07:58 am
رانا ثناء اللہ کیس، فوجی کمانڈر کا بیان! 

رانا ثناء اللہ کیس، فوجی کمانڈر کا بیان! 

07:58 am

٭وزیراعظم کا دورہ امریکہ، دورے کی تفصیل متنازعO رانا ثناء اللہ گرفتاری: کسی تفتیش کی ضرورت نہیں، ثبوت موجود ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اے این ایفOنوازشریف، شاہد خاقان عباسی سے سرکاری گاڑیاں واپس O 40 سال سے حکمرانوں کا احتساب ہو گا، چیئرمین نیبOسکیورٹی ایکس چینج کمیشن کو دروازے، دیواریں، کھڑکیاں، گاڑیاں توڑنے کے اختیاراتO بچوں کی دو لاکھ سالانہ فیس والے 16 ہزار والدین کو نوٹس Oپاکستانی فضائی بندش سے بھارت کو 5 ارب روپے (پاکستانی 10 ارب) کا نقصان Oامریکہ سے90 فیصد معاملات طے ہو گئے، طالبان۔
 
٭افغان طالبان کے مطابق دوہا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اب تک 90 فیصد معاملات طے ہو چکے ہیں، ان میں افغانستان سے امریکی فوج کی مکمل واپسی اور افغانستان کے اندرونی نظام میں امریکہ کی عدم مداخلت وغیرہ شامل ہیں۔ کابل کے ذرائع کے مطابق صدر اشرف غنی کی حکومت کے علاوہ ملک میں بڑے سرکاری عہدوں پر کام کرنے والے ہزاروں حکام اور افسروں میں سخت بے چینی پھیل گئی ہے۔ اشرف غنی کی حکومت کو امریکہ اور طالبان کے مذاکرات میں شریک نہیں کیا جا رہا۔ اس پر اشرف غنی کی سخت تنقید آ چکی ہے جس کے آئندہ صدر بننے کا کوئی امکان نہیں۔ اس سے زیادہ پریشان وہ ہزاروں نوجوان بڑے افسر دکھائی دے رہے ہیں، جنہیں امریکی حکومت نے افغانستان پر قبضے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا اور وہ واپس آ کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے۔ انہیں جلد جلد ترقیاں ملتی گئیں، بڑی بڑی تنخواہیں، گاڑیاں اور سرکاری رہائش گاہیں، بہت آسودہ زندگی گزر رہی ہے مگر طالبان آ گئے تو یہ سارے ٹھاٹ ختم ہو جائیں گے۔ کافی عرصہ پہلے جب طالبان افغانستان پر حکمران تھے، مجھے امریکی ریاست ورجینیا میں ایک ہلٹن ہوٹل کی کانفرنس میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ دو بزرگ افغان باشندے دکھائی دیئے۔ ایک بزرگ ایک کونے میں ایک میز پر سیاحتی کارڈ اور ڈاک کی ٹکٹیں فروخت کر رہا تھا۔ دوسرا ہوٹل میں آنے والے مہمانوں کی تواضع کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں کابل یونیورسٹی میں اہم شعبوں کے چیئرمین تھے۔ طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو کابل یونیورسٹی سے خواتین کو خارج کر دیا اور بہت سے شعبے ختم کر دیئے۔ طالبان کے رویے اتنے سخت تھے کہ انہیں ملک سے بھاگنا پڑا! یہی امکانات اس وقت موجود افغان انتظامیہ کو پریشان کر رہے ہیں۔
٭ سیاست دان جیل میں جاتے ہی سخت بیمار ہو جاتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ موصوف کی اہلیہ نبیلہ نے ان سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ وہ سخت بیمار تھے، دو افراد انہیں سہارا دے کر لائے، ان سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔ اہلیہ نبیلہ نے وہی دھمکی دی ہے جو دوسرے قیدیوں کے لواحقین دیتے ہیں کہ رانا ثناء اللہ کو کچھ ہوا تو عمران کے خلاف مقدمہ درج کرائوں گی! یہ ایک بیوی کا غصے کی حالت میں بیان ہے، ورنہ معاملہ یہ ہے کہ دراصل رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ فوج کے زیر نگران انسداد منشیات فورس نے درج کرایا ہے۔ اس فورس کے ڈائریکٹر جنرل فوج کے ایک دو ستاروں والے میجر جنرل ہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ کارروائی اتنے واضح اور ٹھوس شواہد کی بنا پر کی گئی ہے کہ ان ثبوتوں کے ہوتے ہوئے کسی تفتیش کے لئے عدالت سے ریمانڈ مانگنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ویسے بھی عمران خاں کے خلاف مقدمہ کیسے درج ہو سکتا ہے جب کہ آئین کی دفعہ 248 کے تحت ملک کے وزیراعظم کی کسی سرکاری کارروائی کے بارے میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکتا! ویسے بھی کارروائی فوج نے کی ہے اس پر وزیراعظم کے خلاف کارروائی نہیں بنتی۔
٭ملک کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ایسا حکم جاری ہوا ہے جس کی کسی مارشل لا میں بھی مثال نہیں ملتی۔ یہ کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک میں کاروباری و تجارتی کمپنیو ںکے نگران ادارہ سکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ اس کا عملہ کسی بھی عمارت یا گھر میں گھس سکتا ہے، کسی عمارت (گھر، دفتر کی دیواریں، دروازے اور کھڑکیوں اور گاڑیوں کے دروازے اور شیشے توڑ سکتا ہے اور ہر قسم کا ریکارڈ قبضے میں لے سکتا ہے۔ مجھے ایسے فیصلے کا یقین نہیں آ رہا مگر اس کا باقاعدہ سرکاری اعلان جاری ہوا ہے! ملک میں پولیس اور بعض دوسرے محکمے پہلے ہی ’رضا کارانہ‘ طور پر ایسے ’مشغلوں‘ میں مصروف ہیں مگر اس مار دھاڑ، تشدد اور جابرانہ توڑ پھوڑ کے بارے میں باقاعدہ سرکاری اجازت نامہ!؟ اس ملک کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ ویسے اقتدار کا نشہ بھی کیا چیز ہے۔ 1990ء کے عشرہ میں نوازشریف وزیراعظم تھے، پنجاب میں ان کے مخالف میاں منظور وٹو وزیراعلیٰ تھے۔ دونوں میں مسلسل چپقلش چل رہی تھی۔ ایک روز نوازشریف نے اچانک منظور وٹو کی حکومت معطل کر کے سابق گورنر میاں اظہر کو پنجاب کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا اور رینجرز کو حکم دیا کہ فوری طور پر لاہور پر قبضہ کر کے منظور وٹو کو وہاں سے نکال دیا جائے۔ منظور وٹو نے پنجاب پولیس کو رینجرز کے مقابلے کے لئے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔ رینجرز فوج کا ایک ذیلی حصہ ہی ہوتی ہے۔ اس دوران میاں اظہر نے اپنے گھر میں ہی چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو طلب کر لیا۔ عجیب صورت حال اور شدید ہیجان پیدا ہو گیا۔ اخبارات پریس میں جانے والے تھے، انہیں روک لیا تھا۔ تاہم رینجرز کے فوجی کمانڈر نے وزیراعظم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور میاں اظہر کے احکام دھرے رہ گئے! میں نے خود یہ سارا واقعہ اخبار میں رپورٹ کیا! اس واقعہ کو تقریباً 24 گزر چکے ہیں اور اب وفاقی کابینہ کا فیصلہ!
٭ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ سی بی آر نے ملک بھر میں 16 ہزار ایسے والدین کووضاحت کے نوٹس جاری کئے ہیں جن کے بچے سالانہ دو دو لاکھ روپے (فی بچہ) تعلیمی فیس ادا کر رہے ہیں! اس طرح16 ہزار بچوں کی مجموعی سالانہ فیس تین ارب 20 کروڑ روپے بنتی ہے۔ زیادہ بچے ہوں تو اس میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا! سی بی آر نے دریافت کیا ہے کہ اتنی بھاری فیس کی رقم کہاں سے آئی، کیسے آئی؟ دو لاکھ کی رقم بہت بڑی سہی مگر تقریباً 25 سال پہلے لاہور میں ایک امریکن سکول کی فیس تقریباً چھ لاکھ روپے (وہ بھی ڈالروں میں) لی جاتی تھی۔ اس کی داخلہ فیس ہی لاکھوں میں تھی۔ مجھے ایک بار اس سکول میں جانے کا اتفاق ہوا، سارا سکول پاکستانی بچوں سے بھرا ہوا تھا!

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں