07:16 am
برہان وانی شہید کا مشن زندہ ہے

برہان وانی شہید کا مشن زندہ ہے

07:16 am

 آج سے تین برس قبل 8جولائی2016 کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد لوگ گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ عید الفطر کے بعدکافی چہل پہل تھی ۔ مطلع ابر آلود تھا۔ایک خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام کوکر ناگ کے بمڈورہ گائوں کابھارتی فوج اور پولیس ٹاسک فورس نے اچانک کریک ڈائون کر لیا ۔ فورسز نے گائوں کو محاصرہ میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ ایک رہائشی مکان پر فورسز نے اندھا دھند گولہ باری کی ۔کشمیر میں بھارتی فوج کے، محاصرے،  چھاپے اور تلاشی آپریشن 1990سے کریک ڈائون کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آج تک کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں کریک ڈائون ہو چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی گھرکئی کئی بارقابض فورسز کے آپریشن اور توڑ پھوڑ سے بچا ہو۔کوکر ناگ آپریشن کا اس لئے چرچا ہو اکہ اس کا نشانہ ایک ایسا مجاہد نوجوان اور اس کا گروپ تھا، جس نے وادی میں مسلح جدوجہدکی پہچان ہی بدل ڈالی۔ اسے نوجوان اپنا رول ماڈل قرار دینے لگے۔آج کی سائبر ایج میںوہ پوسٹر بوائے کے طور پر شہرت پارہا تھا۔یہ برہان وانی تھا۔جو اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ اس مکان میں موجود تھا۔ جہاں سے فورسز پر لگاتار فائرنگ ہو رہی تھی۔ علاقہ میں برہان وانی کی موجودگی کی اطلاع پھیلی تو لوگ جوق در جوق گائوں کی جانب بڑھنے لگے۔ جھڑپ جاری تھی۔عوام نے فورسز  کو گھیر کر اس پر پتھرائو شروع  کر دیا۔لوگ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بلا خو ف و خطر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔لوگ برہان وانی کو کسی بھی صورت میں بچانے کے آرزومند تھے۔
 
کون جانتا تھا کہ آج برہان وانی نے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو جانا ہے۔دو گھنٹے کی اس معرکہ آرائی میں برہان وانی اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔جدوجہد کا ایک نیا باب برہان کی شہادت کے ساتھ ہی بند ہو گیا اورمزاحمت کاایک نیا باب کھل گیا۔آج کشمیری برہان کی یوم شہادت کویوم مزاحمت  کے طور پر منا رہے ہیں۔شاید اس شہادت کے بعد سے کشمیر میں جہاں بھی بھارتی فورسز کے ساتھ معرکے ہوتے ہیں تو لوگ ہزاروں کی تعداد میں جھڑپ کے مقام پر پہنچ کر فورسز پر چاروں اطراف سے پتھرائو شروع کر دیتے ہیں۔ عوام کے اس نئے رحجان کے بعد سے کئی معرکوں میں مجاہدین قابض فورسز کا محاصرہ توڑ کر نکل گئے۔ اب یہ کشمیر میں روایت بن چکی ہے۔ کشمیری نڈر بن چکے ہیں۔بھارتی فورسزنہتے عوام کو انتقامی کارروائیوں میں شہید کر  رہے ہیں،جو مجاہدین سے یک جہتی کے لئے علاقے میں پہنچ کر پتھرائو کرتے ہیں بلکہ فورسز راہگیروں اور کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو بھی عتاب اور انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
برہان وانی نے صرف  15 سال کی عمر میں بندوق اٹھا ئی۔ یہ 2010کا دور تھا۔ جب کشمیر میں بھارت کے خلاف مزاحمت کو نئی جہت ملی تھی۔ نوجوان پتھروں اور ڈنڈوں سے فورسز پر حملے کر رہے تھے۔ تقریباًً 120نوجوان قابض فورسز کی گولیوں سے شہید ہو گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ برہان اکیلا 2010کی پیداوار نہیں۔ اس جیسے لاتعداد نوجوان اس کی صفوں میں شامل تھے۔ انہوں نے اپنا ایک گروپ بنایا۔ پہلی بار انھوں نے گوریلا جنگ کے اصول ایک طرف رکھ دیئے۔ چہرے سے نقاب اتار دیا۔ فوجی وردی، بکتر بند گول ٹوپی، ہاتھوں میں کلاشنکوف اٹھائے یہ نوجوا ن کم وقت میں وادی اور اس سے باہر شہرت یافتہ بن گئے۔ کبھی یہ ایک شہر اور کبھی دوسرے سے اچانک نمودار ہو کر بھارتی فوج کے لئے دہشت کی علامت بن جاتے۔ سوشل میڈیا پر ان کے پیغامات آنے لگے۔ نوجوان ان کی صفوں میں شامل ہونے لگے۔ انھوں نے بھارتی فورسز کی نیندیں حرام کر دیں۔ اس دوران چھ سال کا عرصہ بیت گیا۔اس گروپ کے کئی کمانڈر شہید ہو گئے‘ مگر ان کی شہرت پر کوئی اثر نہ پڑا۔ وادی کے نوجوان ان کے دیوانے تھے۔ ان سے وہ ہمت اور نیا جذبہ پاتے تھے‘ کیو ں کہ اس گروپ کا لیڈر حزب المجاہدین کا نو عمر کمانڈربرہان تھا۔ 
برہان کون تھا۔ وہ کوئی دیومالائی داستان کا کردار نہیں‘ بلکہ ایک حقیقت بن کر میدان میں نمودار ہوا۔دنیاکشمیر کی مائوںپر فخرکرے گی جو برہان جیسے بیٹوں کو جنم دی رہی ہیں۔ یہ مسلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے میں ناکامی کی حقیقت ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی حقیقت۔ ترال کے ڈاڈسر، شریف آباد گائوں کا برہان ایک ہیرو تھا۔ اس کی بہادری اور شجاعت نے اسے ہیرو بنایا۔بھارت اس کے سر پر دس لاکھ روپے (18) لاکھ پاکستانی روپے کا انعام رکھنے پر مجبور ہوا‘کیوں کہ اس کے بارے میں کسی طرف سے کوئی اطلاع نہیں آ رہی تھی کہ وہ کب کہاں  بھارتی فورسزپر حملہ آور ہو گا۔ دسویں جماعت کے امتحان میں شامل ہونے کے فوری بعد وہ گھر سے نکل پڑا۔بھارتی مظالم نے اسے یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
آج کی نئی نسل بھارتی جارحیت کی چشم دید گواہ ہے۔ سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ 1931ء سے کشمیر کی پانچویں نسل یہ اس تحریک سے وابستہ ہو چکی ہے۔ آج کا نوجوان دلیل اور مشاہدہ پر یقین رکھتا ہے۔وہ دنیا بھر سے تبادلہ خیالات کر رہا ہے۔ اسے دھوکہ دینا اتنا آسان نہیں ہے۔  چھٹیوں میں طلباء کو خصوصی کورسز میں شامل کیا جاتا ہے‘ لیکن برہان نے اپنے لئے کورس کا انتخاب خود کیا۔ اس نے حزب المجاہدین میں شامل ہو کر جنگل کی راہ لی ۔ وہ اپنے شہداء کے مشن پر چل پڑا۔ اس کی آنکھوں میں قوم کی بے بسی تھی۔ انتقام کا جذبہ تھا۔2015میں برہان کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کو فورسز نے بے دردی سے شہید کردیا۔ جو پوسٹ گریجویٹ طالب علم تھا۔ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ برہان سے ملاقات کے لئے جنگل کی طرف جارہا تھا۔ فوجیوں نے اسے گرفتار کیا۔ برہان کا بھائی ہونے پر اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا  اور زیر حراست ٹارچر کرتے ہوئے اسے بے دردی سے شہید کر دیا۔کشمیر میں بھارتی فورسز نے ہمیشہ اسی پالیسی پر عمل کیا۔ ہمیشہ یہی پالیسی اختیار کی۔ بھائی کے بدلے بھائی اور بیٹے کے بدلے باپ کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ یا پابند سلاسل کر دیا۔ یہاں تک کہ خواتین اوربچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ بھارت کا کوئی پروفیشنل کریکٹر نہیں۔ وہ پر امن عوام پر ریاستی دہشت گردی آزماتا رہا ہے۔ 
بڑے بھائی کی فوج کی زیر حراست یوں بے دردانہ شہادت کے بعد فورسز پر برہان کے حملے تیز ہو گئے۔ایک نہتے اور غیر مسلح یونیورسٹی طالب علم کی شہادت پر برہان کے ساتھی بھی مشتعل تھے۔انھوں نے جگہ جگہ فورسز کے کیمپوں اور گشتی پارٹیوں پر پے در پے حملے تیز کر دیئے۔ فورسز نے اس گروپ کی گرفتاری کے لئے کئی آپریشن کئے‘لیکن وہ ناکام ہوئے‘کیوں کہ عوام ان کا بھر پور ساتھ دے رہے تھے۔مگر ایجنسیاں اس حد تک کامیاب ہوئیں کہ بعض لوگ برہان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے لگے۔سب اس گروپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر سر گرمیاں مشکوک تصور کرتے تھے۔کیوں کہ خود کو منظر عام پر یوں لانا گوریلا جنگ کے اصولوں کے بر خلاف سمجھا جاتا ہے۔اس جنگ میں دشمن پر گھات لگا کر اور چھپ چھپ کر وار کرنا ہی بہترین حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔
(جاری ہے)

Recommended Urdu news categories:

تازہ ترین خبریں