07:34 am
نیک اور بد انجام‘سورۃ الذاریات کی روشنی میں

نیک اور بد انجام‘سورۃ الذاریات کی روشنی میں

07:34 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
آگے ان منکرین آخرت کی شرارت اور استہزا  کا ذکر ہے فرمایا  : ’’پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہو گا؟  ‘‘
یعنی جب انہیں باقی ساری باتوں کا جواب مل جاتا ہے تو پھر ہنسی کے طور پر کہتے ہیں کہ ہاں صاحب، وہ انصاف کا دن کب آئے گا؟
جس لہجے میں اُن کا سوال تھا، آگے اسی لہجے میں جواب دیا کہ:’’اس دن (ہو گا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو ۔ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ‘‘
دیکھو، جلدی نہ مچائو۔ وہ دن دور نہیں، آیا ہی جاہتا ہے۔ تمہیں یقین تب آئے گا جب تمہیں آگ پر بھونا جائے گا۔ اُس وقت کہا جائے گا اب چکھو اپنی شرارتوں کا مزہ، یہ ہے وہ عذاب جس کے لئے تم بہت جلدی مچا رہے تھے۔ 
جہنمیوں  کے ذکر کے فوراً بعد تقابل کے طور پر اہل ِجنت کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا:’’بیشک پرہیز گار بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے (اور) جو جو (نعمتیں )ان کا پروردگار انہیں دیتا ہو گا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے۔ ‘‘
اہل جنت جن کے لئے یہاں متقین کا لفظ لایا گیا، بڑے  عیش و آرام میں ہوں گے۔ اُن کا ٹھکانہ  جنت کے باغات ہوں گے، جہاں چشمے بہتے ہوں گے اور ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی۔ وہ اللہ کی نعمتوں سے فیضیاب  ہوں گے اور اللہ جو کچھ اُن کو عطا کرے گا اُسے وصول کر رہے ہوں گے۔ جنت کی نعمتیں ایسی ہوں گی کہ انہیںدنیا میں  نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہو گا، نہ کسی کان نے اُن کا ذکر سنا ہو گا اور نہ کسی ذہن ہی کی اُن تک رسائی ہوئی  ہو گی۔
آگے اہل جنت کی ایک صفت یہ بتائی گئی کہ   ’’بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے۔ ‘‘
ان لوگوں کو جنت  اِس لئے  عطا کی گئی کہ یہ نیکو کار تھے ، احسان کی روش اختیار کئے ہوتے تھے ۔یہ دنیا میںبن دیکھے اللہ سے ڈرتے اور پابند شریعت زندگی گزارتے رہے۔ روز قیامت تو مجرمین بھی ، اپنا انجام سامنے دیکھ کر  کہیں گے کہ خدا یا ہمیں ایک اور موقع دے دے، ہم نیکو کار بن جائیں گے اور ایمان اور عمل صالح کے اعتبار سے چوٹی پر پہنچ کر دکھائیں گے، مگر اُس وقت اُن کی یہ التجا  و فریاد کوئی فائدہ نہ دے گی۔ فائدہ میں صرف وہی اہل جنت  رہیں گے جنہوں نے دنیا میں آسمانی وحی کا یقین کر کے دین  و شریعت کے مطابق زندگی بسر کی ہو گی۔
آگے اہل جنت کی ایک اور صفت آ رہی ہے ۔ فرمایا:  ’’رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے۔ ‘‘
ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ رات کو کم سوتے تھے۔ اور رات کے آخری حصے یعنی سحری کے  وقت استغفار کرتے تھے۔ رب کے ساتھ خصوصی تعلق کے لئے اس وقت کی بڑی اہمیت ہے:آگے فرمایا: ’’اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا ہے۔ ‘‘اہل جنت حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی خاص اہتمام کرتے تھے۔ جب اُن پر یہ حقیقت آ شکارا ہو گئی کہ اصل زندگی آخرت کی ہے، تو انہوں نے اپنی آخرت سنوارنے کے لئے اللہ کی راہ میں خوب مال خرچ کیا۔ وہ سوال کرنے والوں اورنہ کرنے والوں دونوں پراپنا مال خرچ کرتے رہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ دنیا دارالامتحان  ہے، ہمیں  جو کچھ ملا ہے یہ امتحان کے لئے ہے۔ہمیںاپنے مال کو سوال کرنے والوںاور بنیادی ضرریات زندگی سے محروم لوگوں پر جو دست ِسوال دراز نہیں کرتے، خرچ کرنا چاہیے۔ اس مال میں ان کا بھی حق ہے، اور یہ حق ہمیں ادا کرنا ہے۔ جب اصل زندگی آخرت کی ہے توہم یہاں کیوں مال جمع کریں جو ہمارے کسی کام نہیں آئے گا اور وارثوں کے لئے رہ جائے گا۔ اس کی بجائے  سائلین اور محرومین پر مال  خرچ کر کے آخرت کے لئے ذخیرہ کیوں نہ کریں  جہاں  دائمی عیش و آرام ملے گا ۔
آگے نفس و آفاق میں موجود نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا ’’اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں(بہت سی) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے نفوس میں۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں۔ ‘‘
دیکھو، قیامت اور بعث بعد الموت پر تمہیں یقین نہیں آ رہا، لیکن اگر تم غور کرو تو اس کی نشانیاں زمین اور خود تمہارے باطن میں موجود ہیں۔ زمین مردہ ہوتی ہے، اللہ اس پر بارش برساتا ہے تو اس سے سبزہ اور ہریالی نکل آتی ہے۔اس غور و فکر کے نتیجے میں تمہیں اس حقیقت پر یقین آ جائے گا کہ واقعی تم دو بارہ زندہ کئے جائو گے اور  جزا و سزا کا دن آ کر رہے گا۔
اس کا چھوٹا سا نمونہ خود تمہارے باطن میں ضمیر کی صورت میں موجود ہے،جو تمہیں  صحیح کام پر شاباش دیتا  اور غلط کام پرٹوکتا ہے۔ آپ نے کسی کو دھوکہ دے کر اگرچہ کروڑوں روپے اور دنیا کا بہت بڑا فائدہ حاصل کر لیا، مگر ضمیر کہتا ہے کہ آپ نے غلط کیا، آپ کو اس کا حق نہیں تھا۔ ضمیریہ کہتا ہے کہ کوئی ایسا جہاں ہو جہاں انسان کو نیکی کی بھر پور جزا اور گناہ کی پوری پوری سزا ملے۔’’اور تمہارا  رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔ ‘‘
رزق کے ظاہری اسباب تو  زمین میںہیں۔ انسان زمین میںمحنت کرتا، اور پھر محنت کے ثمرات کا انتظار کرتا ہے، لیکن یہاں بتا یا کہ تمہارا  رزق آسمان میں ہے۔ اس کاکیا مطلب ہے؟ ایک مطلب یہ ہے کہ اگرچہ رزق کا محل زمین ہے مگر رزق کے فیصلے آسمان پر  فرماتا ہے کہ کس کو کتنارزق ملنا اور کب ملنا ہے۔ در اصل یہ آیت انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے، تاکہ وہ رزق کو اسباب کا نتیجہ اور محنت کا حاصل سمجھنے کی بجائے اللہ کا فضل سمجھے۔ وہ زمین میں محنت کرے مگر  اپنے رزق ِمقسوم  اورمقدر  کے حصے کو اللہ سے طلب کرے اور اُسی سے دل لگائے رکھے۔ اسباب کو اختیارضرور کرے مگر یہ یقین ہو کہ اسباب رزق مہیا نہیں کرتے اللہ عطا کرتا ہے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ  رزق کا سامان بھی آسمان میں ہے۔ اس لیے کہ آسمان ہی سے بارش برستی ہے جو حکم خدواندی سے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ اسی طرح قیامت جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، اُس کا فیصلہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اللہ مختار کل ہے، جب چاہے گا نظام کائنات کو لپیٹ  دے گا۔ کسی اور کے بس میں نہیں کہ نظام ہستی کو تلپٹ کر دے۔ 

تازہ ترین خبریں