08:31 am
 نہروکےنظریاتی فرزند

نہروکےنظریاتی فرزند

08:31 am

 حالیہ الیکشن میں بری طرح شکست کھانے والے سیاست دان محمود خان اچکزئی گاہے بگاہے افغانستان کے حوالے سے متنازعہ بیانات دینے کے عادی ہیں ۔ متنازعہ کا لفظ درست مفہوم اجاگر نہیں کرتا ! یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ موصوف اُلٹے سیدھے بیانات داغنے کے عادی ہیں۔ پشتونستان کی باسی کڑہی میں اُبال دینا موصوف کا پرانا مشغلہ ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ جناب پشتونوں کے قائد ہیں ! نظریات کی گہرائی کا یہ عالم ہے کہ موصوف پاک افغان سرحد کو تسلیم نہیں کرتے ، ماضی میں اپنے کارکنوں کو افغان شہریت لینے کی نصیحت بھی فرمائی تھی اور اب تازہ فرمان بھی یہی جاری کیا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبہ افغانستان کا ہے ۔ باقی باتیں بعد میں پہلے اس بیان پہ حسب مزاج یا تو ہنس لیں یا پھر رو لیں ! لگ بھگ ڈھائی تین کروڑ آبادی والا صوبہ خیبرپختونخوا جس کی قومی اسمبلی میں ساٹھ نشستیں ہیں ، سینیٹ میں تئیس اراکین بیٹھے ہیں اور صوبائی اسمبلی ایک سو چوبیس اراکین پر ہے۔ حیرت ہے کہ ان منتخب اراکین اور صوبے کے کروڑوں عوام کو آج تک یہ علم ہی نہیں تھا کہ وہ افغانستان کا حصہ ہیں ؟ پورا صوبہ یوم تشکر منائے ! پشتون قوم رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کہ بالآخر قدرت کو رحم آیا اور اُس نے اک مرد دانا پر یہ راز آشکار کیا ۔
 یہ بھی قدرت کی نشانیوں میں سے اک عجب نشانی ہے کہ جس شخص کی لولی لنگڑی سیاست کا مرکز بلوچستان کے پشتون قبائلی علاقے رہے ہیں اور جو اپنی جماعت کے جھنڈے تلے خیبر پختونخوا میں ایک کونسلر کی نشست نہیں جیت سکتا وہ آج بتا رہا ہے کہ یہ صوبہ تو ملک کا حصہ ہی نہیں ہے۔ امید ہے لسانی سیاست کے پیشوا اچکزئی صاحب جلد ہی قوم کی راہنمائی فرمائیں گے کہ پاکستان کی پارلیمان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے اراکین کی حیثیت کیا ہے؟ آئین پاکستان کے تحت اٹھائے گئے حلف کی کیا حیثیت ہے؟ قبلہ اچکزئی صاحب بمعہ جملہ اہل خانہ پارلیمان کا حصہ بھی رہے اور اُن کے پیروکار جو کہ زیادہ تر رشتہ دار ہی تھے سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے۔ سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے متعلق یہ خیال اس وقت کیوں نہ آیا ؟ جس آئین پر اچکزئی حلف اُٹھا کر ماضی میں پارلیمان کا حصہ رہے اُسی آئین کے تحت خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ ہے۔ اچکزئی کے سیاسی نظریات باطل ہیں یا آئین میں درج پاکستان کی جغرافیائی حدود غلط ہیں ؟ اچکزئی اور اُن کے نظریاتی پیروکاروں کے ذمہ اس سوال کا جواب اک قرض ہے۔ کیا اچکزئی ایسے آئین پر حلف اُٹھاتے رہے ہیں جس پر وہ یقین ہی نہیں رکھتے ؟ کیا وہ خود اور اُن کی جماعت کے سرکاری عہدوں پر فائز خواتین و حضرات اس ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر یقین نہیں رکھتے ؟ کبھی پارلیمان میں کھڑے ہو کر یہ ارشاد فرماتے کہ خیبر پختونخوا چونکہ افغانستان کا حصہ ہے لہٰذا میں اس ناانصافی کی مرتکب ریاست کی پارلیمان سے استعفیٰ دے رہا ہوں! موصوف نے اپنے کارکنوں کو افغانستان کی شہریت لینے کی ترغیب دی تھی !
سوال یہ ہے کہ وہ خود اس مہم کی قیادت فرماتے ہوئے سب سے پہلے افغانستان کی شہریت کیوں نہیں حاصل کر لیتے ؟ بسم اﷲ فرمائیں ! ایک پریس کانفرنس منعقد کریں اور افغانستان کی شہریت لینے کا اعلان فرما کر اپنے پیروکاروں کے لیے مثال قائم کر دیں۔ کیمروں کی چکا چوند میں افغان سفارت خانے میں شہریت کے حصول کی درخواست جمع کروا دیں ۔ ہمیں یقین ہے افغان حکومت ترنت جناب کو شہریت عنایت فرماتے ہوئے بطور ہدیہ تشکر اعلیٰ ترین شہری اعزاز یا کوئی تمغہ بھی عطا فرمائے گی‘ لیکن ہمیں یقین ہے کہ موصوف کبھی ایسا نہیں کریں گے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ افغانستان کی شہریت لے لی تو پھر پاکستان کی شہریت پارلیمان میں جانے کے لیے کام نہیں آئے گی ۔ سیاست کی دال روٹی چلانے کے لیے پشتونوں کو افغانستان کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والوں کو پارلیمان کی ممبری اور سرکاری عہدوں کی مراعات سے لطف اندوز ہونے کے لیے پاکستان بھی درکار ہے۔ کیا مقدر ہیں پاکستان کے؟ اس ملک کے قانون ساز اداروں میں بیٹھنے والے ہی جغرافیائی سرحدوں پر یقین نہیں رکھتے ۔
دراصل یہ تنازعہ جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ رنگ ، نسل ، زبان کی نفی کرکے کلمے کی بنیادپر کروڑوں مسلمانوں کو اسلام کی تسبیح میں پرونے والا ملک مذہب بیزاروں کی آنکھ میں روز اول سے کھٹکتا ہے۔ لسانی تعصب کے ہتھیار سے ہی ایک بازو قلم کیا گیا تھا ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ جناح اور اقبال کے پاکستان کو رنگ ، نسل ، علاقے اور زبان کی بنیاد پہ تقسیم کرنے کا سپنا نہرو اور اُس کے سیاسی فرزند مدتوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ قیام پاکستان سے ستر کی دہائی کے ابتدائی حصے تک افغانستان سے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے سازشیں گھڑی جاتی رہیں ! دہشت گرد تیار کیے جاتے رہے! را ‘اور کے جی بی کے اشتراک سے ہر افغان حکومت پاکستان کا وجود مٹانے کے درپے رہی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
 قبلہ اچکزئی نے تو صرف خیبر پختونخوا کو پاکستان سے جدا کرنے کی بات کی ہے۔ اُن کے نظریاتی رفیق تو بلوچستان اور سندھ کے متعلق بھی ایسے ہی ارادے باندھے بیٹھے ہیں ۔ پنجاب بھی اپنی خیر منائے ! نہرو کے نظریاتی فرزند جب رنجیت سنگھ کے مجسمے کے صدقے واری جاتے ہیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ آنے والے کل میں یہ بھی گریٹر پنجاب کا شوشا چھوڑ کے جناح اور اقبال کے پاکستان پر وار کریں گے۔ کاش کوئی پختون اچکزئی صاحب سے یہ دریافت کرے کہ وہ خیبر پختونخوا کو اُسی افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا صدر چند روز قبل اپنی عرضی اور دکھڑے لے کے امریکہ کے غیر اعلانیہ ایلچی کی حیثیت سے پاکستان آیا ہوا تھا ؟ یا اچکزئی کا افغانستان کرہ ارض کے کسی ایسے نامعلوم مقام پر واقع ہوا ہے جس کا علم اُن کے سوا کسی اور کو نہیں ! اچکزئی کوئی عقل کو ہاتھ ماریں!

 



 

تازہ ترین خبریں