07:59 am
بھارت کا نیا وار، پانچ فوجی شہید! 

بھارت کا نیا وار، پانچ فوجی شہید! 

07:59 am

٭آزاد کشمیر، چھمب سیکٹر، دھماکہ، پانچ فوجی شہیدO امریکہ: بی ایل اے، دہشت گرد قرارO اربوں کی بے نامی جائیدادیں ضبطO آئی ایم ایف 6 ارب 20 کروڑ ڈالر قرضہ منظور O قید سیاست دانوں سے عام ملاقاتوں پر پابندیO رانا ثناء اللہ کیس، نئی باتیںOلاہور ایئرپورٹ فائرنگ، خواتین نے اسلحہ پہنچایاO پروڈکشن آرڈر بند۔
 
٭آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کے پاس چھمب سیکٹر میں دھماکہ، پانچ پاکستانی فوجی شہید ہو گئے۔ تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ واضح طور پر یہ کارروائی بھارت نے کی ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کھلے عام پاکستان میں کارروائیو ںکا اعلان کر چکا ہے۔ اس کارروائی سے بھارتی عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں زیادہ تیز ہو گئی ہیں۔ پانچ فوجیوںکی شہادت الم ناک سانحہ ہے۔ فوج قربانیاں دیتی چلی جا رہی ہے۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو فوج کے خلاف بدزبانی کرتے رہتے ہیں اس میں کچھ ٹی وی اینکر پرسن بھی شامل ہیں۔ نام کیا لینا سب جانتے ہیں۔
ایک اہم اخباری رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان پر پاکستان کے دشمن ممالک سے مالی امداد لینے اور برطانیہ، امریکہ اور عرب امارات میں بھارتی حکام سے رابطے اور ان کی تقریبات میں شرکت اور پاکستانی فوج کے خلاف تقریروں کے ٹھوس شواہد مل گئے ہیں۔ محسن داوڑ نے پچھلے دنوں پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس اور علی وزیر کے خلاف کھلی بغاوت کے مقدمے درج ہو چکے ہیں۔ ان دونوں کے خلاف ایک الزام افغان بارڈر پر پاکستانی فوج کی چوکی پر لشکر کشی کا الزام بھی ہے۔ یہ دونوں افراد پاکستان دشمن تنظیم پی ٹی ایم کے سرپرست بھی شمار ہوتے ہیں۔
٭آئی ایم ایف نے چھ ارب20 کروڑ ڈالر کاقرضہ منظور کردیا ہے۔ ایک ارب ڈالر کی قسط فوراً مل جائے گی باقی رقم 39 مہینوں میں ماہوارملے گی، تین فیصد سود لیا جائے گا۔10 برسوں میں واجبالادا، ہو گی۔ سود کی رقم تقریباً 18 کروڑ ڈالر بنے گی۔ اس قرضے کی منظوری پر خزانے کے مشیر مسرت اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ یہ بات تو درست ہے مگر چھ ارب، 20 کروڑ ڈالر کی یہ رقم 18 کروڑ ڈالر سودکے اضافے کے ساتھ واپس بھی کرنی ہے۔ ہم خوش ہو رہے ہیں کہ سعودی عرب سے ادھار تیل ملنا شروع ہو گیا ہے، اس کی رقم بھی سود کے ساتھ بالآخر ادا کرنا پڑے گی۔ یہ کون کرے گا؟ کیسے کرے گا؟ اور قوم کا مزاج کیا بنا دیا گیا ہے کہ ہم جگہ جگہ سے امداد کی بھیک مانگ کر خوش ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مزاج اتنا عام ہو گیا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کی کامیابی کے لئے بھارتی ٹیم کی کامیابی کے لئے اور اپنی ٹیم کی اچھی کارکردگی کی بجائے دوسری ٹیموں کی شکستوں کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ ویسے پاکستان کی کرکٹ ٹیم مکمل طور پر ورلڈ کپ سے باہر ہو چکی ہے۔ آج بنگلہ دیش سے آخری مقابلہ ہے۔ بنگلہ دیش بہت مضبوط ٹیم ہے، بھارتی ٹیم کا سخت مقابلہ کیا اور بہت کم مارجن سے ہاری ہے۔ پاکستانی ٹیم کے آگے بڑھنے کے لئے بنگلہ دیش کو کم از کم 316 رنز کے فرق سے ہرانا ضروری ہے۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اس ٹیم کی تیاری میں کروڑوں روپے ضائع کئے گئے! کرکٹ بورڈ کا بجٹ اربوں کا ہے۔ کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے ماہوار تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور حاصل؟ مسلسل شکستیں! ہٹلر نے اسی بنا پر کرکٹ پر پابندی لگا دی تھی، آج بھی جاری ہے۔
٭ایمنسٹی ختم ہوئی۔بے نامی جائیدادیں ضبط ہونے لگیں۔ اسلام آباد میں ایک سینیٹر کی 6000 کنال کی جائیداد ضبط کر لی گئی جو ملازموں کے نام پر تھی۔ کراچی میں زرداری خاندان کے اربوں کے اثاثے ضبط ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق تقریباً 50 بڑے بڑے نام شکنجے میں آنے والے ہیں۔ جائیدادیں ضبط، اربوں کے ٹیکس، مقدمے الگ کہ یہ جائیدادیں کیسے بنیں؟ پاکستان میں یہ کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ ایوب خان کے زمانے تک ملک میں 22 بڑے خاندان مشہور تھے۔ ان میں اصفہانی، دائود، کریسنٹ، ہاشوانی اور دوسرے بڑے خاندان شامل تھے۔ ان خاندانوں نے کسی لوٹ مار کے ذریعے دولت جمع نہیں کی تھی بلکہ نسل در نسل سخت محنت کر کے اثاثے بنائے تھے۔ ان لوگوں نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں اہم قومی خدمات بھی انجام دیں۔ اصفہانی گروپ کے سربراہ ایم اے ایچ اصفہانی نے واشنگٹن اور لندن میں اپنی خاندانی کوٹھیاں پاکستان کے سفارت خانوں کو تحفہ کے طور پر دے دیں۔ دائود گروپ نے قائداعظم کی خواہش پر ڈان اخبار نکالا۔ کریسنٹ گروپ نے فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ دیا۔ یہ سارے گروپ پاکستان کے خزانے میں بھاری ٹیکس جمع کراتے تھے، کبھی کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی… اور اب!! درجنوں ’بڑے‘ خاندانوں کے اندرون و بیرون ملک کھربوں کے بے نامی اثاثے، ملکی خزانے کو ایک پیسے کا بھی ٹیکس نہیں! مگر  قدرت کے ہاں دیر تو ہوتی ہے، کچھ ڈھیل بھی مل جاتی ہے مگر پھر سخت تعزیریں! گرفتاریاں، ہتھکڑیاں، قید، بھاری جرمانے، جیلیں! کوئی سا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں، ملک کو لوٹنے والے خونخوار مگر مچھوں کا کیا حال ہو رہا ہے!  اور ملک کے اندر اور باہر 87 بڑے بڑے اثاثوں کا مالک ایک سابق صدر لکھ کر دے رہا ہے کہ اس کی بیرون ملک کوئی جائیداد ہی نہیں!! کیا تبصرہ کیا جائے؟
٭وزیراعظم اور ان کے ترجمان بار بار کرپشن کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ کرپشن کوئی نئی چیز نہیں اس کی کئی شکلیں ہیں۔ یہ دنیا بھر میں ہر جگہ ملتی ہے بلکہ ہر زمانے میں موجود رہی ہے۔ اسے رشوت یا بدعنوانی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اُردو کے مشہور شاعر مرزا غالب کے ساتھ بھی کرپشن کی عجیب واردات ہوئی تھی۔ انہوں نے نواب اودھ، نصیرالدین حیدر، کا ایک قصیدہ لکھا اور ایک درباری منشی محمد حسن کے ہاتھ بھجوا دیا۔ نواب نے خوش ہو کر پانچ ہزار روپے (آج کا حساب لگائیں) بطور انعام بھیج دیئے۔ یہ رقم خزانچی روشن الدولہ نے جاری کی اور اس میں سے تین ہزار روپے یہ کہہ کر رکھ لئے کہ ایک شاعر کے لئے دو ہزار روپے کافی ہیں۔ منشی محمد حسین نے باقی دو ہزار خود رکھ لئے۔ مرزا غالب کو کئی روز انتظار کے بعد اس چکر کا پتہ چلا۔ نواب نصیر الدین حیدر سے شکائت کرنے گئے معلوم ہوا کہ نواب کا تو انتقال ہو گیا ہے۔ چپ چاپ واپس چلے آئے۔ (کتاب ’مرزا غالب‘ ادارہ ادبیات اُردو، حیدرآباد دکن)
٭نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو لاہور میں ان کی ماڈل ٹائون کی رہائش گاہ کے اردگرد سڑکیں بند کر کے بلند جنگلے لگا دیئے گئے۔ ان کے بعد منظور وٹو وزیراعلیٰ بنے تو یہ سارے جنگلے گرا دیئے گئے۔ پھر نوازشریف وزیراعظم بنے تو رائے ونڈ روڈ پر ان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ کے سامنے اور اردگرد بھاری جنگلے لگ گئے ، راستے میں جگہ جگہ مورچوں کی شکل کی چوکیاں بنا دی گئیں اور 250 مسلح کمانڈو رہائش گاہ کے اردگرد متعین ہو گئے۔ اقتدار سے اترنے کے بعد کمانڈوز تو واپس چلے گئے، گزشتہ روز ساری حفاظتی چوکیاں بھی مسمار کر دی گئیں!
٭رانا ثناء اللہ، جیل میں بڑا کمرہ، چھ چٹائیاں، دو پنکھے، چھ چادریں، ایک ایگزاسٹ فین، ایک بلب۔
٭دہلی، ٹیکس نہ دینے والوں کے گھروں کے باہر ڈھول بجانے کا فیصلہ! لاہور میں بھی ایک بار ٹیکس نہ دینے والوں کے گھروں کے باہر خواجہ سرائوںکو بھیجنے کا فیصلہ ہوا تھا، خواجہ سرا بہت  خوش ہوئے مگر بات رک گئی۔کیا منظر بنتا جب خواجہ سرا کسی ’بڑے‘ کے گھر کے باہر رقص کر کے تالیاں بجا کر گاتے کہ میاں جی ٹیکس دیں، چودھری صاحب ٹیکس دیں!

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں