07:22 am
 روحانی وجدانی وژن کا منظر  نامہ

 روحانی وجدانی وژن کا منظر  نامہ

07:22 am

6جولائی کو مریم صفدر اعوان نے احتساب جج کے حوالے سے اپنے چچا شہباز شریف  صدر مسلم لیگ‘ سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی‘ خواجہ آصف‘ احسن اقبال کے ہمراہ زلزلہ بپا کرتی جو پریس کانفرنس کی اس کے سبب مجھے لاہور میں مقیم روحانی و جدانی دوست اور اسلام آباد میں مقیم پروفیسر غنی جاوید ‘ بزرگ ماہر نجوم کی کہی ہوئی باتوں کی صداقت طلوع ہوتی نظر آئی ہے مجھے بزرگ ماہر نجوم نے کہا کہ 2جولائی سے ‘ جبکہ روحانی لاہوری دوست نے کہا تھا کہ 4جولائی سے مریم کی زندگی تبدیل ہو رہی ہے کہ وہ پہلے والی خاموش مریم نہ رہے گی۔ جو کچھ کرے گی وہ بہت شور پیدا کرے گا۔ چنانچہ مریم صفدر اعوان نے جو کچھ کرنا تھا اور بعدازاں منڈی بہائوالدین میں جو جلسہ عام کرنا تھا وہ ہوچکا ہے گزشتہ اتوار کی صبح مجھے بزرگ ماہر نجوم نے کہا کہ ایک ستارہ مریم کو مہیمز کر رہا ہے 20جولائی تک وہ اس کا مدد گار رہے گا۔  اکتوبر  تک وہ دلیر اور جرات مند دکھائی دے گی۔ جبکہ6جولائی کو جو کچھ مریم نے کیا ہے‘ اس کے اردگرد کے بظاہر مخلص ساتھی‘ رشتے دار ‘ معاونین اصل میں تو اسے ’’پھنسا‘‘ چکے ہیں اب مریم ایک سراب‘ فریب‘ دھوکہ میں اپنے ہی قریبی ساتھیوں  اور رشتہ داروں کے سبب آچکی ہے اس کا مریم کو نقصان اکتوبر میں ہوگا اور 19 جولائی کافی خراب ہے۔
نومبر‘ دسمبر میں ممکن ہے گھریلو اور نجی زندگی کی نئی الجھنیں بھی مریم کا سامنا کریں۔ میں نے مریم نواز کو مریم صفدر کیوں لکھا ہے؟ کیونکہ مریم نے کیپٹن صفدر سے شادی محبت کی بنیاد پر کی تھی اس کے والدین مدبر تھے۔ انہوں نے بیٹی کی جائز خواہش کو پورا کر دیا۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر والدین کو اپنی اولاد کی شادی کے وقت ان کی پسند و ناپسند کو ضرور سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے ۔یہ حکم ہمارے نبیﷺ کا بھی ہے لہٰذا  لڑکی اور لڑکے کی شادی سے پہلے ملاقات اور بات چیت ہونی چاہیے اس کو بے غیرتی اور ذلت اگر کوئی کہتے ہوں تو انہیں سوچ لینا چاہیے کہ ہمارے نبیؐ  نے تلقین کی تھی ایک صحابی نوجوان کو  اگر وہ نکاح سے پہلے ہونے والی بیوی کو دیکھتا تو یہ زیادہ مفید ہوتا۔ مریم نے چونکہ صفدر سے شادی اپنی پسند کے مطابق کی تھی۔ لہٰذا شدت محبت میں صفدر کا نام فوراً اپنے نام کا حصہ بنا لیا تھا جیسا کہ ہمارے مشرقی معاشرے کی یہ عمومی روایت ہے۔ اس کی مذمت نہیں بلکہ تعریف کرنی چاہیے مگر عربوں میں رواج ہے کہ لڑکی بیوی بن کر بھی اپنے نام کے ساتھ والد کا نام اور خاندانی نام ہی باقی رکھتی ہے۔ صفدر سے محبت کے  سبب  طویل مدت تک بیگم مریم صفدر ہی رہی‘ پھر اچانک اسے سیاست میں آنے کی خواہش پیدا ہوئی تو صفدر کا نام اپنے نام سے ہٹا کر مریم نواز شریف بن گئی۔ یہ عمل مریم کی نفسیاتی تلون مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور کافی  جذباتیت کو بھی‘ سیاست وہ مریم صفدر کے طور پر بھی کر سکتی تھی مگر ضرورت کے وقت فوراً  خاوند کا نام اپنے نام سے الگ کر دیا اور سیاسی مالدار والد کا نام ساتھ لگا لیا۔ ماضي میں میڈیا کے ذریعے مریم کے جھوٹ اور جعلی سازی کے جو معاملات سامنے ہیں وہ اس کی شخصیت کی تلون مزاجی‘ جارحیت‘ نظریہ ضرورت کے ساتھ بیان‘ موقف تبدیلی کرتی فطرت کے غماز ہیں۔19 جولائی کو اس کی پیشی ہے۔
بزرگ ماہر نجوم کے مطابق اگلے  چند سال مریم کا نہ کوئی بھی بہت بڑا سیاسی مستقبل ہے نہ اس کے پاس  اقتدار آتا نظر آتا ہے جبکہ  شہباز شریف کے مسائل اور مصائب نواز شریف سے کہیں زیادہ ہیں۔ ممکن ہے نومبر دسمبر میں نواز شریف کو آسانیاں میسر آجائیں۔ مگر اس کا اور اس کے بیانیے کا اقتدار‘ شہباز و حمزہ کا ماضی کی طرح کا اقتدار واپس آنا ناممکن سی بات ہے۔ دھوکے بازوں‘ شاطروں‘ کم ظرفوں‘ احسان فراموشوں کو اقتدار میں لانے کی اب کون کوشش کرے گا؟ اب کوئی بھی پروفیسر محی الدین موجود نہیں جو ان کا فکری طور پر علم بلند کر سکے گا۔
عمران خان بار بار موت سے نہیں ڈرتا کی باتیں کہنا بند کر دیں۔ عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری کے فطری زائچے میں راجیو گاندھی‘ اندرا گاندھی‘ بے نظیر بھٹو جیسے ’’ منفی‘‘ اثرات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کی زندگی کی حفاظت فرمائے(آمین) جس روز بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں شہید ہوئی تھی اس  روز اوصاف میں میرا کالم شائع ہوا تھا جس  میں انہیں اپنی وجدانی کیفیت میں بے نظیر بھٹو کو اپنی زندگی کی بہت زیادہ حفاظت کرنے کی درخواست کی تھی۔ لہٰذا عرض بلکہ التجا ہے کہ عمران خان اور بلاول بھٹو اپنی اپنی زندگی کو قیمتی سمجھیں اور اس کی اکثرحفاظت کریں۔ یہی مشورہ مریم نواز اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ہے۔
’’روحانی وزژن‘‘ کالم میں روحانی لاہوری دوست نے جن تاریخوں میں  زیادہ  توجہ دلائی تھی وہ 9جولائی  اور 17جولائی ہے جبکہ بزرگ ماہر نجوم کے مطابق13 سے  20جولائی تک مارشل لا لگنے کے اسباب فضا‘ ماحول زیادہ موجود ہے۔ یاد رہے کہ 17جولائی کو چاند گرہن ہو رہا ہے جو جزوی طور پر پاکستان میں بھی نظر آئے گا۔ اس کے اثرات عام انسانوں پر منفی طور پر ہونے کے کافی خدشات ہیں۔ لہٰذا صدقات دیں۔ استغفار کریں نماز گرہن پڑھیں بحث مباحثے سے سخت پرہیز کریں۔
 زائچے کے مطابق عمران خان بظاہر بہت سخت ہے مگر اندر سے جبلی طور پر دوسروں سے تعاون کرتا‘ تعاون وصول کرتا لچکدار طبیعت رکھتا ہے اس کے ان  فطری دوست نواز اور انسانیت نواز خوبیوں نے اسے کرکٹ ٹیم کا کپتان اور فاتح کرکٹ کھلاڑی بنایا تھا۔ یہی لچک عمران کو موجودہ پریشان کن حالات میں بھی دوسروں کے لئے قابل قبول بناتی ہے جہاں وہ دوسروں کے موقف کو مان جاتے ہیں وہاں دوسرے بھی اس کے موقف کو مان جایا کرتے ہیں نماز تہجد کی دعائیں‘ صدقات و خیرات‘ قرآنی وظائف سے تقدیر بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔
امریکی دورہ: عمران کے لئے22 کا عدد یعنی4 خوش قسمتی کی علامت ہے۔ علم الاعداد‘ روحانی بزرگ اور بزرگ ماہر نجوم کے مطابق عمران ٹرمپ ملاقات میں  عمران حسن کارکردگی پیش کریں گے24,25  کو کامیاب واپس لوٹیں گے۔ انشاء اللہ

تازہ ترین خبریں