08:30 am
تاریخ اسلام کا عظیم معرکہ’’غزوہ خندق‘‘

تاریخ اسلام کا عظیم معرکہ’’غزوہ خندق‘‘

08:30 am

آپﷺ نے فرمایا: مجھ کو ملک فارس کی کنجیاںدی گئیں۔ تیسری ضرب میں پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
 آپﷺ نے فرمایا: مجھ کو ملک فارس کی کنجیاںدی گئیں۔ تیسری ضرب میں پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اور اسی طرح روشنی نکلی۔اﷲ اکبرکا نعرۂ بلند ہوا۔ اور آپﷺ نے فرمایا:مجھ کویمن کی کنجیاںدی گئیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: مجھے جبرئیل امین علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ یہ تمام ملک تمہاری امت کے قبضے میں آجائیں گے، اس جگہ غور کرنا چاہئے کہ دس ہزار سے زائد کفار کے جرار لشکر کے مقابلے میں مٹھی بھر مسلمان اپنے حفاظت اور جان بچانے کی تدبیروں میں مصروف ہیں، تمام ملک عرب دشمنی پرتلا ہوا اور خون کا پیاسا ہے۔ بظاہر بربادی پیش نظر ہے لیکن ایران ، روم اور یمن کے ملکوں کی سلطنتوں کی فتح کی خوشخبری سنائی جار ہی ہے۔ یہ کام اﷲ کے سوا کسی کا نہیں ہو سکتا اور اﷲ کے سوا کوئی ایسی خبر نہیں دے سکتا۔
اسی حالت میں آپﷺ کو خبرملی کہ بنو قریظہ کے سردارکعب بن اسید نے بھی مسلمانوں کے خلاف حملہ آوروں سے معاہدہ کر لیا ہے۔۔۔ اور حیی بن اخطب بنی قریظہ کے قلعہ میں دوستانہ داخل ہو کر ان کو بغاوت پر ابھار رہا ہے۔ آپ ﷺ نے تحقیق حال نیز ہدایت و نصیحت کے لئے حضرت سعد بن معاذؓ اور حضرت سعد بن عبیدؓ کو بنی قریظہ کے پاس بھیجا۔ اور ان دونوں بزرگوں نے ہر چند ان کو سمجھایا۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ بنی قریظہ نے نہایت ترش روئی سے جواب دیا کہ ہم محمد ﷺ  کو نہیں جانتے اور نہ ان سے ہمارا کوئی معاہدہ ہے۔
لشکر کفار جب خندق کے سامنے آیا تو خندق کو دیکھ کر بہت متعجب اور حیران ہوا۔ کیونکہ اس سے پیشتر عربوں نے اس قسم کی خندق نہ دیکھی تھی۔ کفار کے ٹڈی دل لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ حملہ کفار کی طاقت و شوکت کا انتہائی مظہر اور اسلام کے مقابلے میں کفر کی گویا سب سے بڑی کوشش تھی۔ مسلمانوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کومدینہ کی ایک خاص گڑھی میں حفاظت کی غرض سے جمع کر دیا تھا۔ یہودیوں کی طرف سے کہ جو مدینے کے اندر ہی تھے حملہ کا ہروقت خوف تھا۔ ادھر منافقین کی طرف سے بھی جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے ، سخت خطرہ تھا۔ کفار کی طرف سے کئی مرتبہ خندق کو عبور کرنے کی کوشش ہوئی۔ مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ ایک مرتبہ دو تین کافر ایک مقام سے جہاں خندق کی چوڑائی کچھ قدم کم تھی، گھوڑا کود کر اندر آگئے ان میں ایک کافر عمرو بن عبد، دو ہزار کے برابر سمجھا جاتا تھا اور ملک عرب کا مشہور بہادر تھا اس کوحضرت علیؓ نے قتل کر دیا۔ باقی بھاگ گئے۔ صبح سے شام تک تیروں کے ذریعے لڑائی ہوتی تھی۔ مسلمان بھی کفار کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے تھے۔یہ حالت قریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ دشمنوں کا محاصرہ نہایت سخت تھا۔ ان کو باہر سے ہر قسم کی امداد تواتر کے ساتھ پہنچ رہی تھی۔ نہ سامان رسد کی ان کیلئے کوئی کمی تھی، نہ ان کی جمعیت میں کوئی کمی تھی مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ سامان رسد کہیں سے میسر نہ آسکتا تھا۔۔۔ فاقوں پر فاقے کئے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک صحابیؓ نے بھوک کی شکایت کی اور کرتہ اٹھا کر دکھایا کہ پیٹ پر پتھر باندھ رکھا ہے، تاکہ فاقہ کی وجہ سے کمر جھکنے نہ پائے آپﷺ نے اپنا کرتہ اٹھا کر دکھایا تو دو پتھر پیٹ پر باندھے ہوئے تھے۔
رات کو چونکہ خندق کی حفاظت کرنا ضروری تھا، لہٰذا رات بھر سب  صحابہ ؓ کو میدان میں بیدار رہنا، دن بھر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا، معصب بن قشیر ایک منافق نے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ محمدﷺ شام، ایران اور یمن کے ملکوں کی حکومت اپنے دوستوں کو دے رہے ہیں۔ لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہ مدینہ کے اندر بھی اب نہیںرہ سکتے۔ بعض کہتے تھے کہ گھر سے باہر نکل کر پاخانہ پھرنے کیلئے تو جا نہیں سکتے مگر قیصر و کسریٰ کے ملکوں کا خواب دیکھ رہے ہیں، غرض منافقوں کے طعنے، رات کو اوس، دن کی دھوپ، بھوک، کفار کا مقابلہ، بنی قریظہ کا اندیشہ، منافقوں کا خطرہ، کفار کی کثرت، مسلمانوں کی قلت، ان تمام حالات میں مسلمانوں نے جس عزوہمت اور ثابت قدمی کا نمونہ دکھایا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں نے جب ان کے سامنے ایسی تجویز پیش ہوئی کہ دب کر صلح کر لیں صاف انکار کر دیا۔ اس حالت میں بھی سعید روحیں کھنچ کھنچ کر اسلام میں داخل ہوتی ہیں چنانچہ ایک شخص نعیم بن مسعود بن عامر قبیلہ غطفان کے لشکر سے نکل کر آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد عرض کیا کہ بنو قریظہ اور لشکر کفار میں پھوٹ ڈلوائے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ اول بنو قریظہ کے پاس گئے پھر ابو سفیان کے پاس گئے اور ایسی باتیں کیں جس سے بنو قریظہ اور قریش دونوں ایک دوسرے سے اپنا اپنا اطمینان چاہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنو قریظہ کفار سے حسب منشاء اعلانیہ کوئی جنگ کرنے سے باز رہے۔ حضرت نعیم بن مسعودؓ نے دونوں جگہ اپنے مسلمان کو ہونے کا اعلان نہیںکیا تھا۔ اس لئے ان کی باتیں طرفین کیلئے قابل توجہ ہوئیں۔
جب محاصرہ کو ستائیس روز گزر گئے تو ایک روز رات کو تیز و تند ہوا چلی۔ خیموں کی میخیں اکھڑ گئیں۔ چولہوں پر دیگچیاں گر گئیں۔ وارسلنا علیھم ریحا و جنودا لم تروھا (ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایک ایسا لشکر بھیجا جس کو وہ نہیں دیکھ سکتے تھے) اس ہوا اور جھکڑ نے بڑا کام کیا۔ جابجا ڈیروں میں آگ گل ہوگئی۔ مشرکوں نے آگ بجھنے کو بدشگونی سمجھا اور راتوں رات اپنے خیمے اٹھا کر فرارہو گئے۔
( جاری ہے )

 

تازہ ترین خبریں