12:29 pm
ذخیرہ اندوز معاشرے کے قارون

ذخیرہ اندوز معاشرے کے قارون

12:29 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
اور دوسرا فرق اچھے اور برے انسان کی ذہنیت اور نفسیات کے اعتبار سے ہے کہ (جو شخص عام حالات میں محض سٹاک فراہم رکھنے کی غرض سے اشیاء کو سٹور کرتا ہے ،ذخیرہ کرتا ہے اس میں کوئی برائی نہیں البتہ) جو لوگوں کو پریشانی کے عالم میں لوٹنے پر خوش ہوتا ہے اور اسی غرض سے اشیاء صرف کو ذخیرہ کرتا ہے کہ جب ایسے حالات پیدا ہوں گے تو پھر ان صارفین کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بیچوں گا (پھر بعد میں خواہ ایسے حالات کی نوبت نہ آئے لیکن جس نے اس ذہنیت اور نیت سے اشیاء سٹاک اور ذخیرہ کیا تو یہ ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والا ہے۔
 
یہی وجہ ہے کہ اس کی فاسد ذہنیت پر مبنی مراد برآئے، چیزکی قلت ہوکر مہنگائی ہو جائے تو خوش ہوتاہے اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فصل سے ایسے حالات پیدا کریں کہ بجائے چیزمہنگی ہونے کے اور سستی ہو جائے تو اللہ کے اس فضل پر یہ ذخیرہ اندوز صاحب بے چین وغمگین ہوجاتے ہیں۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ یہ بہت برے لوگ ہیں۔
اس حدیث پر غور کریں تو سرمایہ دارانہ ملعون نظام معیشت اور اس نظام کے کل پرزے قارونی ذہنیت کے حامل سرمایہ داروں کی نفسیات کی یہ عکاسی کرتی ہے اور اسلام کے عطا کردہ تصور وذہنیت اور سرمایہ دارانہ ذہنیت میں فرق واضح کرتی ہیں۔ وہ یہ کہ اسلام مال کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیتا ہے، بندوں کے پاس یہ مال اللہ تعالیٰ کا دین اور عطیہ ہے اور بندے اس کے حصول میں بھی اور خرچ کرنے وتصرف کرنے میں بھی اللہ کے حکم کے پابند ہیں اس بنیاد پر اسلام میں ملکیت بے لگام اور بے حدود وقیود نہیں بلکہ حدودقیوم کی پابند ہے اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کے مالک کو اپنی ملکیت میں تصرف کرنے اور اس مال کو برتنے کا پورا اختیار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شریعت نے مالک کو کچھ قیود وشرائط کا پابند کیا ہے، کچھ اخلاقی، معاشرتی اور اجتماعی مصلحتوں پر مبنی ضابطے بھی سکھائے ہیں جن کی رو سے اصولی طورپر اپنے مال میں، اپنی ملکیت میں، ایسا تصرف کرنا کہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگوںاور عوام کو‘  معاشرے کو، پوری ملت کو نقصان پہنچے اس قسم کے تصرف کو شریعت نے منع کیا ہے۔
جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ملکیت کی حد اور قید، کسی اخلاقی ضابطے کی پابند نہیں ہوتی وہ دولت کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کوتسلیم کرنے اور اپنے پاس یہ دولت اللہ کا دین وعطیہ ہونے اوراس کی آمد وخرچ میں اللہ کے احکامات کا، اخلاقی ضابطوں کا اپنے آپ کو پابند کرنے کے بجائے یہ قارونی نعرہ بلند کرتے ہیں: ’’قارون نے کہا کہ یہ مال میں نے اپنی صلاحیت ومہارت اور علم ودانائی سے کمایا ہے‘‘۔ (سورۃ قصص آیت ۷۸)
سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں پلنے والے ہمارے معاشرے کے قارون بھی اسی ذہنیت وطرزِ عمل کے حامل ہیں کہ ہم بڑے ماہر اقتصادیات ومعاشیات ہیں، ایکسپرٹ اکنامسٹ ہیں، اپنے قارونی خزانوں میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے، اس کیلئے استحصال، ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ وغیرہ سب کالے دھندے اور رذیل ہتھکنڈے اپنانے میں ہم پوری طرح آزاد بلکہ مادر پدر آزاد ہیں اور ان سب جائز ناجائز ذرائع سے فاقہ مست انسانوں کا نچوڑا ہوا خون اور خون پسینے کی گاڑی کمائی ہم شیرِ مادر کی طرح بغیر ڈکار کے ہضم کریں گے۔
اس لئے اے میری قوم کے لوگو! کبھی آٹا، چینی، اور کبھی دالیں، چاول، گھی وغیرہ غذائی اجناس کا اپنے قارونی گوداموں میں ذخیرہ کرکے قوم کو خاک چٹانے اور خون کے آنسو رلانے والے قارونوں اور ان کے سرپرست فرعونوں کیخلاف اپنے رب سے ہی مدد مانگو کہ وہ ان زرداروں اور قارونوں کو اپنے پیشروئوں کی طرح دھنسا اور ڈبو کر بحروبر کے عذابوں میں مبتلا کرے جس طرح انہوں نے خشکی وتری کو فساد وظلم سے بھردیا ہے۔

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں