07:07 am
مریم کی پریس کانفرنس

مریم کی پریس کانفرنس

07:07 am

میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ مریم نواز نے پریس کانفرنس کیوں کی ہے۔ انہوں نے جو شواہد صحافیوں کو پیش کیے ہیں اگر وہ انہیں اگلی تاریخ پر ہائی کورٹ کے سامنے رکھتیں تو انہیں زیادہ قانونی فائدہ ہوتا۔ اس طرح عوامی پریس کانفرنس کرکے انہوں نے سیاسی ہلچل تو مچا دی ہے مگر اسے ان کو نواز شریف کو یا  نون لیگ کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ جو لوگ ن لیگ کو سپورٹ کرتے ہیں وہ زور زور سے تالیاں بجائیں گے۔ جو لوگ پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتے ہیں وہ تمام شواہد کو یکسر مسترد کر دیں گے اور جوابی الزامات لگائیں گے اور دیگر پارٹیوں کے سپورٹرز دور کھڑے ہوکر تماشا دیکھیں گے۔
آخر مریم نواز کامقصد کیا تھا۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ اس پریس کانفرنس کے  بعد فوراً ہی نواز شریف کو رہا کر دیا جائے گا اور ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیئے جائیں گے تو یہ ان کی شدید غلط فہمی ہے۔ انہوں نے ایک طر ح سے اعلان جنگ کیا ہے۔ یہ صحیح قدم نہیں ہے۔ اس سے سیاسی فضا مزید آلودہ ہو جائے گی اور ہر فریق اپنی اپنی پوزیشن پر زیادہ سختی سے قائم ہو جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ عوام میں اشتعال بھی پھیلے جس کا نقصان سارے ملک کو ہوگا۔ ہماری معیشت پہلے ہی لڑکھڑائی ہوئی ہے۔ اس پر مزید دبائو پڑے گا۔
اس پریس کانفرنس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا سیاسی اور دوسرا قانونی۔ سیاسی طور پر تو نون لیگ نے  قومی مفاد کے خلاف قدم اٹھایا ہے ۔ ہمارا ملک مزید انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نون لیگ کی شکایات جائز سہی مگر ان کو پیش کرنے کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔
اب آئیے قانونی پہلو کی طرف  ! اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ جو شواہد اس پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے ہیں وہ سب  سچے اور درست ہیں تو بھی قانونی طور پر شریف فیملی کو کوئی قانونی فائدہ نہیں ہوگا۔ قانون کے لحاظ سے اگر کسی جج کا مس کنڈکٹ یعنی بداعمالی یا بداطواری ثابت ہو جائے تو صرف جج کا فیصلہ ہی منسوخ نہیں ہوتا بلکہ مقدمے کی ساری کارروائی کالعدم قرار دے دی جاتی ہے۔ اس کا فوری اثر تو یہ ہوگا کہ نواز شریف جیل سے نکل آئیں گے مگر فوراً ہی یہ مقدمہ ازسر نو چلایا جائے گا جس کے نتیجے میں شریف فیملی کو دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا۔ اتنا تو کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ نیا جج اس نئے مقدمے کو بہت زیادہ احتیاط سے سنے گا اور اس احتیاط سے شریف  خاندان کو فائدے کی بجائے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ گویا یہ بات تو طے ہے کہ جو شواہد پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے ہیں و نواز شریف کو بے گناہ ثابت نہیں کرتے۔ اب نیا مقدمہ چلے گا۔ نئے گواہ بھی آسکتے ہیں۔ نئی دستاویزات اور نئے کاغذات بھی پیش کیے جاسکتے ہیں اور اگر یہ شواہد جعلی ثابت ہوتے ہیں تو شریف فیملی بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔
اگر مریم نواز اپنے وکلاء سے مشورہ کرلتیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ انہیں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دیتے۔ مقدمے اس طرح ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ عام کارکن تو یہ ضرور سوچتا ہے کہ اگر ان کے لیڈر پر ظلم ہو رہا ہے تو اس کے خلاف آواز تو ضرور اٹھانی چاہیے مگر ہر کام کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ قانونی مقدمات کو قانونی طریقے سے ہی لڑنا چاہیے۔ قانونی شہادتوں کو اس طرح پریس کانفرنس میں اچھالنا سیاسی بلوغت نہیں ہے۔
ملک میں سیاسی ہیجان پیداہورہا ہے کچھ تو پی ٹی آئی کے ناتجربہ کار وزراء اور مشیران اشتعال انگیز بیانات دیتے رہتے ہیں اب دوسری طرف سے بھی آتش بازی شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن کے رہنما  بھی اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے اور جب ایک میدان میں اتنے سارے بھینسے ایک ساتھ اتریں گے تو نقصان تو گھاس یعنی غریب عوام کا ہی ہوگا۔
میری تمام سیاسی قائدین سے درخواست ہے کہ وہ اپنے لہجوں میں نرمی پیدا کریں۔ اشتعال کی بجائے اعتدال سے کام لیں۔ مل کر بیٹھیں اور بات چیت کریں آپ مودی کو تو مذاکرات کی دعوت دیتے رہتے ہیں ۔ ملکی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کرتے؟ آپس میں بات کریں۔ مذاکرات کی میز پر بھی صرف بات کریں جنگ نہ کریں۔ مسائل کا حل تلاش کریں۔ مسائل کو مزید نہ الجھائیں۔ ضد پر اڑ جانا بڑے لیڈر کی نشانی نہیں ہوتی بلکہ ایک طفلانہ ذہنیت کی نشانی ہوتی ہے۔ مریم نواز نے پریس کانفرنس کرکے غلطی ضرور کی ہے مگر حکمران جماعت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرکے انہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی مذاکرات کی پیشکش کرنی چاہیے۔ یہ اقدام ان کی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی اور سچی لیڈر شپ کا ثبوت ہوگا۔ اگر مذاکرات سے مسائل کا حل نکل آئے تو ملک میں استحکام آئے گا اور عوام کو سکھ کا سانس ملے گا۔

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں