07:48 am
لاہور سے بیجنگ تک

لاہور سے بیجنگ تک

07:48 am

ابن انشاء نے ’’چلتے ہوتو چین کو چلئے‘‘ تصنیف کی تو ان کےوہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ایک روز چین ساری دنیا کی توجہ کا مرکز اور چین جانا ہر ایک کی خواہش ہو گی۔چین صرف سیاحتی مرکز ہی نہیں ہوگا بلکہ تاجروں،صنعتکاروں،درآمد برآمد کنندگان کی تان بھی چین پر ہی آکر ٹوٹے گی۔ابن انشاء مزاجاْ شاعر تھے سیاسی تجزیہ نگار نہ تھے،چین کی سیاحت کے بعد وہ اس کےسحر میں ایسے گرفتار ہوئے کہ اپنے مداحوں کو بھی چین کی سیر کی پیشکش کر ڈالی۔بیدار مغز شاعر، صحافی ،ادیب،کالم نگارہونے کے باوجود ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا جو ملک دیکھنے کی دعوت وہ دنیا والوں کو دے رہے ہیں وہ ایک دن دنیا کی مجبوری بن جائیگا۔
 
 چینی قونصل خانہ لاہور کی دعوت پر جب میں چین جانے کےلئے بڑے بھائی اور انتہائی سینئر صحافی میاں سیف الرحمان کے ہمراہ لاہور ائیر پورٹ پہنچا تو وہاں کومل سلیم، لاجواب کر دینے والے کالم نگار آصف عفان، ملک سلمان،سجاد جہانیہ،یاسر حبیب،معروف فوٹوگرافر محمدعامر،مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے کالم نگار محمد مہدی اور اس ٹور کے روح رواں ڈاکٹر ظفر محمود پہلے سےموجود تھے۔ تھوڑی دیر میں پلاک کی ڈی جی صغریٰ صدف بھی آ گئیں،انکی سرکاری چھٹی کا اجازت نامہ انکی آمد میں باعث تاخیر بنا۔اسلام آباد پہنچے تو یار مہربان مظہر برلاس بھی ہمارے وفد میں شامل ہو گئے۔پی آئی اے کی لاجواب سروس کے ذریعے بیجنگ پہنچے تو صبح کی سفیدی نمودار ہو چکی تھی۔ 
 پی آئی اے کی لاجواب سروس کیساتھ چین کی سرزمین پر پائوں رکھا تو اجنبیت نام کا کوئی تاثر ذہن میں نہ ابھرا،ایسے ہی محسوس ہواء جیسے اپنے ہی وطن کے کسی شہر کی سیر و سیاحت پر ہیں،ذہن کے پردہء سیمیں پر سمندر سے گہری،پہاڑوں سےبلند،آفاق سی وسیع پاک چین دوستی کی فلم چلنے لگی،دوستی کی چاشنی سے زبان و دہن مٹھاس سےبھر گئے۔ہوٹل جانے کےلئے بس میں سوار ہوئے تو سفر کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،فاصلہ زیادہ نہیں تھا مگر دفاتر اور کام کاج کےآغاز کا وقت تھا ۔ ہم سب اس دوران سڑک کے دونوں اطراف موجود ہریالی میں کھوئےرہے۔ جدید دنیا میں چین کی ترقی اور پاک چین دوستی ایک ضرب المثل بن چکی ہے،چین نے پاکستان سے ایک سال بعد آزادی کی کروٹ لی،پاکستان کا وجود تو انگریز کی غلامی سے نجات اور جنونی ھندو کی برتری اور بالادستی اور انتہا پسندی کے خوف سے وجود میں آیا،مگر چین نےبادشاہت سے نجات حاصل کر کے شہری اور شخصی آزادیاں حاصل کیں،انسانی آبادی کا یہ ہجوم ناتواں زندگی کے مقصد سے عاری بادشاہت کی غلامی اور افیون کی لت میں مبتلاء حال و مستقبل سے عاری دن رات جئے جا رہا تھا،20صدی کے آغاز میں اس قوم کو مائو زے تنگ جیسی قیادت ملی جس نے پر تشدد سیاست کے بجائے پر امن طریقے سے امن بغاوت بلند کیا،خواب غفلت میں ڈوبی چینی قوم کو ان کے حقوق بارے آگہی دی اور یہ حق حاصل کرنے کیلئے دنیا کی طویل ترین انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ثابت کیا کہ ہوشمند قیادت پر امن جدوجہد سےبھی مقصد حاصل کرسکتی ہے ،جدو جہد کے اس سفر میں مائو کو بہت سےمخلص ساتھی میسر آئے مگر جدید،مستحکم،خوشحال،مضبوط، چین کے بانی چوائین لائی اس سفر میں ان کااثاثہ تھے،دونوں نے آزادی کی اس جدوجہد کےذریعے چینی قوم کی تربیت بھی کی،قوم کو بتایا کہ پرامن اور خاموش رہ کر رد عمل دئیے بغیر کیسے اپنا مقصد حاصل کیا جاتا ہے،اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ چین آج دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور دوسری بڑی عسکری قوت ہے۔
آج پاکستان میں بھی عمران خان کی شکل میں ایک نجات دہندہ برسر اقتدار ہے اور اس سے پوری قوم کو امیدیں لگی ہیں،میں نے مظہر برلاس سے سرگوشی کی عمران خان کب تک قوم کو مشکلات سے نکال لے گا ، گورایہ صاحب دو تین سال میں حالات بہتر ہو جائیں گےمظہر نے بڑے تیقن کے ساتھ میرا ہاتھ دبایا۔میں نے مظہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اللہ کرے ، قوم پر امید ہے مگرعمران کے پاس ٹیم اچھی نہیں ہے۔
 نئے مگرجدید چین کاجنم پاکستان سے ایک سال بعد 1948 ء میں وجود میں آیا،مائواور چوائین لائی نے سب سے پہلا قدم اپنی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا اٹھایا،تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ مگر اجنبی زبان میں نہ تھا،بلکہ دنیا بھر سے جدید ترین علوم کی کتب کو چین منتقل کر کے ان کو چینی زبان میں ڈھال کر نئی نسل کو علم و ہنر سے آراستہ کیاجس کے نتیجے میں چینی نوجوانوں کو مادری زبان میں جدید علوم سیکھنے کا موقع ملا،اور بجائے یہ کہ چینی نوجوان نسل علم کی تاریخ پڑھتی اس سے آگے نکل کر جدید علوم کے نئے پہلو تلاش کئے اور تحقیقات کی دنیا میں قدم رکھاجس کے نتیجہ میں چین آج ایک ناقابل تسخیر قوت بن چکا ہے،ہماری یہ بد قسمتی کہ ہمارے ارباب حل وعقد نے شعبہ تعلیم کو ہر دور میں نظر انداز کیا،انگلش میں تعلیم کا حصول فخر و غرور کی علامت بن گیا،ستم یہ کہ ہوش سنبھالتے ہی جن کے کانوں میں مادری زبان کےالفاظ پڑے، مسجد کے مدرسے میں عربی،ہوش سنبھال کر باہر نکلے تو اردو میں بات کرناپڑی اور جب سکول میں داخلہ لیا تو ایک اجنبی زبان انگریزی زبان سےواسطہ پڑ گیا،اس صورحال میں ہماری نئی نسل مختلف زبانوں میں مہارت حاصل کرنے میں مگن رہی یا امریکہ و یورپ میں کی گئی علمی تحقیق کی تاریخ پڑھتی رہی،علمی تحقیق یا کسی علم کےنئے پہلو تلاش کرنے کا ان کو موقع ہی نہیں ملا۔چین میں ہم نے جس بریفنگ میں بھی شرکت کی وہ چینی زبان میں تھی جبکہ ہمارے لئے انگریزی مترجم موجود ہوتا ۔
 

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں