12:29 pm
سیاست کے نام پر تفریحی کھیل تماشے 

سیاست کے نام پر تفریحی کھیل تماشے 

12:29 pm

٭اپوزیشن کی رہبر کمیٹی، 11 ممبر، 11 چیئرمین O چیئرمین سینٹ، 9 جولائی کو عدم اعتمادO ایک اور ٹرین پٹڑی سے اُتر گئیO پانچ جولائی؟O رانا ثناء اللہ منشیات کیس 27 افراد کا گینگ، ڈی ایس پی گرفتار، ایس ایس پی کی تلاشO کوہاٹ: پانی کی ٹینکی گر گئی، خاتون،4 بچے جاں بحق O وزیراعظم کے بیان میں ارسطو کا حوالہO کرکٹ : لرزتی، لنگڑاتی ٹیم کی واپسی۔
 
٭طلبا امتحانی ہال میں جاتے ہیں تو ان کے موبائل فون باہررکھوا لئے جاتے ہیں۔ حکومت کے خلاف بننے والی 11 رکنی رہبر کمیٹی کے ان اجلاس سے پہلے تمام ارکان سے باہر موبائل فون رکھوا لئے گئے۔ نئے سرکاری ملازمین سے حلف لیا جاتا ہے کہ وہ سرکاری راز ظاہر نہیں کریں گے۔ رہبر کمیٹی کے ارکان سے حلف اٹھوایا گیا کہ اندر کی باتیں باہر نہیں جائیں گی۔ فیصلہ ہوا کہ نو جماعتی کمیٹی کے 11 ارکان باری باری چیئرمین بنیں گے۔ اے پی سی کی طرح رہبر کمیٹی کا پہلا صدر بھی دو ماہ کے لئے جے یو آئی کے اکرم درانی کو بنا لیا گیا۔ اتفاق یا کیا کہ رہبر کمیٹی میں اپوزیشن کی 9 پارٹیاں شامل ہیں جبکہ ضیاء الحق کے خلاف تحریک چلانے والی ایم آر ڈی بھی 9 پارٹیوں پر مشتمل تھی۔ اس کا بھی ہر ماہ ایک پارٹی کا چیئرمین بنتا تھا۔ ایم آر ڈی کے ارکان کو 9 ستارے بھی کہا جاتا تھا۔ ان میں ایک ستارہ ایسا بھی تھا جس کی کوئی پارٹی نہیں تھی، وہ جس پارٹی کا نمائندہ بن کے آیا تھا، اس پارٹی نے اسے نکال دیا تھا۔
کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف 9 جولائی (منگل) کو عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی جائے گی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اسے سینٹ کے 103 میں سے 67 ارکان کی حمائت ہے جب کہ تحریک انصاف اور اتحادیوں کے پاس 36 ارکان رہ جاتے ہیں۔ جب کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اسے اپوزیشن کے تقریباً 20 ارکان کی خفیہ حمائت حاصل ہو چکی ہے۔ عدم اعتماد کی قرارداد کی کامیابی کے لئے کہا کہ 53 ارکان کی حمائت ضروری ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور سپیکر اسمبلی چیئرمین صادق سنجرانی کی حمائت کے لئے اسلام آباد کا چکر لگا چکے ہیں۔ قواعد و ضوابط کے مطابق 9 جولائی کو عدم اعتماد کی قرارداد والے اجلاس کی صدارت چیئرمین کی بجائے ڈپٹی چیئرمین کرے گا۔ قرارداد کو قابل سماعت بنانے کے لئے کم از کم 53 ارکان کی حمائت ضروری ہے۔ اس کے بعد اجلاس سات روز کے بعد اور 14 روز کے اندر کسی تاریخ پر ملتوی کر دیا جائے گا۔ اس روز صرف قرارداد پر رائے شماری ہو گی، قرارداد منظور ہو گئی تو چیئرمین اس عہدے سے محروم ہو جائے گا۔ یہ بات ابھی تک سامنے نہیں آ سکی کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین کے عہدہ سے ہٹانے کی وجہ کیا ہے؟ وہ ایک معتدل، ٹھنڈے مزاج کے انسان ہیں۔ کسی پارٹی کے رکن نہیں، آزادانہ رکن بنے تھے۔ اہم بات یہ کہ چیئرمین کے انتخاب کے وقت ن لیگ کے امیدوار کو ہرانے کے لئے آصف زرداری اور عمران خان نے صادق سنجرانی کی حمائت کی تھی۔ اب آصف زرداری ہی اس کے خلاف ہو گئے ہیں، واحد الزام یہ لگایا ہے کہ صادق سنجرانی ہمارے کام نہیں کرتا تھا! یہ نہیں بتایا کہ کون سے کام نہیں کئے؟ ایک الزام یہ ہے کہ چیئرمین دورے بہت کرتا تھا، کام کم کرتا تھا! ایسے مضحکہ خیز الزامات پرکیا کسی چیئرمین سینٹ یا اسمبلی کے سپیکر کے خلاف کسی کارروائی کا جواز بنتا ہے؟پاکستان کی پوری تاریخ میں آج تک بلوچستان کا کوئی شخص ملک کا صدر نہیں بنا۔ ایک وزیراعظم (ظفر اللہ جمالی) بھی صرف چند ماہ کے لئے آیا اور اس لئے ہٹا دیا گیا کہ وہ شریف اور محب وطن شخص تھا، پنجاب اور سندھ کے جاگیردار، وڈیرے اور سردار اسے قبول نہیں کرتے تھے۔ (یہی انجام پنجاب کے ’بابو‘ وزیراعلیٰ حنیف رامے کا ہوا تھا) دو ہفتے قبل بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال اور سپیکر اسمبلی اسلام آباد میں انتباہ کر چکے ہیں کہ بلوچستان سے منتخب سپیکر کو ہٹانے کے لئے بلوچستان میں بہت ناگوار تاثر پھیلے گا! ان باتوں سے ان لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے جنہوں نے محض ذاتی تفریح کے طور پر ملکی سیاست کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے! عالم یہ ہے کہ 25 جولائی سے ملک میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ بڑی پارٹیوںکی قیادت، نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز، آصف زرداری، رانا ثناء اللہ، خواجہ برادران، فریال تالپور، سراج درانی وغیرہ جیل کے اندر ہیں یا ضمانتوں پر پھر رہے ہیں۔ 25 جولائی تک ابھی 18 دن پڑے ہیں۔ نیب، ایف آئی اے تو رسمی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اچانک پاک فوج کی نگرانی میں کام کرنے والی اینٹی نارکوٹکس فورس سامنے آ گئی ہے، اس کے قائم کردہ مقدمے میں ضمانت کا کوئی تصور نہیں ہوتا اور سزا بھی موت یا کم از کم عمر قید! اس فورس ’اے این ایف‘ کے ذرائع کے مطابق ملک کے 50 بڑے منشیات فروشوں کے گینگ کا سراغ لگا لیا گیا ہے اس میں بعض وزیر، ارکان اسمبلی اور سیاست دان بھی شامل ہیں۔ اے این فورس کے مطابق کسی شخص پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہر پہلو سے اس کے خلاف ثبوت جمع کئے جاتے ہیں، جن کی بعد میں تفتیش ضروری نہیں ہوتی۔ رانا ثناء اللہ کے خلاف بھی یہی کچھ ہوا ہے، عدالت میں ابتدائی پیشی پر اے این ایف کا موقف سامنے آیا کہ اے این ایف مکمل تفتیش کر چکی ہے، مزید کی ضرورت نہیں۔ مقدمہ شروع ہو گا تو عدالت میں سب کچھ پیش کر دیا جائے گا! ایسے عالم میں اپوزیشن کی 25 جولائی سے تحریک!
٭ کرکٹ کے ورلڈ کپ میں لٹی پُٹی مفلوک الحال ٹِھپ ٹِھپ کرکٹ ٹیم پے درپے شکستوں اور عبرت ناک انجام کے بعد ٹکڑوں ٹکڑوں میں واپس آ رہی ہے۔ لاکھوں روپے ماہوار لینے والے ہیڈ کوچ اور بائولنگ کوچ کی پاکستان آنے کی ہمت ہی نہیں پڑی اور ناکام ترین کپتان کس ڈھٹائی کے ساتھ فخر کر رہا ہے کہ کھلاڑیوں نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے! کون سے کھلاڑی؟ بابر اعظم، عماد وسیم اور شاہین آفریدی کے سوا کوئی تیسرا نام؟ کرکٹ کے ان ’سپوتوں‘ کی ناز برداری والا کرکٹ بورڈ، بے شمار ڈائریکٹر، جنرل منیجر، ہر کوئی لاکھوں روپے ماہوار کی لوٹ مار! ان میں سے بیشتر ٹیم سے پہلے ہی طویل عرصے کے لئے لندن جا کر وہاں کی رنگین فضائوں میں گم ہوگئے! 1992ء میں عمران خان کی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا۔ اس وقت تک کے 45 برسوں میں کسی ٹیم کا کوئی کوچ نہیں ہوتا تھا، کپتان خود ہی کوچ ہوتا تھا۔ اب بیٹنگ، بائولنگ، فیلڈنگ کے لئے الگ الگ پھر ان کے اوپر ایک ہیڈ کوچ کرکٹ بورڈ کا سالانہ اربوں کا بجٹ اور نتیجہ! شکست خوردہ لنگڑاتی ٹیم رات کے اندھیرے میں واپس آ رہی ہے! فٹ بال کا تو کبھی نام ہی نہ آیا، ہاکی ختم ہو گئی، اور اب کرکٹ بھی ختم ہو گئی۔
٭وزیراعظم عمران خان کو آج کل بعض مشہور دانش وروں کے زریں اقوال یاد آرہے ہیں۔ گزشتہ روز ارسطو کا قول فرمایا کہ ظلم اور ناانصافی پر شہری سیاسی ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب! تھوڑا سا اور بھی پڑھ لئے! ارسطو کے استاد افلاطون کے استاد سقراط نے کہا تھا کہ زندگی گزارنے والا موثر اصول ’’برداشت‘‘ ہے۔ وہ اپنی محفل میں کسی کے خلاف کوئی بات نہیں ہونے  دیتا تھا۔ کوئی شخص اونچی بولتا یا کسی کے خلاف تلخ باتیں کرتا تو اسے محفل سے نکال دیتا تھا۔

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں