12:26 pm
             انتقام نہیں احتساب،احتساب!

             انتقام نہیں احتساب،احتساب!

12:26 pm

عمر وہ ہے کہ درد لکھنا چاہیں تو قلم درود لکھ دیتا ہے مگر پھر غالب و مغلوب کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔پی ٹی آئی کے طرزِ حکمرانی کا حال لکھنے بیٹھا تھا کہ مولانا وحیدالدین کی’’ تذکیرالقران‘‘ کا حوالہ حرزِجاں ہوگیا کہ ’’ بعض گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا ہی میں شروع ہو جاتی ہے ،حدیث میں ہے کہ زیادتی اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ ان کی سزا اسی موجودہ دنیا میں شروع ہو جاتی ہے ، قابیل نے اپنے بھائی کے ساتھ نا حق ظلم کیا تھا اس کی سزا اس کو نہ صرف آخرت میں ملے گی بلکہ اسی دنیا سے اس کا انجام شروع ہو گیا،مجاہد اور جبیرؒ تابعی سے منقول ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا یہ حال ہوا کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے چپک گئی ،وہ بے یارو مددگار زمین پر پڑا رہتا ،یہاں تک کہ اسی حال میں ذلت اور تکلیف کے ساتھ مرگیا۔(ابنِ کثیر)
 آدمی جرم کے ارادے کو اپنے سینے میں دفن کر دے تو ایک لاش کو دفن کرنے کا مسئلہ پیدا نہ ہو،’’اس نے کہا افسوس میری حالت  پرکہ میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔۔(المائدہ)
قابیل کو کوّے کے ذریعے تعلیم دی گئی کہ وہ لاش کو زمین کے نیچے دفن کردے،یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسان فطرت کے راستے کو جاننے کے معاملہ میں جانور سے بھی زیادہ کم عقل ہے ،اس کے باوجود اگر وہ اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ،نیز اس میں اس بات کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے کہ انسان کچھ بھی کرنے سے پہلے اگر برے ارادے کو اپنے سینے میں دفن کردے تو اس کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے،آدمی کو چاہیئے کہ وہ دل کے احساس کو دل کے اندر دبائے،اس کو دل سے باہر آکر واقعہ نہ بننے دے،برے احساس کو دل سے باہر نکالنے سے پہلے تو صرف احساس کو دفن کرنا پڑتا ہے ،لیکن اگر اس نے اس کو باہر نہ نکالا تو پھر ایک زندہ انسان کی’’ لاش ــ‘‘کو دفن کرنے کا مسئلہ اس کے لئے پیدا ہو جائے گا،جو دفن ہوکر بھی خداکے یہاں دفن نہیں ہوتا۔
پی ٹی آئی سرکار احتساب کے نام پر’’ انتقام‘‘ کی جو آگ جلا رہی ہے اس کے شعلے نہ جانے کیا کیاکچھ اپنی لپیٹ میں لینے کے در پے ہیں ،بدی کی لاش کو دفن کرنے کے لئے جو اقدام کئے جارہے ہیں وہ تہہ بہ تہہ حکومتی مزاج ،اس کے غصے اوربرہمی کے پردے چاک کرتے جا رہے ہیں ۔،وہ گناہ جن کی پاداش میں گزشتہ ادوار کے حکمران مکافات عمل کی سان پر چڑھے ہیں ۔ وہی سب اس حکومت کے نامہء اعمال کا حصہ بھی تو بنتے جارہے ہیں۔حاصل حصول کے بغیر ،ناروا ارادوں کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔یہ سب وہ ہے جو ماضی کی کتاب میںدرج ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے اسی کتاب کی ورق گردانی کی جا رہی ہے‘ جورہا ہے اس کا کوئی فائدہ بھی تو کسی علامت ،کسی استعارے کی صورت دکھائی دے ۔
اس میں شک نہیں سیاسی ماحول میں آلودگی بہت تھی ،مگر آلودگی کو آلودگی میں دفن کرکے تعفن اور بڑھایا جا رہا ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کی آڑ میں ایک نیا کوفہ بناکر کربلا کی تیاریاں سی محسوس ہوتی ہیں ،لہو بدی پھیلانے کے خراج کی مد میں نہیں تسکین ذات کی مد میں بہائے جانے کے خوف نے ہمیں آلیا ہے،یوں لگتا ہے جیسے قابیل کی کہانی دہرائی جانے والی ہو اور قاتل آج بھی آگاہ نہ ہوں کہ لاشوں کو دفنانا کیسے اور کہاں ہے؟
احتساب کریں چالیس برس کا نہیں ستر برس کا کریں ،ثبوت تو مل نہیں پارہے ،جنہوں نے پہلے قدم پر گھیرا ڈالا،لکیر کھینچی، وہ پسپا ہوگئے ،ان کے ثبوتوں کا کیا ان کا اپنا کہیں نام و نشان نہیں ۔کروڑوں ،اربوں روپے مقدّمات پر اٹھ گئے۔جے، آئی ،ٹی نے کتنے وکلا اور ججز کی جیبیں بھریں ۔حق سچ کا چہرہ کوئی بھی دکھا نہ سکا۔سب نے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ماریں۔ کوئی روشنی کا سراغ نہ لگا سکا ۔ان کا حساب کون کرے گا ۔کون ان کی تجوریوں سے فیسوں کے نام پر لئے گئے اربوں روپے وگزار کرائے گا ؟غیر ملکی دوروں پر اڑائے گئے ڈالرز اور پائونڈزان سے وصول کردکھائے گا۔یقینا کوئی نہیں ۔ احتساب ڈراموں کے سب کردار ہمارامنہ چڑاتے رہیں گے۔
پی ٹی آئی سرکاربس ان کا ہی احتساب کرکے دکھادے۔ایسے ارادوں کا تو دور دور تک کوئی گمان ہی نہیں اور جنہوں نے  اپنے جرائم کے نشان ہی نہیں چھوڑے ان کا کون احتساب کر پائے گا۔ویسے بھی انتقام کی آگ احتساب کے چہرے کو جھلسا رہی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کے چہرے کا جلال حسنِ نیت کے جمال کو کھا گیا ہے۔انتقام کی آگ میں گھرا ہوا آدمی احتساب کیسے کر سکتا ہے ۔یہاں تو اعتدال کا بھی فقدان لگتا ہے۔ رواداری اور حوصلہ مندی تو دور کی بات ہے،کبھی، کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے اپنی ہی منزل کھوٹی کر رہے ہوں۔خود اپنے ہی راستے کے پتھر جمع کر رہے ہوں۔ اخلاص کی کمی کا احساس فروتر ہے۔اس میں میڈیا کی کرشمہ سازی اور کار سرکار کے کارندوں کی سحر انگیزی کا ہاتھ بھی بہت ہے۔ کہا ناں،عمر وہ ہے کہ درد لکھناہو تو قلم درود لکھ دیتا ہے،پھر غالب و مغلوب کی جنگ چھڑجاتی ہے اور سچ لکھنے والے سارے حالتِ جنگ میں ہیں۔۔۔۔واللہ اعلم

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں