08:28 am
برہان وانی شہید کا مشن زندہ ہے

برہان وانی شہید کا مشن زندہ ہے

08:28 am

وہ اپنے شہداء کے مشن پر چل پڑا۔ اس کی آنکھوں میں قوم کی بے بسی تھی۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
وہ اپنے شہداء کے مشن پر چل پڑا۔ اس کی آنکھوں میں قوم کی بے بسی تھی۔ انتقام کا جذبہ تھا۔2015میں برہان کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کو فورسز نے بے دردی سے شہید کردیا۔ جو پوسٹ گریجویٹ طالب علم تھا۔ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ برہان سے ملاقات کے لئے جنگل کی طرف جارہا تھا۔ فوجیوں نے اسے گرفتار کیا۔ برہان کا بھائی ہونے پر اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا  اور زیر حراست ٹارچر کرتے ہوئے اسے بے دردی سے شہید کر دیا۔کشمیر میں بھارتی فورسز نے ہمیشہ اسی پالیسی پر عمل کیا۔ ہمیشہ یہی پالیسی اختیار کی۔ بھائی کے بدلے بھائی اور بیٹے کے بدلے باپ کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ یا پابند سلاسل کر دیا۔ یہاں تک کہ خواتین اوربچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ بھارت کا کوئی پروفیشنل کریکٹر نہیں۔ وہ پر امن عوام پر ریاستی دہشت گردی آزماتا رہا ہے۔
بڑے بھائی کی فوج کی زیر حراست یوں بے دردانہ شہادت کے بعد فورسز پر برہان کے حملے تیز ہو گئے۔ایک نہتے اور غیر مسلح یونیورسٹی طالب علم کی شہادت پر برہان کے ساتھی بھی مشتعل تھے۔انھوں نے جگہ جگہ فورسز کے کیمپوں اور گشتی پارٹیوں پر پے در پے حملے تیز کر دیئے۔ فورسز نے اس گروپ کی گرفتاری کے لئے کئی آپریشن کئے‘لیکن وہ ناکام ہوئے‘کیوں کہ عوام ان کا بھر پور ساتھ دے رہے تھے۔مگر ایجنسیاں اس حد تک کامیاب ہوئیں کہ بعض لوگ برہان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے لگے۔سب اس گروپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر سر گرمیاں مشکوک تصور کرتے تھے۔کیوں کہ خود کو منظر عام پر یوں لانا گوریلا جنگ کے اصولوں کے بر خلاف سمجھا جاتا ہے۔اس جنگ میں دشمن پر گھات لگا کر اور چھپ چھپ کر وار کرنا ہی بہترین حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔
 آج برہان گروپ کے بارے میں وہ سب لوگ افسوس کرتے ہوں گے۔ جو بھارتی پروپگنڈہ مشینری کی زد میں آ گئے تھے‘کیونکہ برہان نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے بھارتی فوج کے ساتھ لڑ کر شہادت کو ترجیح دی۔ برہان میںلوگ اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ رہے تھے‘مگر وہ کوکرناگ میں فوج اور ٹاسک فورس کے آپریشن میں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
برہان کے والد مظفر وانی ترال میں گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول (انٹر کالج)میں پرنسپل ہیں۔ انہیں فخر ہے کہ ان کے دو بیٹے اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں۔
برہان وانی جب سے بھارت کے خلاف مضبوط آواز بن کر ابھرے ہیں اور انھوں نے اپنا چہرہ چھپائے بغیر فوج پر مسلح حملوں کا اعلان کیا ۔ تب سے فورسز کے لئے مشکل میں اضافہ ہو رہا تھا۔ برہان گروپ کے تمام مجاہدین نے بھی نقاب اتار دیئے ہیں۔ وہ اسلحہ کی نمائش کرتے رہے۔ سوشل میڈیا کا انھوں نے کھل کر استعمال کیا ہے۔کوکر ناگ جھڑپ میں برہان وانی اپنے دو ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔ مگر ان کے ساتھ والہانہ عقیدت اور ان کی بہادری اور شجاعت کو سلام پیش کرنے لوگ لاکھوں کی تعداد میں ترال پہنچے ۔ خواتین نے ان کی شان میں لوک گیت ’’ ون ون‘‘گائے۔ مجاہدین نے انھیں گولیوں کی سلامی دی۔ اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے عوام نے وادی میں کرفیو توڑ دیئے۔ فوج پر حملے کئے۔ فوجی تنصیبات کو آگ لگا دی۔ بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کا کھل کر مظاہرہ کیا۔ تقریباً50 نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔وادی کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ نصف ماہ تک فورسز نے سخت کرفیو نافذ کئے رکھا۔ عوام نے کرفیو توڑ دیا ۔ بھارت کی عملداری کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ بھارت کشمیریوں کو معذور بنانے اور انھیں اندھا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو ا۔
بھارت صرف کشمیر میں مہلک اسلحہ اور زہریلی گیسیں استعمال کر رہا ہے‘جس کی وجہ سے لوگ جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج بن رہے ہیں۔بھارت کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم دنیا سے چھپا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے وادی سے شائع ہونے والے اخبارات پر پابندی لگا دی۔ اخبارات کے چھاپہ خانوں پر تالہ لگا دیئے اور اخباری کاپیاں ضبط کر لیں۔ کئی دنوں سے سرینگر کے اخبارات پر پابندی عائد رہی۔ بھارتی میڈیا نے اپنی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے قتل عام کا بلیک آئوٹ کیا۔ بھارتی میڈیا کی پالیسی جانبدارانہ اور کشمیر دشمنی پر مبنی ہے۔جو حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے۔ مقبوضہ ریاست میں انٹر نیٹ اور موبائل سروسز بھی نصف ماہ سے بند رہے۔ لوگ مایوس ہو کر ایک بار پھر بندوق کو ہی نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ وہ برہان کو اپنا ہیرو اور رول ماڈل مانتے ہیں۔ ایک برہان کی شہادت کے بعد کشمیر میں لا تعداد برہان پیدا ہو چکے ہیں۔
21سالہ برہان نے شروع میں منظر عام پر آتے ہی کشمیر میں ہندئوں کی امرناتھ یاترا پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیاکیونکہ کشمیری ہندئوں یا کسی بھی مذہب کے پیروکاروں پر حملے کرنے کے مخالف ہیں۔ وہ ہندئوں کی امر ناتھ یاترا یا کسی دیگر مذہبی تیوارکے مخالف نہیں۔ آج بھی یہ یاترا جاری ہے۔ جب وہ شہید ہوئے اس وقت بھی یاتراجاری تھی۔ کشمیری کبھی بھی غیر مسلموں کے مذہبی عقائد کے مخالف نہیں رہے۔لیکن بھارت نے اس یاترا کو سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ وہ جنوبی کشمیر میں ماحولیات کو تباہ کر رہا ہے۔ یاتریوں کے لئے کشمیریوں کی اراضی پر ناجائز قبضہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں پر تعمیرات ہو رہی ہیں۔جبکہ کشمیری مجاہدین نے مقبوضہ ریاست میں پنڈت ہندئوں کا تحفظ یقینی بنانے میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ بزرگ پنڈتوں کی آخری رسومات بھی مسلم آبادی انجام دیتی ہے جبکہ ان کے نوجوان بچے بھارت کی شے پر دنیا بھر میں کشمیریوں کے خلاف پروپگنڈہ مہم چلا رہے ہیں۔زیادہ تر پنڈت آبادی کو گورنر جگ موہن نے کشمیریوں کی نسل کشی کرانے کے لئے کشمیر سے فرار کرایا۔ راتوں رات لاکھوں پنڈت وادی سے جموں اور بھارت کے شہروں میں چلے گئے۔ انھوں نے کشمیر میں اپنے مکانات اور جائیدادیں فروخت کر دیں۔اب وہ کہتے ہیں کہ ان سے کشمیری مسلمانوں نے زبردستی جائیدادیں چھین لیں۔ یہ انتہائی گمراہ کن اور جھوٹا پروپگنڈہ ہے۔اس کے باوجود کشمیر میں موجود پنڈتوں کی حمایت میں مجاہدین نے خود کو پیش کیا۔برہان بھی عوام کی طرح کشمیر میںبھارت کی طرف سے الگ فوجی یا سینک بستیوں اور پنڈتوں کے لئے رہائشی کالونیوں کی تعمیر کی سختی سے مخالفت کر رہے تھے۔ کشمیری وادی سے فرار ہونے والے پنڈتوں کی واپسی کے حق میں ہیں۔ لیکن وہ واپس آ کر اپنے گھروں میں رہ سکتے ہیں۔ ان کے لئے اسرائیل طرز پر الگ بستیاں قائم کرنے کا مقصد جدوجید آزاد ی کو کچلنے اور تقسیم کشمیر کی سازش ہے۔بھارت کی تمام سازشیں عوام نے ناکام بنائی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد نفرت اور تعصب پر کھڑی کی گئی ہیں۔بھارتی فوج میں ہندو انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کا غلبہ ہو رہا ہے جو کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے قتل عام کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری مایوس ہو کر بندوق کی طرف رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ عوام نے ہی کشمیر میں برہان اور ان کی سوچ کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
برہان شہید ہو گئے مگر ان کا مشن ، ان کی سوچ زندہ ہے۔ کشمیری بھارتی فورسز کے بدترین مظالم کے باوجود سینہ سپر ہیں۔ وہ آزادی کی جدوجہد سے دست کش ہونے پر تیار نہیں۔ دنیا کشمیر میں کشیدہ حالات سے بے خبر ہے۔ کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام رائے شماری کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے بھارت مظالم اور بدترین تشدد کا سہارا لے رہا ہے۔ مگر وہ تمام حربے بروئے کار لانے کے باوجود آزادی کی جدوجہد کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔کشمیر کی نئی نسل بلا شبہ دلیر اور بہادر ہے۔ اسے کوئی ڈر و خوف نہیں۔ تا ہم اسے انتہائی دانائی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی ریاستی دہشتگردی اور نسل کشی پالیسی کا مقابلہ کرنا ہے تا کہ نئے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔جذبات اور جوش اپنی جگہ مگر کشمیری قوم کو متحد اور متفق ہو کر فراخدلی کا مظاہرہ کرنا ہے، جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کے بارے میں سر جوڑ کر بیٹھنا ہے۔اس کے لئے قیادت کا امتحان اور قربانی و ایثار کا مزیدمظاہرہ وقت کا تقاضا ہے۔

 




 

تازہ ترین خبریں