12:27 pm
 مسلمانو ں کا زوال اور اہل ایمان کا کردار

 مسلمانو ں کا زوال اور اہل ایمان کا کردار

12:27 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیاداری اور کاروباری جھمیلوں میں پڑ کر بعض اوقات اللہ کی یاد کی کیفیت نیچے آ جاتی ہے۔ دوبارہ کہاں سے لیں گے، وہ قرآن سے ملے گی، اسی لیے قرآن بار بار پڑھنے کی شے ہے۔ آگے فرمایا:’’اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔‘‘(آیت۔۵۹)
 
 ایمان حاصل ہونے کے بعد وہ اس کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ یہ نہیں ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اب کائنات کی کسی اور قوت کو سمجھ لیا جائے کہ وہ  با اختیار ہے۔ ہرگز نہیں! بااختیار ہستی ایک ہی ہے۔ ’’اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔‘‘(الکہف۔۲۶)
 اس نے اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ وہ اس کے سوا کسی کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ سب سے بڑی قوت اللہ ہے اور وہ اس کے وفادار ہیں۔ چنانچہ ان کا توکل اور بھروسہ اللہ کی ذات پر ہے، مادی اسباب و وسائل پر نہیں۔اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت شرک ہے۔ اگر والدین بھی اللہ کے حکم کے خلاف حکم دے رہے ہیں تو والدین کا ادب و احترام اپنی جگہ لیکن اطاعت اللہ کی ہو گی۔ ایک حکم اللہ کا ہے اور ایک حاکم ِ وقت کا ہے۔اگر حاکمِ وقت اللہ کے احکامات کے خلاف آپ کو حکم دے رہا ہے تو یہی امتحان ہے کہ اطاعت صرف ایک اللہ کی ہو۔ جب اللہ کو مان لیا کہ وہ پوری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ جوالحئی اور القیوم ہے۔ باقی سب اس کی مخلوقات ہیں۔ ان کے پاس جو قوت و صلاحیت ہے وہ اللہ کی عطا کردہ ہے ان کی ذاتی نہیں ہے، لہٰذا توکل اللہ پر کرنا ہے۔ صرف اسی کاحکم مانیں گے۔ شرک سے بچنے کا اصل مفہوم یہ ہے۔
 آگے فرمایا:’’اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘(آیت۶۰)
 اگلی صفت یہ بیان ہو ئی کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے یہ بھی مراد ہے کہ غریبوں کو دیتے ہیں، یہ بھی اللہ کو پسند ہے کہ آپ اپنے بھائیوں اور غریب رشتہ داروں کی مدد کر رہے ہیں۔ضرورت مند اور حاجت مندوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے بھی انفاق کرتے ہیں۔ اس کام میں مال بھی لگا رہے ہیں اور جسم و جان کی توانائیاں بھی لگا رہے ہیں۔ اور اس سب کے بعد ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں اس خیال سے کہ انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، یہ ایمان کا ایک لازمی اور منطقی نتیجہ ہے کہ آپ کو مستحضر رہنا چاہیے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب ریکارڈ ہو رہا ہے اور ایک دن اللہ کے ہاں جا کر مجھے ایک ایک شے کا حساب دینا ہے۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ یہاں سے جانا ہے، کافر، دہریہ، ملحد سب جانتے ہیں، لیکن اللہ کے ہاں جا کر پیشی ہونی ہے اور جا کر ہر عمل کا حساب دینا ہے یہ تو آج مسلمانوں کو بھی یاد نہیں، الا ما شاء اللہ! جو سچے صاحب ایمان ہیں انہیں ہر وقت آخرت کا خیال دامن گیر رہتا ہے۔ جس رب نے ہمیں پیدا کیا اسی نے بتا دیا کہ یہ دنیا عارضی ہے۔ یہ امتحانی وقفہ ہے اور اصل زندگی وہ ہے۔ یہاں جو کچھ دیا گیا وہ بھی امتحان کے لیے دیا گیا۔ یہ ایمان کی نشانی ہے۔ اگر یہ کیفیت نہیں ہے تو ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانا ہو گا۔ جس کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کا طرز عمل وہی ہو گا جو ایک حدیث میں آیا۔جس کا مفہوم یوں ہے: ’’بندئہ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔جب اسے کوئی خیر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے  اور جب کوئی تکلیف آتی ہے، مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔‘‘ یعنی وہ مصیبت کے وقت واویلا اور فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ جانتا ہے کہ یہ آزمائش ہے اور اس آزمائش میں مجھے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہے اور صبر سے کام لینا ہے۔یہ دونوں صورتیں اس کے لیے خیر ہی خیر ہیں۔ دونوں ہی شکلوں میں اللہ کے ہاں اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو رہا ہے اور اللہ کے ہاں اس کا مقام اونچا ہو رہا ہے، لیکن یہ تب ہو گا جب ہر وقت ذہن میں ہو کہ ایک دن اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ 
اگلی آیت میں ارشاد ربانی ہے:’’یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے اوران میں دوسروں سے  آگے نکل جاتے ہیں۔‘‘(آیت۶۱)
 آج کی مادی سوچ تو یہ ہے کہ مقابلہ کا میدان صرف دنیا ہی ہے۔آج ہمارامعیار تو یہ ہے آپ پہلے کہاں تھے اور اب کہاں کھڑے ہیں، کیا آپ ایلیٹ کلاس کا حصہ بنے۔ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کہاں تک دلوائی، یعنی ساری فکر اور بھاگ دوڑ ہے تو اسی دنیا کے لیے ، مقابلہ ہے تو اسی دنیا کے میدان میں ہے۔ اہل ایمان کا مقابلہ نیکی اور خیر کے کام میں ہوتاہے۔  نیکی اور خیر کے کاموں میں وہ اس لیے سبقت کرتے ہیں تاکہ رب کی رحمت زیادہ سے زیادہ میرے ساتھ ہو، آخرت میں زیادہ سے زیادہ انعامات اور اللہ کا فضل حاصل کر سکوں۔ سچے اہل ایمان کو معلوم ہے کہ ہمارا اصل مستقبل وہ ہے، ہمارا گھر وہ ہے، منزل وہ ہے یہاں ہم عارضی طور پر بھیجے گئے ہیں یہ اصل گھر نہیں ہے۔ لہٰذا جو کرنا ہے وہاں کے لیے کرنا ہے۔ جب حقیقی ایمان ہو گا تو رُخ لازماً بدلے گا۔
’’اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور ان(لوگوں) پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘(آیت ۶۲)
 اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہر شخص کی کتنی وسعت ہے وہ وسعت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتاوہ اسی استطاعت کے مطابق اس سے حساب بھی لے گا اور اس کے ساتھ ہر گز نا انصافی نہ ہو گی ۔
’’مگر ان کے دل ان(باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔‘‘(آیت ۶۳)
 اب جو آگے ذکر ہو رہا ہے وہ غیر مسلموں کا ہے جو حضور ﷺ کو نہیں مان رہے، قرآن کو نہیں مان رہے، یا وہ لوگ مراد ہیں جو مسلمان ہو کر ان حقائق سے دور ہیں، اصل ایمان سے محروم ہیں جو ایمان اور اس کے عملی تقاضوں سے گریز کا معاملہ کرتے ہیں جن کے دل اس حوالے سے شک اور جہالت میں گرفتار ہیں، جو غافل اور مدہوش ہیں انہیں آخرت کی فکر نہیں ہے، آخرت کے سوا انہوں نے دوسرے مشاغل اختیار کر لیے ہیں۔کسی کو مال و دولت چاہیے، کسی کو کوئی اونچا عہدہ چاہیے۔ ایسے بہت سارے ان کے اپنے مشغلے ہیں لیکن اصل مشغلہ کہ آخرت کی فکر کریں جو ایمان کا لازمی نتیجہ ہے اس سے دور ہیں۔ ’’یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت تلملا اٹھیں گے۔‘‘ (آیت ۶۴)    (جاری ہے)


ویسے تو ہر معاشرے میں امیر بھی ہوتے ہیں، غریب بھی ہوتے ہیں، سرمایہ دار طبقہ بھی ہوتا ہے، مزدور طبقہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں اس خوشحال طبقے کا ذکر ہے جس نے دنیا کی زندگی ہی کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے،جب انہیں ہم پکڑ یں گے تو وہ چیخنے اور چلانے لگیں گے، فریاد کریں گے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ فرمایا:’’آج مت تلملائو تم کو ہم سے کچھ مدد نہیں ملے گی(آیت ۶۵)
 اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ آج مت چیخو اور چلائو، تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئینہیں ہے، آج کوئی چھڑا نہیں سکتاکیونکہ یہ جزا و سزا کا وقت ہے، عمل و توبہ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ تم نے دنیا میں ہمارے پیغام اور آیات سے روگردانی کی، اب تمہاری چیخ و پکار بے کار ہے ۔
یہ اصل حقائق ہیں جن کی طرف قرآن توجہ دلا رہا ہے۔قرآن خود پوچھتا ہے: ’’اور تم کدھر جا رہے ہو ۔‘‘
’’یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے ۔‘‘(بنی اسرائیل۔۹)
 یہ قرآن اس راستے کی راہنمائی کرتا ہے، جو جہنم کے عذاب سے بچا کر اصل کامیابی یعنی جنت تک پہنچانے والا راستہ ہے، لہٰذا قرآن کو پکڑو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قرآن سے صحیح معانی میں استفاد ے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔





 

تازہ ترین خبریں