08:33 am
مریم کی ویڈیو، جج کی تردید، اہم سوالات

مریم کی ویڈیو، جج کی تردید، اہم سوالات

08:33 am

٭نیا طوفان، بحران، ہیجان! مریم نواز کے احتساب جج محمد ارشد ملک کے خلاف سنسنی خیز الزامات، احتساب جج کا پریس ریلیز، مریم کا مزید الزام! الزامات،
٭نیا طوفان، بحران، ہیجان! مریم نواز کے احتساب جج محمد ارشد ملک کے خلاف سنسنی خیز الزامات، احتساب جج کا پریس ریلیز، مریم کا مزید الزام! الزامات، جوابی الزامات اور مزید الزامات کے شور شرابے میںبہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ دونوں فریقوں کے حامیوں اور مخالفین کی ایک دوسرے کے خلاف نئے نئے الزامات کی گولہ باری سے ساری صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ آیئے ترتیب کے ساتھ درجہ وار مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
-1ججوں کا ضابطہ اخلاق: یہ ضابطہ باقاعدہ سپریم کورٹ کا جاری کردہ ہے۔ اس کے مطابق عدلیہ کا جج مقرر ہونے کے بعد اس کی پرائیویٹ زندگی بہت محدود ہو جاتی ہے۔ اسے عام نوعیت کی محفلوں اور تقریبات سے گریز کرنا پڑتا ہے۔ کسی کی نجی ضیافت یا تقریب میں نہیں جانا چاہئے۔ صرف گھر کے نزدیکی خونی رشتہ داروں، والدین، بچوں کے سوا کسی سے کسی قسم کا کوئی تحفہ نہیں لے سکتے۔ اہم ترین بات یہ کہ کسی گھریلو یا باہر کے افراد سے اپنے کسی فیصلے یا زیر سماعت کیس پر کسی قسم کی بات چیت سختی سے ممنوع ہے۔ سندھ چیف کورٹ (اب ہائی کورٹ) کے ایک جج جسٹس رچمنڈ نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنی منگیتر کے ساتھ منگنی یہ کہہ کر توڑ دی کہ منگنی اور شادی کے بعد تمہارے خاندان کے میرے ساتھ روابط اور میل جول سے میری عدالتی پوزیشن اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج مری میں سرعام بچوں کے ساتھ آئس کریم کھاتے پائے گئے تو چیف جسٹس نے انہیں خبردار کیا کہ ان کا عمل ججوں کے ضابطہ اخلاق کے وقار کے مطابق نہیں تھا۔ اس ضابطہ کے مطابق عدالت میں جج مشتعل نہیں ہو سکتا، کسی کو غصہ میں مخاطب نہیں کر سکتا، بلند قہقہہ نہیں لگا سکتا، کسی وکیل یا سائل کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ اسے باوقار انداز سے نہائت ٹھنڈے اور نرم مزاج کے ساتھ عدالتی کارروائی انجام دینی چاہئے۔
-2 عدلیہ کا احترام: عدلیہ کسی بھی ملک میں عدل وانصاف کی فراہمی اور آئین اور رائج قانون کے تحفظ کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ اس کی اس حیثیت اور وقار کا مکمل احترام اور اس سلسلے میں مروج ضابطوں، قوانین اور روایات کو ملحفوظ رکھنا نہائت ضروری ہے۔ عدالت میں جج کے سامنے اونچا نہیں بول سکتے، نامناسب لباس کے ساتھ پیش نہیں ہو سکتے، گفتگو میں نامناسب الفاظ استعمال نہیں کر سکتے، عدالت کے اندر کچھ کھا پی نہیں سکتے، سگریٹ نہیں پی سکتے، مخالف فریق کے ساتھ الجھنے کی اجازت نہیں۔ جج پر کوئی الزام نہیں لگا سکتے۔ عدالت سے مخاطب ہوتے وقت نرم آواز اور شائستہ انداز سے بات کرنی چاہئے۔ بہت اہم بات کہ جج کا فیصلہ اس کا ذاتی نہیں، عدالت کا فیصلہ قرار پاتا ہے، جج اس کی ذاتی تشریح نہیں کر سکتا۔
-3 اب مریم نواز کی ویڈیو اور پریس کانفرنس: پہلی بات تو یہ ہے کہ مریم نواز نے عملی طور پر ن لیگ کی مکمل قیادت سنبھال لی ہے۔ ویڈیو کے بارے میں انہوں نے جو پریس کانفرنس کی اس میں ن لیگ کے منتخب صدر شہباز شریف، خواجہ آصف، پرویز رشید اور پارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما بھی موجوداور بالکل خاموش تھے۔ شہباز شریف نے عام رسمی باتیں کیں۔ صحافی اٹھنے لگے تو مریم نواز نے انہیں روک لیا کہ ایک اعلان کر رہی ہوں۔ اس کے بعد اس نے ایک ویڈیو لہرائی اور احتساب جج ملک محمد ارشد کے خلاف سنسنی خیز الزامات عائد کر دیئے۔ ان کی تفصیل ٹیلی ویژنوں اور اخبارات میں چھپ چکی ہے۔ یہاں صرف اس ویڈیو پر پیدا ہونے والے بعض سوالات اور اعتراضات پیش کئے جا رہے ہیں، نوازشریف کو جج محمد ارشد نے تقریباً آٹھ ماہ پہلے ساڑھے سات سال قید اور بھاری جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ مریم نواز کے مطابق اس کے کچھ عرصہ کے بعد جج نے مبینہ طور پر دیرینہ شناسا ناصر بٹ کو گھر بلا کر اپنے فیصلے پر دکھ اور پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کئی ماہ پہلے بننے والی یہ ویڈیو اتنا عرصہ چھپی کیوں رہی؟ اس ویڈیو کے بارے میں پارٹی کے صدر اور نوازشریف کے سگے بھائی شہباز شریف کو کیوں نہ بتایا گیا؟ پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی خاص انداز میں خاموشی اور چہرے کی ناگوار کیفیت کیا بیان کر رہی تھی؟ اہم بات یہ ہے کہ ویڈیو کی الگ الگ دو مقامات پر خفیہ ریکارڈنگ کس نے اور کیسے کی؟ کیا ناصر بٹ کیمرہ لے کر گیا تھا؟ دوسری جگہ ریکارڈنگ کیسے ہوئی؟ ملک کے قانون کے مطابق کسی بھی ذاتی زندگی اور چادر و چار دیواری میں کسی قسم کی ناجائز مداخلت سخت جرم قرار پاتی ہے۔ جج صاحب نے اگر ناصر بٹ کو بلایا تھا تو کیا اس نے ریکارڈنگ کا اہتمام کیا؟ کیا جج نے خود ان باتوں کی تشہیر کا  انتظام کیا؟ کیا جج صاحب پریشان تھے تو انہیں ججوں کے ضابطہ اخلاق سے لاعلم تھے؟ وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسی باتوں کے منظر پر آنے سے ان کی عدالتی زندگی اور پوری عدلیہ پر کیا ناگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اہم بات کہ جج صاحب کو فیصلہ سنانے کے فوراً بعد اپنے ذہن کی پریشانی کا اظہار کرنا چاہئے تھا۔ وہ اتنا عرصہ خاموش اور پرسکون کیوں رہے؟ اطمینان کے ساتھ عدالتی امور انجام دیتے رہے۔ اب بھی ان کی عدالت میں ایک سابق صدر، تین سابق وزرائے اعظم اور دوسرے اہم افراد کے کیس چل رہے ہیں۔ اس کالم کی تحریر کے وقت بھی وہ جعلی اکائونٹس کا کیس سن رہے تھے! اب رہا مریم نواز کا رویہ اور الزامات: ملک کی تاریخ میں کبھی اس طرح کسی حاضر سروس جج اور اس کے کسی فیصلے کے بارے میں اس قدر توہین آمیز باتیں نہیں کہی گئیں۔ مریم نواز نے کہا تھا کہ میں نوازشریف کی رہائی کے لئے آخری حد تک جائوں گی (کسی خاتون کے لئے نامناسب الفاظ!) اور پھرویڈیو کی بات کرتے ہوئے کہ میں آخری حد تک چلی گئی ہوں مگر ابھی کچھ اور ویڈیوز بھی ہیں! مریم نواز کی ویڈیو کا مسئلہ اپنی جگہ مگر اس نے دوسرا اعلان کر دیا ہے کہ جج محمد ارشد صاحب کی پریس ریلیز بھی ان کی اپنی نہیں، باہر سے آئی ہے اس پر جج صاحب نے صرف دستخط کئے ہیں! یک نہ شُد دو شُد!
-4جج صاحب کی پریس ریلیز: جج صاحب نے مریم نواز کے تمام الزامات کی واضح تردید کی ہے اور انہیں غلط، بے بنیاد اور سیاسی سازش قرار دیا ہے۔ اس سے مریم نواز والی ویڈیو تو بے اثر ہو جاتی ہے مگر کچھ دوسرے سوالات پیدا ہو رہے ہیں یہ کہ پریس ریلیز میں ناصر بٹ سے ملاقات کا واضح انکار نہیں کیا گیا۔ دھمکیوں اور رشوت کی باتیں کہی گئی ہیں مگر دھمکیاں اور رشوت دینے والوں کے نام نہیں دیئے گئے! یہ نام سامنے آنے چاہئیں! جج صاحب کو ان دھمکیوں اور رشوت کی پیش کش پر فوری ایکشن لینا چاہئے تھا اور انہیں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے نوٹس میں لانا چاہئے تھا مگر ظاہر نہیں ہوتا کہ ایسا ہوا ہے۔
٭قارئین کرام! ویڈیو صحیح یا غلط، صورت حال سنگین شکل اختیار کر رہی ہے۔ ویڈیو صحیح ہونے پر جج صاحب کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا اور غلط ثابت ہونے پر مریم نواز کو اپنے خلاف سخت کارروائی کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ صرف توہین عدالت ہی نہیں، چار دیواری کے تقدس اور کسی کی ذاتی زندگی میں شر انگیز مداخلت کی سزائیں بہت سخت ہیں جب کہ وہ پہلے ہی جیل سے ضمانت پر رہا ہو کر آئی ہیں۔ وہ اپنے والد کی رہائی کی خاطر گفتگو کے آداب کی تمام حدود عبور کر رہی ہیں، کھلم کھلا گالیوں پر اتر آئی ہیں، پارٹی کے عہدیداروں کو سرعام نظرانداز کر رہی ہیں۔ خواتین کے لئے نامناسب مردانہ جملے بولتی جا رہی ہیں۔ ان باتوںکا کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ اپنے خلاف سخت تعزیری کارروائیاں اور جیل میں نوازشریف کو مزید پریشان کن حالات کا سامنا!
٭محترم قارئین! سارا کالم ایک ہی موضوع پر ختم ہو گیا۔ اہم باتیں رہ گئیں۔ رانا ثناء اللہ کے خلاف نئے انکشافات، جمشید دستی اور اس کی پارٹی کی ٹِنڈیں، بلاول کی تقریریں! وزیراعظم کو خوش کرنے کے لئے لاہور میانوالی ٹرین کا نام نیازی ایکسپریس! (اب مجبوراً میانوالی ایکسپریس) سینٹ کی رکن خاتون کے پاس سات کلو سے زیادہ سونا اور لندن میں 30 سال سے مقیم پیپلزپارٹی کے نظر انداز بھٹوکے اہم ساتھی امان اللہ خان کی اہم باتیں! کالم کی تھوڑی سی جگہ، اس کی بھی دُم کاٹنے والی ننھی منی قینچی! باقی باتیں پھر سہی!


 

تازہ ترین خبریں