12:28 pm
بھارت کا ڈو مور کا مطالبہ

بھارت کا ڈو مور کا مطالبہ

12:28 pm

انڈیا کے لئے پاکستان کی طرف سے بڑی اعتمادی سازی کیا ہو سکتی ہے۔ پاکستان جو مرضی کر لے ، دہلی والے راضی نہیں ہو سکتے۔ وہ صرف کشمیریوں کی طرف سے جدوجہد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کشمیری اگر بھارت کے آگے سرنڈر کریں تو مودی خوش ہوں گے مگر ان کے مطالبات ختم نہ ہوں گے کیونکہ مودی چکوٹھی سے آگے بڑھ کر مری انٹرنیشنل بارڈر بنانا چاہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان ہر حال میں مودی کی زبان سے اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہی مظفر آباد میں کشمیری حریت پسندوں کے دفاتر پر تالے چڑھا دیئے گئے ۔ انہیں سر بمہر کر دیا گیا۔ اس کے باوجود بھارت بھی امریکہ کی طرح ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرتا ہے۔ بھارت حافظ محمد سعید کیخلاف پاکستان کی کارروائی کو عالمی برادری کو گمراہ کرنے اور محض کاغذی قرار دے رہا ہے۔ وہ حافظ سعید سمیت ان کے12احباب کیخلاف کیس درج کرنے کوصرف عالمی دبائو کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ وہ اسلام آباد کو باور کراتا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو بھارت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔پاکستان کی کوشش ہے کہ عالمی برادری کوپیغام دیا جائے کہ وہ  سنجیدہ ہے اور  انتہا پسندوں کیخلاف کارروائی کررہا ہے۔بھارت پاکستان کے سنجیدہ اقدامات کو بھی محض کاغذی قرار دیتا ہے۔ دہلی والے  نیک نیتی سے بعض گروپوں کیخلاف پاکستان کی کارروائی کو جانچنے کے مصدقہ اور صاف طور پر دکھائی دینے والے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دکھائی دینے والے اقدامات کشمیر یو ں  کا بھارتی ناجائز اور جبری قبضے کے خلاف جھک جانا ، بھارتی جارحیت پر خاموش ہوناہے۔
 
بھارت مخصوص افراد کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو پاکستان  کہتا ہے کہ اس نے شدت پسند گروپوں کیخلاف کارروائی کردی ہے تو دہلی حکومت اسے  متضاد موقف قرار دیتی ہے۔یاد رہے پاکستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام پر جماعت الدعوۃ سمیت پانچ کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے ہیں۔محکمے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان تنظیموں میں دعوۃ الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، المدینہ فائونڈیشن ٹرسٹ اور الحمد ٹرسٹ کے نام بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔ترجمان کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تمام ٹرسٹ کے نام پر رقوم اکٹھی کرنے کا الزام ہے، جس کا مبینہ مقصد دہشت گردی کو پروان چڑھانا بتایا گیا۔ ترجمان کے مطابق اِن تنظیموں اور اِنکے سربراہوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے تین شہروں میں مقدمات درج کیے گئے ، جن میں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان شامل ہیں۔ان مقدمات میں حافظ پروفیسر محمد سعید، عبدالرحمن مکی، امیر حمزہ، ملک ظفر اقبال، محمد یحییٰ عزیز، محمد نعیم، محسن بلال، عبدالرقیب، ڈاکٹر احمد دائود، ڈاکٹر محمد ایوب، عبداللہ عبید، محمد علی اور عبدالغفار سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز بھی بھارتی خارجہ امور کے وزیر مملکت وی مرلی دھرن نے  پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں کہا کہ پاکستان کو قابل یقین حد تک ان گروپوں کیخلاف کارروائی کا تہیہ کرلینا چاہیے اور جب تک پاکستان کی جانب سے قابل یقین کارروائی نہیں کی جاتی، دراندازی کیخلاف بھارت کے موثر اور نتیجہ خیز اقدامات جاری رہیں گے‘یعنی بھارت کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھنے اور آزاد کشمیر کی شہری آبادی پرمسلسل جارحیت کا اعلان کر رہا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی  مرکزی سرکار پاکستان کیساتھ معمول کے تعلقات چاہتی ہے اور اس بات کی وعدہ بند ہے کہ تمام تصفیہ طلب معاملات دو طرفہ اور پر امن طور پر شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیہ کے تحت حل کرے‘تاہم بامعنی بات چیت صرف دہشت، کشیدگی اور تشددسے پاک ماحول میں ہی ممکن ہوسکتی ہے‘‘۔’’اب گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے، کہ وہ اس طرح کا ماحول پیدا کرے‘‘۔’’بھارت نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ڈھانچے کو نتیجہ خیز اقدامات کے ذریعہ منہدم کرے، تب تک بھارت سرحد پار کی جانے والی کارروائی کا جواب دیتا رہی گا کیونکہ  دراندازی کرنے والوں کو پاکستان کی حمایت حاصل رہتی ہے‘‘۔یہ سب بھارت دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے بیان بازی کرتا ہے۔ 
سچ یہ ہے کہ بھارت صرف جارحیت پر یقین رکھتا ہے۔ اس نے کشمیریوں کی نسل کشی اور قتل عام تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فورسز بدترین اور سنگین جنگی جرائم کر رہے ہیں۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی میں تیزی آ گئی ہے۔ بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بھی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت نے  امر ناتھ یاترا کی سیکورٹی کے بہانے جموں سرینگر جیسی اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل روک دی ہے اور بانہال کشمیر ریلوے سروس معطل کردی ہے۔ جس کے  خلاف کشمیری زوردار احتجاج کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’’ہندو یاتری اگر انسان ہیں،کیا کشمیری حیوان ہیں، یاتری اگر مہمان ہیں، کشمیری بھی انسان ہیں‘‘ نئی دلی یاترا کو مذہبی رنگت دے رہی ہے اور یاترا کو لوگوں کے درمیان جوڑنے کے بجائے منافرت کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کشمیرکے عام لوگ، دانشور طبقہ اور دیگر متعلقین یاترا کو کامیاب بناتے ہیں لیکن بھارت یاترا کے نام پر کشمیریوں کو یرغمال بنا دیتا ہے۔  اس کا واحد مقصد یاتریوں اور کشمیریوں کو ایک دوسرے کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے علاوہ پوری دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ اہل کشمیر انتہا پسند اور تنگ نظر ہیں۔بھارت کا یہ رویہ نہ صرف تنگ نظری  بلکہ پوری کشمیری قوم کو سزا دینے کی واضح اور کھلی سازش ہے۔ کشمیری مسلمان اپنے سے زیادہ ہندو یاتریوں کی عز ت، آبرو اور جان کی حفاظت کرکے یاترا کو کامیاب بناتے ہیں۔جب کہ بھارت انہیں مساجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی لگا دیتا ہے۔ دلی کی احمقانہ اور کشمیر دشمن پالیسیوں کا توڑ صرف بھارت سے مکمل آزادی ہے۔  
نئی دلی کشمیر میں اسرائیلی طرز کی پالیسیاں اپنا رہی ہے۔عمران خان حکومت کا گمان ہے کہ اس کی اعتماد سازی کے اقدامات کے جواب میں بھارت بھی سی بی ایمز کرے گا ۔ مگر بھارت بھی امریکہ کی طرح ڈو مور کا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ دلی حکومت اپنی بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود دنیا کو اپنی نام نہاد امن پسندی دکھانا چاہتی ہے۔ جب بھی موقع ملے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں پاکستان دنیا کو بھارتی اصلی چہرہ دکھانے کے لئے سفارتی اور سیاسی سطح پر کام کر سکتا ہے۔ عمران خان حکومت دہلی کو بہلانے اور خوش کرنے کے بجائے بھارتی جارحیت اور جنگی جرائم ، اقوام متحدہ کی قرادادوں کی مسلسل خلاف ورزی اور اس کے سنگین نتائج سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے سرگرم کردار ادا کرے۔

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں