07:14 am
نیب اور امراض قلب کا ہسپتال

نیب اور امراض قلب کا ہسپتال

07:14 am

آج کل نیب کا ادارہ ہدف تنقید بنا ہوا ہے۔ میں اِس کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں۔قلم تو تھام لیا ہے مگر لکھوں کیسے؟ سچ لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سچ لکھنا آگ کا دریا پار کرنے کے برابر ہے۔
قومی احتساب بیوروالمعروف نیب کا قیام قومی احتساب آرڈی نینس کے تحت 16 نومبر1999ء کو عمل میں لایا گیا، قومی احتساب بیورو کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے جب کہ کراچی ، لاہور ، ملتان ، راولپنڈی ، سکھر، پشاور اور کوئٹہ میں اس کے علاقائی دفاتر ہیں ۔ قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار پورے ملک ،فاٹا اور گلگت بلتستان تک ہے۔ قومی احتساب بیورو کے قیام کا مقصد ملک سے بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس کے فروغ میں مدد فراہم کرنا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنے منشور اور مقاصد کو ایک قومی فریضہ کے طور پر اولین ترجیح سمجھتے ہوئے کسی دبائو اور پریشرکے بغیر میرٹ، شفافیت اور غیرجانبداری کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ادا کیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کو اپنے پہلے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد سے لے کر موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں بدعنوانی اور کرپشن سے متعلق اب تک 3لاکھ کے قریب درخواستیں موصول ہوئیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔ نیب نے بدعنوان عناصر کے خلاف ہزاروںانکوائریاں کیں۔ جب کہ ہزاروںدرخواستوں پر تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے اب تک ہزاروں ریفرنس دائر کیے جن پر مختلف احتساب عدالتوں میں قانون کے مطابق کارروائی ہوئی اور بعض کے خلاف جاری ہے ۔
بدعنوان عناصر سے قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لے کر اب تک سینکڑوںارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔قومی احتساب بیورونے قومی انٹی کرپشن سٹریٹجی کے حوالے سے ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دی ہے جس کے مطابق عوام کو کرپشن ، رشوت ستانی اور بدعنوانی کے ملکی ترقی اور معیشت پر اثرات سے متعلق آگاہی کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ ایم او یو سائن کرکے یونیورسٹیوں اور کالجوںکے طلبا وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں، کالجز اور اسکولوں میںتقریباً4000 کریکٹرز بلڈنگ سوسائٹیزکا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
قومی احتساب بیورونے نیب میں جہاں اور بہت ساری نمایاں اصلاحات کیں وہاں انھوں نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیب کے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی کے علاوہ آپریشن ڈویژن کو نئے انویسٹی گیشن آفیسرز کی بھرتی سے متحرک ڈویژن بنا دیا۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے افسران کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لیے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر کرائم سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کرتے ہیں۔
قومی احتساب بیورو نے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمہ کے لیے بھی ایک نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے جس میں سائل کی درخواست سے لے کر ریفرنس دائر ہونے تک کے مراحل کو سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے تحت ایک مربوط نظام تشکیل دیا ہے جس کی بنیاد پر افسران شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور تحقیقات کرتے ہیں ۔نیب نے اپنے آپریشنل ، پرونشن، انفورسمنٹ ، پراسیکیوشن ڈویژنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے علاوہ ایک فرانزک لیب بھی بنائی ہے جس کے ذریعے تحقیقات جدید خطوط پر جلد از جلد مکمل کرنے اور بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی میں مدد ملتی ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لے کر اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔
قومی احتساب بیورو نے اب تک حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کیے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیںاور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتماد قومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ۔پلڈاٹ اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جیسے آزادانہ اداروں کی رپورٹس قومی احتساب بیورو کے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمہ کے کام کو مزید تقویت فراہم کرتی ہیں ۔
 قومی احتساب بیورو کے جتنے بھی ملزم ہیں وہ عارضہ قلب میں مبتلا دِکھائی دیتے ہیں۔ اُس میں ارباب اختیار بھی ہیں اور حزب اختلاف کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جس کسی پر جب بھی قومی احتساب بیورو ہاتھ ڈالتا ہے تو اُسے فوری طور پر عارضۂ قلب لاحق ہو جاتا ہے۔ نیب کے ملزموں کی کثیر تعداد دِل کی مریض بن جاتی ہے۔ چنانچہ اِس امر کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے بیماروں کے لئے ایک عدد کارڈیا لوجی ہسپتال بھی تعمیر کروا لیں کیوں کہ جیسے ہی وہ کسی بڑے ملزم پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو ملزم کا ہاتھ اپنے دِل پر چلا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیب نے ملزموں پر ہاتھ نہیں ڈالا بلکہ اُن کے دِل پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔ یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ دولت سے دِلی محبت کے تقاضے یہی ہیں کہ جب کسی کی دولت پر ہاتھ ڈالا جائے تو اُس کے دِل کی دھڑکنوں کا بے ترتیب ہو جانا لازمی امر قرارپاتا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ دردِ دِل کے علاج کے لئے بیرون ممالک کا رُخ اختیار کرتے ہیں اور اپنے دِل کے علاج کا بہانہ بنا کر نیب سے ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کیوں نہ ایسے مریضوں کو امراضِ قلب کی سہولیات نیب خود ہی فراہم کر دے۔

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں