07:49 am
 مسلمانو ں کا زوال اور اہل ایمان کا کردار

مسلمانو ں کا زوال اور اہل ایمان کا کردار

07:49 am

سورئہ مؤمنون کے چوتھے رکوع میں ہمارے  لیے اس اعتبار سے راہنمائی ہے کہ رسولوں کے بعد جب کچھ عرصہ گزر جاتا تو لوگ بگاڑ کا شکار ہو جاتے تھے۔ وہ اصل دین پر قائم نہیں رہتے تھے بلکہ اس کے حصے بخرے کر لیتے۔  ان حالات میں اہل حق کو دیکھنا چاہیے کہ اصل دین کا تقاضا کیا ہے۔ ہمارے دین میں حقوق اللہ ہیں، نماز، روزہ اور بندگی کے مختلف انداز ہیں۔اس کے ساتھ حقوق العبادہیں، معاملات، اخلاق، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک ،کسی کی حق تلفی نہ کرنا، کسی کا مال غصب نہ کرنا، کسی کا دل نہ دکھانا، یہ ایک پورا پیکج ہے۔ لیکن جب حصے بخرے ہوتے ہیں تو کوئی ایک حصے کو سنبھالے بیٹھا ہے، کوئی دوسرے کو سنبھالے بیٹھا ہے ،کوئی کہتا ہے کہ بس اخلاقی تعلیمات اہم ہیں نماز روزے کی کوئی اہمیت نہیں، کوئی کہے گا نماز، روزہ اصل ہے اس کے ساتھ جو بقیہ چیزیں ہیں وہ بالکل ہی نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک بندئہ مومن کا کردار کیسا ہونا چاہیے، اس کی سیرت کے بنیادی خدوخال کیا ہونے چاہیئیں یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے۔ سورئہ مومنون کے پہلے رکوع کا یہی موضوع ہے:
 
 ’’بیشک ایمان والے کامیاب ہو گئے جو نماز میں عجزونیاز کرتے ہیں اور جو بے ہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا(کنیزوں سے) جوان کے مِلک ہوتی ہیں کہ(ان سے مباشرت کرنے سے) انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقررکی ہوئی) حد سے نکل جانے والے ہیں۔ اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔‘‘(آیات ۱۔۸)یہاں بات شروع ہوئی ہے نماز میں خشوع، زکوٰۃ کی ادائیگی اور لغوباتوں کے بچنے سے۔ بندئہ مومن لغوسے اعراض کرتا ہے۔ یہاں ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔بندۂ مومن وقت کا ضیاع برداشت کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ آخرت میں ہر ہر لمحے کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ اسی رکوع میںآگے جنسی نظم و ضبط ،عہد کی پاسداری اور امانت داری کا ذکر ہے کہ یہ ایک بندۂ مومن کے کردار کا لازمی جزو ہے۔  چوتھے رکوع میں ایک اور انداز سے اس کے خدوخال بیان ہوئے۔ اس رکوع کی زیر مطالعہ آیات میں رسولوں کے جانے کے بعد اُمتوں میں جو زوال آتا ہے، اس وقت سچے اہل ایمان کا کردار کیاہونا چاہیے وہ یہاں زیر بحث آیا ہے۔ فرمایا: ’’جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ (آیت ۵۷)
کہنے کو تو ہر شخص یہ کہتا ہے کہ میں اصل دین پر قائم ہوںلیکن سچے اہل ایمان جنہیںاللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید حاصل ہے وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی خشیت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ رب کے رحمان اور رحیم ہونے کا بھی پختہ یقین رکھتے ہیں لیکن اس کا بھی اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں میرے کسی غلط طرز عمل سے رب ناراض نہ ہو جائے، یہی خوف، تقویٰ کی بنیاد ہے ۔ بندہ ٔ مومن ہر وقت اللہ کا خوف، اللہ کا ڈر، اس چیز کا احساس کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسی کوتاہی نہ ہو جائے کہ رب ناراض ہو جائے  اور جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ میں اپنی بساط کے مطابق کر رہاہوں اور مجھ سے کوئی کمی رہ سکتی ہے، بس میرا رب قبول کر لے، یہ مومن ہر وقت اس بات سے ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں شیطان بہکا نہ دے، کہیں ایمان پر نفاق کاڈاکہ نہ پڑ جائے۔ جیسے حدیث میں الفاظ آئے ہیں کہ نفاق سے اپنے آپ کو بے خوف اور امن میں صرف وہی شخص سمجھتا ہے جو خود منافق ہو اور جو ہر وقت ڈرتا اور کانپتا رہتا ہے کہ کہیں میرے ایمان پر نفاق کا ڈاکہ نہ پڑ جائے، وہ سچا مومن ہے۔اس بارے میں کوئی شخص کسی دوسرے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتا بلکہ خود اپنے اندر جھانک کر دیکھے اگر یہ کیفیت ہے تو ٹھیک ورنہ فکر ہونی چاہیے۔ اصل میں یہ سوچ ایک خالص بندئہ مومن کی ایک بڑی نشانی ہے جو وہ اپنے اندر محسوس کر سکتا ہے۔ آگے فرمایا:’’اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘(آیت ۵۸)
 مومنین وحی آسمانی پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ یہ واقعی اللہ کا کلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اسی طرح محفوظ ہے  اصل شکل میں نہ تورات موجود ہے اورنہ انجیل ۔ایک تو یہ ترجمہ ہے۔ لیکن قرآن مجید کو آپ پڑھیں تو دل گواہی دے گا کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے۔ یہی اسلام کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  اس مقام پر بین السطور  یہ بات موجود ہے کہ رب کی آیات پر قلبی یقین حاصل تب ہی ہو گا جب آپ قرآن پڑھیں گے۔ یعنی وہ لوگ قرآن کی تلاوت کرنے والے اور قرآن کو مسلسل پڑھنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے اتنی عربی سیکھنا ضروری ہے کہ پڑھتے ہوئے مفہوم سمجھ میں آ رہا ہو ۔  اگر عربی نہ سیکھ سکیں تو کوئی مستند ترجمہ، کوئی مستند تشریح ہی ساتھ ساتھ پڑھیں تو یقینی طور پر دل اس کے کلام اللہ ہونے کی گواہی دے گااور ایمان میں اضافہ ہو گا۔ گویا کہ ان کا یہ وصف ہے کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ان کا مضبوط تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے ایک دوسرے مقام پر فرمایا:’اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں۔‘‘ (الاعرافْ۱۷۰)
 کہیں فرمایا: ’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔‘‘(البقرہ)
(جاری ہے)

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں