07:31 am
 بھارت اور پاکستا ن کی ترقی،مسئلہ کشمیرکے حل سے مشروط

 بھارت اور پاکستا ن کی ترقی،مسئلہ کشمیرکے حل سے مشروط

07:31 am

ایک خبر کے مطابق امریکہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی عالمی سطح پر تحقیقات کروانے کا مطالبہ کر دیا ۔ امریکہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2016  سے 2018 145 بے گناہ کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں شہید کیا گیا ۔17کشمیری پیلٹ گنز سے شہید ہوئے جبکہ 6221افرادزخمی ہوئے۔  پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بھارتی فوج کی جانب سے بغیر کسی کیس کے کشمیریوں کو دو سال کیلئے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اہل خانہ کو ملنے بھی نہیں دیا جاتا۔  2016  سے 2017 تک ایک ہزار سے زائد افراد کالے قانون کے تحت جیلوں میں قید تھے ، بھارتی فوج اور پولیس قیدیوں کے اہل خانہ سے رشوت بھی لیتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک کو مقامی حمایت حاصل ہے ۔ ایک دوسرے ذرائع کے مطابق 2016 سے 2018تک مقبوضہ وادی میں 649افراد شہید ہو چکے ہیں۔ 
 
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیںکہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور پاکستان کا تو ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں ریاستی تشدد جاری رکھے ہوئے ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنرکی رپورٹ بھی لی ہے کشمیری بھارت سے آزادی اور الحاق پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان سفارتی اور اخلاقی طور پر کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کی حمایت کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔ مسئلہ کشمیر اکہتر برسوں سے حل طلب ہے ۔ اقوام متحدہ نے استصواب رائے کے حق کو تسلیم کیا ۔ کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا مگر عالمی طاقتوں نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔ سرد جنگ کے وقت سویت یونین بھارت کا طرفدار بنا رہا اورسرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ کے اقتصادی مفادات بھارت سے وابستہ ہو گئے ۔
 عالمی بدلتے حالات نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کی بھارتی کوششوں کو اجاگر نہ ہونے دیا ۔ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو پاکستان کی طرف سے گڑبڑ کرانے کی کوششیں قرار دے کر منفی پراپیگنڈا کرتا آرہا ہے ۔ مسئلے کے پر امن حل کیلئے بھارت کی طرف سے کبھی بھی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔  پاکستان مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو بھارت تعاون کی بجائے پاکستان پر در اندازی کے الزامات عائد کرتا ہے ۔ پاکستان کی سفارتی حمایت کو عالمی سطح پر غیر موثر کرنے کیلئے بھارت سفارتی محاذ پر سر گرم اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھانے سے باز نہیں آیا ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے اندرونی مسائل اور حکومت کی سفارتی سطح پر غیرموثر کار کردگی نے بھارت کے حوصلے اور بھی بلند کر دیئے ہیں۔ غاصب بھارت کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالت میں لے جانا‘ پاکستان عالمی سطح پرمبینہ  دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات کا دفاع کرتا ہی نظر آتا ہے ۔ پاکستان کو دبائو میں لانے کیلئے طاقت کے گھمنڈ میں بے قرار بھارت مہم جوئی کے خواب دیکھنے لگا ہے۔ ایک طرف رپورٹس میں اس بات کا کھلا اعتراف ہوتا ہے کہ بھارت کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے مگر دوسری طرف عالمی طاقتیں بھارت کو کشمیر میں مظالم روکنے اور پر امن حل کی طرف مائل نہیں کرتیں۔ خدشہ ہے کہ اقوام عالم کا یہ دوہرا معیار جنوبی ایشیا میں بربادی اور تباہی کا باعث نہ بن جائے ۔ اس نقطہ کو سمجھتے ہوئے کشمیر کا پر امن حل اقوام عالم کی ذمہ داری ہے ۔ 
کشمیر دنیا کے خطر ناک ترین تنازعات میں سے ایک ہے جس نے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک نئی جنگ کا شدید خطرہ پیدا کر دیا تھا ، برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں جوہری طاقتوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایک دوسرے کو میزائل حملوں کی دھمکیاں دے دی تھیں۔ سیاسی اور عسکری تناو اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ دونوں ممالک ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے ۔ ایک مرحلے پر بھارت نے پاکستان پر کم از کم چھ میزائل فائر کرنے کا کہا ، اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ ایسے ممکنہ حملوں کے جواب میں ایک کے بدلے میں تین میزائل ماریں گے۔ اس صورتحال پر واشنگٹن ، بیجنگ اور لندن میں بہت تشویش پائی جانے لگی تھی ۔ بھارتی پائلٹ کی گرفتاری اور اس کی ویڈیو سامنے آنے پر بھارت میں غصہ اور بھی بڑھا ، رائٹرز نے دعویٰ کیا بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ سے فون پر بات کی تھی ، بعد ازاں مائیک پو مپیو نے دونوں ممالک کے عہدیداروں سے رابطے کئے ۔چین اور عرب امارت نے بھی کشیدگی کم کروانے کیلئے سفارتی کوششیں کیں۔ عالمی سطح پر ان کوششوں کے نتیجہ میں کشیدگی میں کمی آئی ۔

تازہ ترین خبریں