07:11 am
تاریخ اسلام کا عظیم معرکہ’’غزوہ خندق‘‘

تاریخ اسلام کا عظیم معرکہ’’غزوہ خندق‘‘

07:11 am

اسلام کی سنہری تاریخ رسول رحمتﷺ کے خوبصورت جہادی معرکوں سے مزین ہے۔۔۔ یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ کائنات میں اﷲ کے بعد سب سے بڑا مقام اور مرتبہ رسول رحمتﷺ کو ہی حاصل ہے۔۔۔ اور اﷲ پاک نے قرآن مقدس کے اندر واضح ارشاد فرمایا ہے کہ’’تمہارے لئے رسول اﷲﷺ کی زندگی اسوۂ حسنہ ہے‘‘ اس اصول کو سامنے رکھا جائے تو جس طرح ہم نماز، روزے، حج ، زکوٰۃ جیسی عبادتوں کی ادائیگی کیلئے حضورﷺ کی پیروی کو نجات کا سبب سمجھتے ہیں، ویسے ہی ہمیں’’جہاد‘‘ کے عمل کو کرنے کیلئے بھی رسول اکرمﷺ کی ہی اطاعت کرنا پڑے گی، یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ اﷲ تعالیٰ کے احکامات اور مقدس عبادات ہیں۔۔۔ ایسے ہی’’جہاد و قتال‘‘ بھی اﷲ رب العزت کا قطعی حکم اور مقدس عبادت کو کہا جاتا ہے۔۔۔
 
اگر ساری دنیا کے یہود و نصاریٰ، مشرکین، مستشرقین اور منافقین مل کر نماز کی عبادت پر پابندی لگانا چاہیں یا’’ نماز‘‘ کے خلاف گمراہ کن پروپیگندا کرنا چاہیں تو وہ کسی بھی مسلمان کیلئے قابل قبول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہود و نصاریٰ کے چاہنے سے نماز کے عمل کو ترک کیا جاسکتا ہے۔۔۔ ایسے ہی ساری دنیا کے یہود و نصاریٰ، مشرکین اور منافقین کے پراپیگنڈے سے جہاد کی حرمت و فضیلت پر کوئی آنچ نہیں آسکتی اور نہ ہی منافقین کی چیخ وپکار اور واویلے سے مسلمان’’جہاد وقتال‘‘ کی عبادت کو ترک کر سکتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جہاد اﷲ رب العزت کا مقدس فریضہ اور حسین ترین عبادت کا نام ہے۔۔۔ سردست اس بحث کو یہیں پر موقوف کرتے ہوئے غزوہ خندق کا اجمالی ذکر کرتے ہیں، جنگ احد کے بعد مشرکین مکہ نے سرور کائناتﷺ اور آپﷺ کے مجاہد صحابہؓ کے خلاف چھوٹی چھوٹی شرارتیں جاری رکھیں، لیکن جب کافروں نے دیکھا کہ پیغمبررحمتﷺ کا پیغام توحید پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے تو قبیلہ بنی نضیر کے سب سے بڑے فسادی اور فتنہ پرور شخص حیی بن اخطب نے،سلام بن شکم، کنانہ بن الربیع وغیرہ کو ساتھ ملا کر مکہ کا دورہ کیا اور وہاں سے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کیلئے چندہ جمع کرنا شروع کیا، مشرکین مکہ نے خود بڑھ چڑھ کر انہیں جنگی مصارف کیلئے مال و زر پیش کیا۔۔۔ قریش مکہ سے مال و زر اورمشورے لیکر فسادیوں کا یہ وفد غطفان، بنو کنانہ اور بنو قریظہ کے قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف کیجانے والی سازش میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔ ان قبائل نے بھی زبردست انداز میں فسادی وفد کی پذیرائی کی،انہیں چندہ دیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کیلئے اپنے لشکر تیار کرنے شروع کر دیئے، یاد رہے کہ آخر الذکر بنو قریظہ یہود کا قبیلہ تھا اور یہود کا یہ قبیلہ، مدینہ میں سکونت پذیر تھا، اور اس قبیلے نے حضور اکرمﷺ سے بھی اس بات کا عہد کر رکھا تھا کہ وہ کسی بیرونی حملے کی صورت میں مسلمانوں کی حمایت کریں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی سازش میں بھی شریک نہ ہوں گے، لیکن جو بدعہدی اور منافقت نہ کرے وہ یہودہی کیا، غرضیکہ بنو سلیم ، فزارہ، اشجع، بنو سعد، بنو مرہ، بنو نضیر اور بنو غطفان سمیت پچاس قبائل کے سرداروں نے خانہ کعبہ میں جا کر یہ قسمیں کھائیں’’ کہ جب تک زندہ ہیں مسلمانوں کی مخالفت سے منہ نہ موڑیں گے اور اسلام کو مٹانے میں وہ کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں گے‘‘۔۔۔ مشرکین اوریہود نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برپا اس عظیم سازش کو اس قدر خفیہ رکھا کہ پیغمبر اسلامﷺ کی اس سازش کی بروقت خبر نہ مل سکی چنانچہ جب ابو سفیان کی قیادت میں دس ہزار مشرکین کا لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو پیغمبر اسلامﷺ کو مشرکین کے اس ٹڈی دل لشکر کی اطلاع مل گئی۔۔۔ مشرکین کے اس لشکر میں ساڑے چار ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے ، خبر موصول ہوجانے کے بعد پیغمبر رحمتﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کی مجلس مشاورت منعقد کی، جس میں مشورہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مدینہ کے اندر رہ کرہی اپنا دفاع اور دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا جائے گا، حضرت سلمان فارسیؓ کی دی گئی یہ تجویز کہ حملہ آور فوج سے محفوظ رہنے کیلئے محصور فوج کے گرد خندق کھودی جائے، منظور کر کے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا، چنانچہ صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت نے اپنے سپہ سالار اعظمﷺ کی قیادت میں بڑی محنت ، انتھک جدوجہد اور بے مثال استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے’’خندق‘‘ کھودنا شروع کر دی۔ خود آنحضرتﷺ بھی ایک حصہ کی کھدائی میں شامل اور خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ اس خندق میں ایک جگہ بڑا اور سخت پتھر آگیا سب زورآزمائی کرچکے اورپتھر نہ ٹوٹا تو آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ خندق کو اس جگہ سے پھیر کر دوسری طرف موڑ کر کھودنے کی اجازت دی جائے۔ آپﷺ جس جگہ خندق کھودنے میں مصروف تھے وہاں سے اپنا پھاوڑا لے کر چلے، اس پتھر والے حصے میں پہنچ کر اور خندق میں اتر کر اپنا پھاوڑا یا کدال اس زور سے مارا کہ پتھر میں شگاف پڑ گیا۔ ساتھ ہی ایک روشنی نکلی۔ آپﷺنے اﷲ اکبر کہا سب صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کی تقلید میں نعرۂ اﷲ اکبربلند کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: مجھ کو ملک شام کی کنجیاں دی گئیں۔پھر آپﷺ نے دوسری ضرب اس پتھرپر لگائی جس سے اور بھی زیادہ پھٹ گیا۔ اس ضرب سے بھی ایک روشنی نکلی۔ لہٰذا اسی طرح نعرہ اﷲ اکبر بلند ہوا۔
(جاری ہے)

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں