07:58 am
ذخیرہ اندوز معاشرے کے قارون

ذخیرہ اندوز معاشرے کے قارون

07:58 am

آج حکومت کی پیدا کردہ مہنگائی تو اپنی جگہ پر ہے ہی‘ مگر منافع خوروں اور ذخیرہ اندوز مافیا کے ناجائز ہتھکنڈوں کی وجہ سے بھی مہنگائی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے‘ ناجائز ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے مذہب اسلام کے احکامات کا اس نیت سے جائزہ لے رہا ہوں کہ شاید کہ اتر جائے کسی کے دل میں میری بات:
 
حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ غذائی اجناس ذخیرہ کی جائیں۔ (شعب الایمان)
 جس احتکار اور ذخیرہ اندوزی کی ممانعت فرمائی گئی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اس نیت اور غرض سے اشیائے ضرورت خصوصاً غذائی اجناس سٹاک اور جمع کرے کہ میں اُس وقت ان کو نکالوں گا جب بازار میں ان کی قلت ہوجائے گی اور اس کی وجہ سے میں لوگوں سے زیادہ منافع کما سکوں گا۔
اس حدیث میں غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی ممانعت خاص طور پر ذکر ہوئی ہے، اس باب کی بعض دیگر روایات (جو آگے آرہی ہیں) میں مطلقاً اور بالعموم بھی ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ومذمت مذکور ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غذائی اجناس کے علاوہ دیگر اشیائے ضرورت کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ غذائی اجناس میں ذخیرہ اندوزی واحتکار کی ممانعت کی جو علت اور وجہ ہے وہ باقی تمام اشیاء ضرورت میں بھی پائی جاتی ہے (وہ یہ کہ لوگوں کو اس چیز کی ضرورت ہے لیکن ذخیرہ اندوز  نے اس کے منہ مانگے دام کھرے کرنے کی خاطر اسے بازار میں لانے کی بجائے اپنے گودام میں چھپایا ہوا ہے، ذخیرہ کیا ہوا ہے)۔ البتہ غذائی اجناس کی عام طور پر زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور سب کو ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے غذا کی اہمیت سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کو ذخیرہ کرنے کا ضرر ونقصان زیادہ شدید اور زیادہ وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کہ لوگ اناج، غلے اور باقی غذائی اشیاء کے دانے دانے کو ترس جاتے ہیں اور ایک مصنوعی قحط پورے معاشرے اور ساری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے حالانکہ رزق دینے والے رب نے جس کو قحط مسلط کرنے کا حق بھی ہے اور مختلف نافرمانیوں کی صورت میں وہ ذات مختلف قوموں پر مختلف اوقات میں سزا وتنبیہ کیلئے قحط مسلط بھی کردیا کرتی ہے لیکن جب اس خالق ومالک اور رازق حقیقی نے قحط مسلط نہیں کیا، اس کے حکم سے بارشوں اور ہوائوں نے ،دھوپ کی کرنوں اور چاند کی چاندنی نے کھیتوں کو سیراب اور سرسبز وشاداب کیا اور زمین نے اناج غلوں، پھلوں اور ترکاریوں کے خزانے لٹانے میں پوری پوری سخاوت برتی تاکہ اللہ کی مخلوق کو زندگی کا سامان فراہم ہو، اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے وہ شاد کام ہو پھر یہ ملعون اور پھٹکار زدہ ذخیرہ اندوز اللہ کا بھیجا ہوا رزق ، اللہ کی پیدا کردہ روزی اللہ کے بندوں تک پہنچنے میں (محض حرص ولالچ اور ہوس زر کی وجہ سے) کیوں رکاوٹ بنتا ہے؟ اس طرح یہ عمل پورے معاشرے اور پوری قوم کیخلاف ایک سنگین جرم ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنی حکمت کاملہ سے ترتیب دیئے ہوئے اس کے تکویتی نظام میں خلل ڈالنا اور تعطل پیدا کرنا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی مخلوق کو، اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے اپنے رزق سے نوازتا ہے اور ذخیرہ اندوز احتکار کرکے ،بلیک مارکیٹنگ کرکے اس فطری نظام پہ قدغن لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
حضرت معمر بن عبداللہ بن نضلہؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ذخیرہ اندوزی وہی آدمی کرتا ہے جو (دل کا پاپی و) گناہ گار ہو۔ (ترمذی)
 اس حدیث میں علی العموم ذخیرہ اندوزی کو جرم وگناہ قراردیا گیا ہے، غذائی اجناس کی تخصیص نہیں کی گئی۔
حضرت یحییٰ بن سعیدؓ سے روایت ہے کہ: ’’حضرت سعید بن مسیبؒ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ حضرت معمرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں جوشخص ذخیرہ اندوزی کرے وہ مجرم وگناہ گار ہے، حضرت سعید (راوی) سے کسی نے کہا حضرت! آپ بھی تو ذخیرہ کرتے ہیں؟ حضرت سعیدؓ نے جواب دیاکہ (میرے استاد) حضرت معمرؓ (صحابی) بھی ذخیرہ کیا کرتے تھے۔ (مسلم)
 ان کی مراد یہ تھی کہ ہم لوگ ایسی اشیاء کا ایسے اوقات میں ذخیرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو ضرر نہ پہنچے (دوسرے موقع پر خود ان حضرت سعید ؓسے مروی ہے کہ وہ زیتون اور درختوں سے گرنے والے پتوں کا کاروبار کرتے تھے جو چوپایوں کے چارے کے طور پر استعمال ہوتے تھے، آپ بیچنے کے لئے ان کا کافی ذخیرہ جمع رکھتے تھے)    (جاری ہے)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو اشیاء منڈی وبازار میں عام دستیاب ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کی قلت نہیں ہوتی تو تھوک فروش ان کا یکبارگی سٹاک یا بڑی لاٹ خرید لیتے ہیں پھر وہ آہستہ آہستہ تھوک وپرچون بکتی اور نکلتی رہتی ہیں یہ بلاشک وشبہ جائز ہے اور تجارت وکاروبار میں ایک لازمی عنصر ہے یہ ناجائز ذخیرہ اندوزی میں نہیں آتا کیونکہ اس کے بغیر تو عام طور پر تجارت وکاروبار چل ہی نہیں سکتا کہ مال یکبارگی خریدلیا جائے اور پھر بتدریج وہ فروخت ہوتا رہے، گاہک وخریدار کی حسب ضرورت جتنی ڈیمانڈ وطلب ہو اس کو بیچا جاتا رہے جبکہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور باوجود ڈیمانڈ اور طلب کے اور لوگوں کی ضرورت میں تنگی پیش آنے کے پھر بھی مال چھپائے رکھتا ہے اور لوگ جب زیادہ قیمت دے کر خریدنے پر مجبور ہوجائیں تب بیچتا ہے۔ دونوں میں فرق واضح ہے۔ 
حضور ﷺ نے فرمایا کہ (اشیائے صرف) پھیلانے اور بکھیرنے والے (دکاندار وتاجر) کو رزق دیا جاتا ہے( اس کی کمائی وتجارت میں برکت وترقی ہوتی ہے) اور ذخیرہ کرکے روک رکھنے والے پر اللہ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے۔ (دارمی)
فائدہ: اس لعنت کا دنیوی زندگی میں پھر عملی مظاہرہ یوں سامنے آتا ہے کہ کمائی، تجارت میں بلیک میلنگ اور ناجائز منافع خوری کی وجہ سے مال کی ظاہری فراوانی کے باوجود بے برکتی ونحوست ہوتی ہے، طرح طرح کے آفات وحوادث میں وہ شخص مبتلا رہتا ہے اور ان قدرتی ومصنوعی آزمائشوں سے نکلنے کے لئے (لوگوں کو ترسا ترسا کر ان کے خون پسینے  کی گاڑھی کمائی ہتھیانے والے کو )پھر یہ مال پانی کی طرح بہانا پڑتا ہے اور آخرت کی بربادی اور زندگی بھرکی بے سکونی سوالگ۔
جبکہ حلال کا اہتمام کرنے والے تاجر کو جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو اس کو قناعت، صبروشکر، دل کا سکون اور عافیت وسلامتی والی زندگی عطا ہوتی ہے۔
مسائل ومصائب کے ان بکھیڑوں سے اللہ تعالیٰ بالعموم اس کو محفوظ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے حرام خور، بلیک میلر تاجروں کی زندگی عذاب بنی ہوتی ہے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ : ’’میں نے اللہ کے رسولﷺ سے احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس طرح ہوتی ہے؟ (سوال کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ صورۃُ تو جائز ذخیرہ اندوزی اور ناجائز ذخیرہ اندوزی ایک ہی طرح نظر آتی ہیں کہ دونوں میں اشیاء صرف ،قابل فروخت اشیاء سٹاک اور ذخیرہ کی جاتی ہیں جیسے کہ ابھی پیچھے تفصیل گزری تو دونوں میں ہم امتیاز کیسے کریں گے؟)
آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ (بیوپاری، آڑھتی، کمیشن ایجنٹ، تاجر ودکاندار) جب (اجناس واشیاء کی )ارزانی وفراوانی کا سنے تو اداس وغمگین ہو جائے (برا سا منہ بنائے، ماتھے پہ بل پڑ جائیں) اور جب گرانی (وقلت) کا سنے تو خوشی سے کھل اُٹھے۔ فرمایا کیسا برا شخص ہے ذخیرہ اندوز کہ اللہ تعالیٰ اگر نرخ ارزاں فرمادیں (مثلاً اللہ تعالیٰ ان اشیاء کی پیداوار میں اتنی کثرت وفراوانی فرمادیں کہ اس کے مقابلے میں طلب اور مانگ کم پڑ جائے، جس سے عام طورپر چیزوں کے نرخ گر جاتے ہیں) تو یہ غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ قیمت اور مول بڑھا دیں، مہنگی فرما دیں (قحط سالی، پیداوار کی کمی اور طلب میں اضافہ، بدامنی وجنگ وغیرہ حالات میں عام طور پر منڈی وبازار کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں) تو یہ خوش ہوتا ہے (گویا اللہ کی مخلوق پراللہ کا فضل ہونے پر اس کو گرانی ہوتی ہے اوراللہ کی مخلوق کو تکلیف پہنچے، اشیاء کی کمیابی اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی زندگی تلخ ہوجائے تو ان صاحب کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں)
 اس حدیث سے جائز وناجائزمنافع خوری وذخیرہ اندوزی کے دو بنیادی فرق معلوم ہوتے ہیں ایک فرق خارجی حالات کے اعتبار سے ہے کہ جائز منافع خوری وذخیرہ اندوزی وہ ہے جب اشیاء صرف کی فراوانی ہو اور لوگوں کو ان کے حصول میں کوئی تنگی ودشواری نہ ہو اور مناسب و معقول نرخوں پر اشیاء ضرورت میسر آجاتی ہوں، ایسے حالات میں مال سٹاک کرنا اور صارفین کی طلب پر بازاری نرخ پر بیچنا جبکہ اس کے مقابلے میں اشیاء صرف یا ان میں سے کسی چیز کی قلت ہوجائے( خواہ مصنوعی قلت ہو یا حقیقی) اور لوگوں کو اس کی عام ضرورت ہو پھر کوئی اس چیز کو چھپائے، ذخیرہ کرے اس طرح جب مصنوعی قلت انتہا کو پہنچ جائے اور لوگ اس کے حصول کیلئے خوب ترس جائیں تب یہ تھوڑا تھوڑا کرکے نکالے اور من مانے ریٹ پر بیچے تو یہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ہے۔
اور دوسرا فرق اچھے اور برے انسان کی ذہنیت اور نفسیات کے اعتبار سے ہے کہ (جو شخص عام حالات میں محض سٹاک فراہم رکھنے کی غرض سے اشیاء کو سٹور کرتا ہے ،ذخیرہ کرتا ہے اس میں کوئی برائی نہیں البتہ) جو لوگوں کو پریشانی کے عالم میں لوٹنے پر خوش ہوتا ہے اور اسی غرض سے اشیاء صرف کو ذخیرہ کرتا ہے کہ جب ایسے حالات پیدا ہوں گے تو پھر ان صارفین کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بیچوں گا (پھر بعد میں خواہ ایسے حالات کی نوبت نہ آئے لیکن جس نے اس ذہنیت اور نیت سے اشیاء سٹاک اور ذخیرہ کیا تو یہ ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کی فاسد ذہنیت پر مبنی مراد برآئے، چیزکی قلت ہوکر مہنگائی ہو جائے تو خوش ہوتاہے اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فصل سے ایسے حالات پیدا کریں کہ بجائے چیزمہنگی ہونے کے اور سستی ہو جائے تو اللہ کے اس فضل پر یہ ذخیرہ اندوز صاحب بے چین وغمگین ہوجاتے ہیں۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ یہ بہت برے لوگ ہیں۔
اس حدیث پر غور کریں تو سرمایہ دارانہ ملعون نظام معیشت اور اس نظام کے کل پرزے قارونی ذہنیت کے حامل سرمایہ داروں کی نفسیات کی یہ عکاسی کرتی ہے اور اسلام کے عطا کردہ تصور وذہنیت اور سرمایہ دارانہ ذہنیت میں فرق واضح کرتی ہیں۔ وہ یہ کہ اسلام مال کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیتا ہے، بندوں کے پاس یہ مال اللہ تعالیٰ کا دین اور عطیہ ہے اور بندے اس کے حصول میں بھی اور خرچ کرنے وتصرف کرنے میں بھی اللہ کے حکم کے پابند ہیں اس بنیاد پر اسلام میں ملکیت بے لگام اور بے حدود وقیود نہیں بلکہ حدودقیوم کی پابند ہے اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کے مالک کو اپنی ملکیت میں تصرف کرنے اور اس مال کو برتنے کا پورا اختیار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شریعت نے مالک کو کچھ قیود وشرائط کا پابند کیا ہے، کچھ اخلاقی، معاشرتی اور اجتماعی مصلحتوں پر مبنی ضابطے بھی سکھائے ہیں جن کی رو سے اصولی طورپر اپنے مال میں، اپنی ملکیت میں، ایسا تصرف کرنا کہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگوںاور عوام کو‘  معاشرے کو، پوری ملت کو نقصان پہنچے اس قسم کے تصرف کو شریعت نے منع کیا ہے۔
جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ملکیت کی حد اور قید، کسی اخلاقی ضابطے کی پابند نہیں ہوتی وہ دولت کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کوتسلیم کرنے اور اپنے پاس یہ دولت اللہ کا دین وعطیہ ہونے اوراس کی آمد وخرچ میں اللہ کے احکامات کا، اخلاقی ضابطوں کا اپنے آپ کو پابند کرنے کے بجائے یہ قارونی نعرہ بلند کرتے ہیں: ’’قارون نے کہا کہ یہ مال میں نے اپنی صلاحیت ومہارت اور علم ودانائی سے کمایا ہے‘‘۔ (سورۃ قصص آیت ۷۸)
سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں پلنے والے ہمارے معاشرے کے قارون بھی اسی ذہنیت وطرزِ عمل کے حامل ہیں کہ ہم بڑے ماہر اقتصادیات ومعاشیات ہیں، ایکسپرٹ اکنامسٹ ہیں، اپنے قارونی خزانوں میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے، اس کیلئے استحصال، ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ وغیرہ سب کالے دھندے اور رذیل ہتھکنڈے اپنانے میں ہم پوری طرح آزاد بلکہ مادر پدر آزاد ہیں اور ان سب جائز ناجائز ذرائع سے فاقہ مست انسانوں کا نچوڑا ہوا خون اور خون پسینے کی گاڑی کمائی ہم شیرِ مادر کی طرح بغیر ڈکار کے ہضم کریں گے۔
اس لئے اے میری قوم کے لوگو! کبھی آٹا، چینی، اور کبھی دالیں، چاول، گھی وغیرہ غذائی اجناس کا اپنے قارونی گوداموں میں ذخیرہ کرکے قوم کو خاک چٹانے اور خون کے آنسو رلانے والے قارونوں اور ان کے سرپرست فرعونوں کیخلاف اپنے رب سے ہی مدد مانگو کہ وہ ان زرداروں اور قارونوں کو اپنے پیشروئوں کی طرح دھنسا اور ڈبو کر بحروبر کے عذابوں میں مبتلا کرے جس طرح انہوں نے خشکی وتری کو فساد وظلم سے بھردیا ہے۔


 

تازہ ترین خبریں