہو کر پکارا‘‘ جاکرجہنم سے ہی لے آتا۔’’توپھرماں کے حضوراپناسرخم کرکے عرض کی‘‘ماں وہاں بھی گیا تھا،وہاں کے نگراں نے مجھے کہاجااپنارستہ لے،ہرانسان اپنی آگ دنیاسے خودلیکریہاں آتاہے‘‘ ۔
اب ایک بارپھرحکومت اوراپوزیشن آمنے سامنے آگئے ہیں،مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں،بجٹ کوعوام کامعاشی قتل قراردیکرسڑکوں پرعوامی طوفان لاکرحکومت کوگرانے کا دعویِ کیاجارہاہے جبکہ حکومت نئی موشگافی کے ساتھ سینہ پھلاکردعویٰ کرہی ہے کہ اس نے ملک کی دواہم جماعتوں کے سربراہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کرعوامی وعدہ پوراکردیا ہے لیکن کیااس عمل سے ملک کی معاشی ابتری ختم ہوجائے گی؟ سپریم کورٹ بینکنگ کورٹ بنانے کا حکم دے چکی ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں اورسرکلر29کاغلط استعمال کرکے قرضے معاف کرنے والے بینکوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اورملک کی لوٹی ہوئی دولت کودوبارہ قومی خز ا نے  میں جمع کروایاجائے کہ یہ قوم کی امانت ہے لیکن حکومت نے اس معاملے پرکیوں خاموشی اختیارکررکھی ہے۔ شنید ہے  کہ وہ اپنے پیٹی بند بھائیوں پرآنچ نہیں آتی ہے! 
جناب اب بھی وقت ہے،نہ جانے مہلتِ عمل کب ختم ہوجائے۔زندگی کی ہمسفرہے موت۔ نہ جانے کہاں اچک لے۔کچھ بھی تونہیں رہے گا۔بس نام رہے گااللہ کا۔

تازہ ترین خبریں