07:15 am
کل ہماری باری ہے

کل ہماری باری ہے

07:15 am

 سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے، مگر جانے کیوں اسٹیبلشمنٹ عوام کو عقل سے عاری گردانتی ہے۔ آپ کو پتہ ہے استاد دامن کون تھے، کبھی نہ جھکنے، نہ بکنے والی ایسی آواز جو ہر ظلم کے خلاف کلمہ حق کہنے کی طاقت رکھتی تھی۔ بھٹو صاحب کا دور تھا، مری کا مشاعرہ، امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر تھے اور مری میں ہندوستان دوستی کی ملاقاتیں ہو رہی تھیں، ایسے میں  استاد دامن کی نظم
 
کی کری جاریاں ایں
کدی شملے جاریاں ایں
کدی مری جاریاں ایں
کی کری جاریاں ایں
مری کے پہاڑوں سی ٹکراتی صدا جب اسلام آباد کے مرغزاروں میں گونجی تو حاکم برہم، دوسرے ہی روز لاہور کی ہیرا منڈی کے علاقے میں استاد دامن کے کھولی پر چھاپہ پڑا۔ حضور پتہ ہے شاعر کے گھر سے کیا برامد ہوا بم اور رائفلیں، جی ہاں جناب اصلی بم، غالب نے تو بعد مرنے کے تصویر بتاں اور حسینوں کے خطوط برامد ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی مگر استاد دامن بنا خواہش دہشت گرد بنا دیئے گئے۔ خیر جناب استاد نے جیل کاٹی، باہر نکلے تو اگلے مشاعرے کو ایک ہی شعر سے لوٹ لیا
نہ کڑی، نہ چرس، نہ شراب، دامن
تے شاعر کے گھر وچوں بم نکلے
ایک اور شاعر تھے حبیب جالب، صدا کے باغی، جیل اتنا پسند تھا کہ ایوب و یحییٰ خان اور ضیاالحق کی آمریت میں ہی نہیں بھٹو صاحب کی جمہوریت میں بھی زبان نہ بند کی سو ہر دور زندان ’’میں نہیں مانتا‘‘کی صدائوں سے گونجا کیے۔  خیر اپنے فیض صاحب کے خلاف دور ایوبی میں غداری کا کیس بھی تو ہوا تھا جسے راولپنڈی سازش کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ویسے ہمارے پاس توالحمداللہ غداروں کی ایک طویل و نامکمل فہرست ہے جس میں وزرا ء اعظم سے لیکر سیاسی و سماجی رہنما اور جانے کون کون شامل ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح سے بینظیر بھٹو تک، بھٹو سے نواز شریف تک غدار اور سیکورٹی رسک، ایوب و یحییٰ و ضیا سے مشرف تک سب مسیحا، عجیب و غریب داستان ہے۔ آمر تو خیر آمر، جمہوری دور بھی کچھ کم داغدار نہیں، یہ سچ ہے کہ پاکستان کو بھٹو جیسا ذہین اور قابل سیاسی لیڈر نہ مل سکا، مگر یہ بھی درست ہے کہ عوامی بھٹو کے اندر ایک توانا وڈیرہ بھی موجود تھا۔ چوہدری شجاعت کے والد چوہدری ظہور الٰہی بھٹو کیلئے چیلنج بنے ہوئے تھے، اگرچہ اش وقت اپوزیشن طاقتور نہ تھی مگر بھٹو ‘ چوہدری ظہور الٰہی سے سخت ناراض، تضحیک کا نشانہ بنانے کیلئے چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا مقدمہ ڈالا گیا، چوہدری صاحب نے قید کاٹی اور وہ بھی مچھ جیسے جیل میں، شاید اسی دور کی بات ہے کہ سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے والد مخدوم زادہ حسن محمود پر بجلی کے تار چوری کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔
کوئی شک نہیں عمران خان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ عوام کو خاندانی بلکہ موروثی سیاست سے نجات دلانے کا بیڑہ اٹھایا، عوام کو لوٹنے والی دو جماعتوں کو شکست دی۔ یہ ایک بڑی کامیابی ضرور ہے مگر ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ مجھے بھی تحریک انصاف سے بڑی امیدیں ہیں، کیا عمران خان کی ٹیم پاکباز نخوت اور تابناک حماقت کیساتھ یہ جنگ جیت سکے گی؟ میں بھی آپکی طرح کنفیوز ہوں۔ شریف برادران پر کرپشن، زرداری پر عوامی دولت کے الزامات سمجھ آتے ہیں، خواجہ برادران پر بھی الزامات کومانا جا سکتا ہے۔ رانا ثنا اللہ پر بھی الزامات کی کمی نہیں، فیصل آباد میں ہی ان کے ہم جماعت اور سیاسی حریف عابد شیر علی کے کیمپ سے قاتل کی صدائیں اٹھتی ہیں، سانحہ ماڈل ٹائون کے الزامات، کالعدم تنظیموں اور گینگسٹرز سے تعلقات کے حوالے سے بھی خبریں نئی نہیں، گرفتاری کیلئے بیشمار الزامات تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ رانا ثنااللہ حکومت کے کڑے ناقد اور کھل کر بات کرنے میں سرفہرست ہیں۔ رانا ثنااللہ کو ناپسند کیا جا سکتا ہے، اختلاف کیا جا سکتا ہے، مشکوک بھی جانا جا سکتا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ذہین و فطین اور معاملہ فہم انسان ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کہ ایک ایسا شخص جو ایک دن پہلے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نشانے پر ہوں، مارا بھی جا سکتا ہوں اور کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتا ہوں، بس یہ موقعے کی تلاش میں ہیں۔ کیا ایسا جہاندیدہ بندہ اپنی ہی گاڑی میں نصف من منشیات لیکر گھوم سکتا ہے۔
 اگر واقعی ایسا ہے تو کیا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ رانا ثنااللہ کے ڈیرے یا گھر پر فوری چھاپہ پڑتا، کیونکہ جو شخص گاڑی میں غزلوں سنتا 21 کلو منشیات لیئے پھرتا ہے جانے اسکے پاس جانے کتنا ذخیرہ ہو گا؟ اب یہ بونگیاں میڈیا کو ہضم نہ ہوں، عوام تسلیم نہ کریں تو حکومت برہم،  کیا یہ بہتر نہ تھا کہ اگر یہ اداروں کی کارکردگی تھی تو وزیر موصوف انہی کو کریڈٹ لینے دیتے، خود بیٹھ کر معاملے میں سیاست کو گھسیٹنے کی کیا ضرورت تھی۔ پریس کانفرنس پر تنقید ہوئی تو اب مشیر اطلاعات فرماتی ہیں کہ گرفتاری کی وڈیو موجود ہے عدالت میں پیش کی جائیگی‘دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر گوہر ہونے تک سیاست کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو شفقت حاصل رہی ہے، راوی کہتے ہیں بھٹو کی سیاسی تربیت ایوب خان کی چھتر چھایہ میں ہوئی، انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف بھٹو ایوب خان کے سپہ سالار تھے۔ مسلم لیگ ن جنرل ضیاالحق کی جماعت ٹھہری اور آمرالمومنین نواز شریف  کا کھونٹا مضبوط کرتے کرتے سدھار گئے۔ چوہدری شجاعت بھی اپنی کتاب میں اعتراف کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ق جنرل پرویز مشرف نے بنوائی۔  بینظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ سے دور مگر عالمی تشخص کی بنا پر بادل ناخواستہ قبول کی گئیں۔ زرداری صاحب سے اسٹیبلشمنٹ شاید کبھی خوش نہ تھی مگر انکی شاہانہ مفاہمت سے فیضیاب ہونے کے باعث پانچ سال پورے ہوئے۔ عمران خان پر جنرل پاشا کی مہربانیوں اور اسٹیبلشمنٹ سے قربتوں کے الزامات و انکشافات ماضی، حال سے مستقبل کی جانب گامزن ہیں۔ مجھے نہیں پتہ باقی ممالک میں اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے یا نہیں، شاید ہوتی ہی ہوگی، مگر یہ یقین ضرور ہے کہ اس طرح بچگانہ فیصلوں سے مذاق کا نشانہ نہ بنتی ہو گی۔ اسحاق ڈار جیسے معاشی ملزم کو وطن واپس لانا ضروری مگر غداری کیس کے ملزم جنرل پرویز مشرف کا بیرون ملک ٹھہرنا قومی مفاد ہے۔ نااہل نواز اور شہباز شریف پارٹی کی نمائندگی جرم اور جہانگیر کی درست ترین، سرکاری ٹی وی پر حملہ اور پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو کو زدوکوب کرنے کے مناظر دنیا بھر نے دیکھے، ملزمان کون اور کہاں؟ سینیٹر اعظم سواتی کے اہلخانہ کا جھگی نشینوں پر حملہ، مگر دوبارہ وزیر اب کیا تفصیل میں جائوں آپ کو سب پتہ ہے۔
خیر اب تو معاملہ غداری و وفاداری سے کہیں آگے نکل کر وڈیو در وڈیو کے مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ قومی سلامتی کا تقاضہ ہے کہ وڈیوز کو سر تا پا عوامی حافظے سے مٹا دیا جائے خواہ حقائق کتنے ہی شرمناک کیوں نہ ہوں؟  کیا آپ کو نہیں لگتا کہ کہ اسٹیبلشمنٹ نے نصف صدی میں کچھ نہ سیکھا۔

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں