12:27 pm
 بھارتی مسلمانوں کے سر پر لٹکتی تلوار 

 بھارتی مسلمانوں کے سر پر لٹکتی تلوار 

12:27 pm

    گزشتہ ماہ شائع ہونے والے کالم بعنوان نفرتوں کے بیوپاری میں راقم نے اس جانب توجہ دلوائی تھی کہ بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کی سیاست کا محور و مرکز مذہبی نفرت ہے۔ سیاست کی بھٹی گرم رکھنے کے لیے مذہبی نفرت کی آگ سلگائے رکھنا بی جے پی کی مجبوری بھی ہے اور دین دھرم کا مسئلہ بھی! اس بھٹی میں مسلم دشمنی کا ایندھن سب سے زیادہ کار آمد ہے۔ کسی بھی راہ چلتے مسلمان کو پکڑ کے گئو ماتا کی ہتیا (قتل) کا الزام لگا دو ۔ پندرہ بیس گئو رکشک (گائے کے محافظ) جمع کرو اور اس بد نصیب مسلمان کو سر عام اذیتیں دے دے کے جان سے مار دو۔ کرکٹ کھیلتے بچوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں ‘ مردوں پر وحشیانہ تشدد کر دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے خلاف چلائی گئی  شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں کے پیچھے کار فرما سوچ ہندوستانی سماج سے ختم نہیں ہوئی ۔ ہندوتوا کی چھتری تلے مسلم دشمن سوچ نے گھر واپسی اور گئو رکشک تحریکوں کی صورت میں نیا جنم لیا ہے۔ گو بھارت میں دیگر مذہبی اقلیتوں یعنی سکھ ، عیسائی اور نچلی ذات قرار دئیے جانے والے دلتوں کے لیے بھی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں لیکن مسلمان ہمیشہ سے ہندو شدت پسندوں کا مرغوب ہدف ہیں۔ 
 
پاکستان کا قیام اور عشروں پر محیط تحریک حریتِ کشمیر ہندو شدت پسندوں کے اعصاب پر بری طرح سوار ہے۔ سابقہ پانچ سالہ دور میں بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ عمومی طور پر مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم پر چپ سادھنے والی عالمی تنظیمیں بھی بھارتی مظالم پر آواز اُٹھا رہی ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ نے  بھی کشمیری عوام پہ بھارتی ریاستی مظالم کا پردہ چاک کر ڈالا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ حالیہ الیکشن سے قبل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مقبولیت حاصل کر کے ووٹ بٹورنے کے لیے بی جے پی نے کس منظم انداز سے بھارت میں  پاکستان کے خلاف جنگی جنون ابھارا ۔ پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچا کر سرجیکل سٹرائیک کا جواز  گھڑا گیا ۔ بالا کوٹ پرعسکری تاریخ کے ناکام ترین فضائی حملے کو جنگی فتح قرار دیا گیا ۔ پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے گرائے اور ابھی نندن کو گرفتار کیا تب بھی مودی سرکار اپنی دروغ گوئی سے باز نہ آئی۔ عبرت ناک شکست اور ذلت کو تاریخی فتح بنا کے پیش کیا گیا۔ بالآخر سرکاری سطح پر اعتراف کرنا پڑا کہ سرجیکل سٹرائیک میں ایک کوا مارنے اور چند درخت گرانے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس سب کے باوجود میڈیا پر پانی کی طرح پیسہ بہا کر ناکام سرجیکل سٹرائیک کے ماسٹر مائنڈ شری نریندر مودی کو فاتح پاکستان کے طور پر پیش کیا گیا ۔ بھارتی عوام کی عقل کا ماتم کیجیے کہ جس نے اس بھونڈے ڈرامے کے سحر میں مبتلا ہو کر متعصب شدت پسند مذہبی جنونی ٹولے کو ایسے ملک کی باگ ڈور دوبارہ  سونپ ڈالی جو امن نہیں بلکہ  جنگ اور تشدد پر یقین رکھتا ہے۔ دوسری بار اقتدار کے سنگھاسن پر  براجمان ہوتے ہی راج ناتھ سنگھ کی جگہ امیت شا کو وزیر داخلہ  بنا کر مودی سرکار نے اقلیتوں خصوساً مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا تھا ۔ اس تبدیلی کے اثرات اب ظاہر ہو رہے ہیں ۔ 
گزشتہ ہفتے نئی دلی میں موٹر سائیکل کی پارکنگ پر دو افراد کے درمیان ہونے والے معمولی  تنازعے کے بطن سے ہندو مسلم فساد کی فضا کا بننا کوئی معمولی بات نہیں ۔ مسلم نوجوان محمد آس نے ایک عمارت کے سامنے موٹر سائیکل پارک کرنی چاہی تو وہاں مقیم  سنجیو گپتا نے اعتراض کیا ۔ بات تو تکار تک جا پہنچی ۔ ایسے چھوٹے موٹے تنازعات گنجان آباد  رہائشی علاقوں میں معمول کی بات سمجھے جاتے ہیں ۔ بعض ذرائع کے مطابق محمد آس نامی نوجوان پر ہندو ئوں نے اجتماعی تشدد کیا ۔ بات یہاں پر ختم نہ ہوئی ۔ حیرت انگیز طور پر اُسی علاقے میں درگا مندر سٹریٹ پر واقع مندر پر نامعلوم افراد نے حملہ کر کے مورتیوں کی بے حرمتی کی اور مندر کو بھی نقصان پہنچایا ۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہوا جب کہ علاقے کے مسلمانوں میں محمد آس پر مبینہ طورپر کیے گئے تشدد کی وجہ سے اشتعال پایا جاتا تھا ۔ دوسری جانب مندر پہ حملے کی خبر نے ہندو آبادی  کے اُس طبقے کو مشتعل کر دیا  جو بی جے پی کی شبانہ روز کاوشوں کے نتیجے میں ہمہ وقت مسلمانوں کے خون کا پیاسا بنا پھرتا ہے ۔  بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے کے مطابق سنجیو کمار گپتا کا کہنا ہے کہ اس معمولی تنازعے کو ہندو مسلم فساد کا رنگ سیاستدان دے رہے ہیں ۔ پارکنگ معاملے پر تو تکار کے وقت مجھے یہ علم ہی نہیں تھا کہ میرا مخالف فریق کس مذہب کا پیروکار ہے۔ مندر کے نگراں پروہت کا کہنا ہے کے حملہ آورکی مذہبی شناخت واضح نہیں ہو سکی یعنی یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ مندر پر حملہ کرنے والے ہندو تھے یا مسلمان ؟ متاثرہ علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا ۔ بھارت میں بی جے پی راج کی وجہ سے پھٹنے والے مسلم دشمنی کے آتش فشاں کے باعث مسلم آبادی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔  گودہرا گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا مودی بھارت کا وزیر اعظم ہے اور اس خونی کھیل میں مودی کا دست راست امیت شا اب بھارت کا وزیر داخلہ ہے۔ اس شدت پسند جوڑی کی موجودگی میں کسی بھی وقت مسلمانوں کے خلاف  فسادات اور قتل عام کا سلسلہ جاری ہوسکتا ہے۔ 
دستیاب اطلاعات کے مطابق  دلی پولیس کے سربراہ امول پٹنائیک نے چند گرفتاریوں کے بعد وزیر داخلہ  امیت شا سے بنفس نفیس ملاقات کر کے سب اچھا کی رپورٹ دے دی ہے۔ زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ مسلم آبادی شدید خوف کا شکار ہے۔ یہ خوف جائز ہے۔ جب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سکہ بند شدت پسند ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم قتل عام کے ماسٹر مائنڈ ہوں تو پھر خدشات کا جنم لینا فطری امر ہے جس حکومت نے اپنی فورس پہ خود پلوامہ حملہ کروا کے پاکستان کے خلاف جنگی فضا پیدا کر کے الیکشن جیتا ہو وہ مندر پر حملہ کروا کے کسی بھی وقت مسلمانوں کے لیے دلی کی زمین تنگ کر سکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے سر پر شدت پسندی کی تلوار ہمہ وقت لٹک رہی ہے۔  

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں