07:57 am
ذخیرہ اندوز معاشرے کے قارون

ذخیرہ اندوز معاشرے کے قارون

07:57 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو اشیاء منڈی وبازار میں عام دستیاب ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کی قلت نہیں ہوتی تو تھوک فروش ان کا یکبارگی سٹاک یا بڑی لاٹ خرید لیتے ہیں پھر وہ آہستہ آہستہ تھوک وپرچون بکتی اور نکلتی رہتی ہیں یہ بلاشک وشبہ جائز ہے اور تجارت وکاروبار میں ایک لازمی عنصر ہے یہ ناجائز ذخیرہ اندوزی میں نہیں آتا کیونکہ اس کے بغیر تو عام طور پر تجارت وکاروبار چل ہی نہیں سکتا کہ مال یکبارگی خریدلیا جائے اور پھر بتدریج وہ فروخت ہوتا رہے، گاہک وخریدار کی حسب ضرورت جتنی ڈیمانڈ وطلب ہو اس کو بیچا جاتا رہے جبکہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور باوجود ڈیمانڈ اور طلب کے اور لوگوں کی ضرورت میں تنگی پیش آنے کے پھر بھی مال چھپائے رکھتا ہے اور لوگ جب زیادہ قیمت دے کر خریدنے پر مجبور ہوجائیں تب بیچتا ہے۔ دونوں میں فرق واضح ہے۔ 
حضور ﷺ نے فرمایا کہ (اشیائے صرف) پھیلانے اور بکھیرنے والے (دکاندار وتاجر) کو رزق دیا جاتا ہے( اس کی کمائی وتجارت میں برکت وترقی ہوتی ہے) اور ذخیرہ کرکے روک رکھنے والے پر اللہ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے۔ (دارمی)
فائدہ: اس لعنت کا دنیوی زندگی میں پھر عملی مظاہرہ یوں سامنے آتا ہے کہ کمائی، تجارت میں بلیک میلنگ اور ناجائز منافع خوری کی وجہ سے مال کی ظاہری فراوانی کے باوجود بے برکتی ونحوست ہوتی ہے، طرح طرح کے آفات وحوادث میں وہ شخص مبتلا رہتا ہے اور ان قدرتی ومصنوعی آزمائشوں سے نکلنے کے لئے (لوگوں کو ترسا ترسا کر ان کے خون پسینے  کی گاڑھی کمائی ہتھیانے والے کو )پھر یہ مال پانی کی طرح بہانا پڑتا ہے اور آخرت کی بربادی اور زندگی بھرکی بے سکونی سوالگ۔
جبکہ حلال کا اہتمام کرنے والے تاجر کو جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو اس کو قناعت، صبروشکر، دل کا سکون اور عافیت وسلامتی والی زندگی عطا ہوتی ہے۔
مسائل ومصائب کے ان بکھیڑوں سے اللہ تعالیٰ بالعموم اس کو محفوظ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے حرام خور، بلیک میلر تاجروں کی زندگی عذاب بنی ہوتی ہے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ : ’’میں نے اللہ کے رسولﷺ سے احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس طرح ہوتی ہے؟ (سوال کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ صورۃُ تو جائز ذخیرہ اندوزی اور ناجائز ذخیرہ اندوزی ایک ہی طرح نظر آتی ہیں کہ دونوں میں اشیاء صرف ،قابل فروخت اشیاء سٹاک اور ذخیرہ کی جاتی ہیں جیسے کہ ابھی پیچھے تفصیل گزری تو دونوں میں ہم امتیاز کیسے کریں گے؟)
آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ (بیوپاری، آڑھتی، کمیشن ایجنٹ، تاجر ودکاندار) جب (اجناس واشیاء کی )ارزانی وفراوانی کا سنے تو اداس وغمگین ہو جائے (برا سا منہ بنائے، ماتھے پہ بل پڑ جائیں) اور جب گرانی (وقلت) کا سنے تو خوشی سے کھل اُٹھے۔ فرمایا کیسا برا شخص ہے ذخیرہ اندوز کہ اللہ تعالیٰ اگر نرخ ارزاں فرمادیں (مثلاً اللہ تعالیٰ ان اشیاء کی پیداوار میں اتنی کثرت وفراوانی فرمادیں کہ اس کے مقابلے میں طلب اور مانگ کم پڑ جائے، جس سے عام طورپر چیزوں کے نرخ گر جاتے ہیں) تو یہ غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ قیمت اور مول بڑھا دیں، مہنگی فرما دیں (قحط سالی، پیداوار کی کمی اور طلب میں اضافہ، بدامنی وجنگ وغیرہ حالات میں عام طور پر منڈی وبازار کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں) تو یہ خوش ہوتا ہے (گویا اللہ کی مخلوق پراللہ کا فضل ہونے پر اس کو گرانی ہوتی ہے اوراللہ کی مخلوق کو تکلیف پہنچے، اشیاء کی کمیابی اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی زندگی تلخ ہوجائے تو ان صاحب کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں)
 اس حدیث سے جائز وناجائزمنافع خوری وذخیرہ اندوزی کے دو بنیادی فرق معلوم ہوتے ہیں ایک فرق خارجی حالات کے اعتبار سے ہے کہ جائز منافع خوری وذخیرہ اندوزی وہ ہے جب اشیاء صرف کی فراوانی ہو اور لوگوں کو ان کے حصول میں کوئی تنگی ودشواری نہ ہو اور مناسب و معقول نرخوں پر اشیاء ضرورت میسر آجاتی ہوں، ایسے حالات میں مال سٹاک کرنا اور صارفین کی طلب پر بازاری نرخ پر بیچنا جبکہ اس کے مقابلے میں اشیاء صرف یا ان میں سے کسی چیز کی قلت ہوجائے( خواہ مصنوعی قلت ہو یا حقیقی) اور لوگوں کو اس کی عام ضرورت ہو پھر کوئی اس چیز کو چھپائے، ذخیرہ کرے اس طرح جب مصنوعی قلت انتہا کو پہنچ جائے اور لوگ اس کے حصول کیلئے خوب ترس جائیں تب یہ تھوڑا تھوڑا کرکے نکالے اور من مانے ریٹ پر بیچے تو یہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ہے۔
(جاری ہے)

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں