07:38 am
دل میں چھیدکردینے والی آواز

دل میں چھیدکردینے والی آواز

07:38 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
کسی پرشک ہوتوقانون موجودہے،اسے حرکت میں لایاجاسکتاہے،اس کے خلاف شواہد جمع کرکے اسے عدالتی عمل سے گزاراجاسکتاہے،اسے صفائی کاموقع دینے کے بعد جرم ثابت ہونے پر کڑی سزادی جا سکتی ہے لیکن یہ عجیب دستورچل نکلاہے کہ کسی کوغائب کردیاجائے اورپھر مہینوں بلکہ سالوں تک اس کے عزیزوں کوانتظارکی سولی پرلٹکادیاجائے کہ ان کے پیارے عزیزکہاں اورکس حال میں ہیں اوران پرکیاگزررہی ہے؟ایساکرنے سے ایک مہذب ملک کی ساکھ پرانتہائی منفی اثرپڑتاہے جودنیابھرکی سب سے بڑی جمہوریت کاجعلی ڈھنڈورابھی پیٹ رہاہو۔کیاوہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح ان کی روشن خیال جمہوریت محض ایک سراب دکھائی دینے لگی ہے؟
 
 وہ تویہ سب کچھ امریکی کروسیڈسے عہدِوفانبھانے کیلئے کررہے ہیں لیکن بھارت توامریکہ اورمغرب کی دوستی کادم بھررہاہے۔وہ اپنے انہی دوستوں کے کندھے استعمال کرکے اقوام متحدہ کی مستقل نشست (ویٹو پاور ) کے خواب دیکھ رہاہے تاکہ اس طاقت کے نشے میں وہ مہابھارت کی تکمیل کرسکے۔پھرکیاوجہ ہے کہ انسانی حقوق کی ایسی پامالی پرایک امریکی ہندوپروفیسرکوبھی اجتماعی قبروں جیسے ہولناک مظالم پر احتجاج کی آوازاٹھاناناگزیرہوگیااورانسانی حقوق کے چیمپئن ممالک کوکشمیرمیں اس ہولناک مظالم سے آگاہ کرناپڑا۔
ہم نصیبوں جلے توایسے ہیں کہ آج تک کشمیرمیں ان اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعدقصرِسفیدکے فرعون نے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیابلکہ مغربی ممالک توبھارت کی بلائیں لے رہے ہیں اورایٹمی توانائی کی مددکیلئے دل وجاں فرشِ راہ کئے ہوئے ہیں لیکن ماورائے عدالت ہلاکتوں سے لیکراغوا تشدد،ریاستی جبراورقانون وعدل کی رسوائی تک ہروہ الزام ہمارے دامن کاداغ بنادیاگیاجس کاتصورکیاجاسکتاہے،اس کے باوجودامریکا کی دلداری ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے جس کیلئے ہم نے اچھے بھلے ملک کوجنگل بنادیااورڈھٹائی کی حدتویہ ہے کہ اب بھی اسی عطارکے لونڈے سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔
 زینب کے شوہرکاجرم صرف یہی ہے کہ وہ دنیاکے انسانی حقوق کے اداروں کوکشمیر میں ہونے والے مظالم کی اصلی تصویرسے آگاہ کرتاتھا۔کشمیرمیںغیر اعلانیہ کرفیو کی آڑمیں ہونے والے مظالم کی نشاندہی کرتاتھا۔ غیراعلانیہ کرفیو جیسی منحوس اصطلاح کااستعمال سب سے پہلے 2008 میں امرناتھ اراضی ایجی ٹیشن کے دوران گورنراین این وہرانے شروع کیاتھالیکن اس سے بھی پہلے شیخ محمدعبداللہ نے 1975میں پبلک سیفٹی ایکٹ یہ کہہ کرمتعارف کروایاتھا کہ یہ صرف اسمگلروں کے خلاف استعمال کیاجائے گا۔اس ایکٹ کے تحت بغیرکسی عدالتی کاروائی کے کسی بھی شخص کودوسال کیلئے زنداں کی تاریکی میں پھینکاجاسکتاہے لیکن آج تک اسی غیرانسانی اورظالمانہ قانون کوبے دریغ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف استعمال کیاجارہاہے اوربیشتر کشمیری اسی تعذیبی قانون کے تحت چودہ چودہ سال سے بھی زیادہ بھارت کی جیلوں میں گل سڑرہے ہیں۔
 اگرآپ کویادہوتو29اور30مئی 2009 کی درمیانی رات کوکشمیر کی دومجبور بیٹیوں نیلوفراورآسیہ کواجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کردیاگیاتھاجس سے اہل شوپیاں کے علاوہ سارے کشمیریوں کے دل دہل گئے تھے۔پوری وادی میں اس پربھرپوراحتجاج ہوالیکن شوپیاں کے غیورعوام نے47دن کی مسلسل ہڑتال سے اس سانحے کوامرکردیاکہ وہ اپنی ان بیٹیوں کے صدمے کوکبھی نہیں بھول سکتے۔مجھے یادہے کہ تین سالہ سوزین جوایک سال بعداپنی ماں اورپھوپھی کی اجتماعی عصمت دری کے خلاف احتجاج کررہاتھا اس کوغمزدہ لواحقین کے ساتھ انصاف مانگنے کی پاداش میں مجرم ٹھہراکرگرفتارکرلیاگیاتھا۔کیایہ ممکن تھا کہ تین سالہ بچہ جواپنے پاں پراچھی طرح چل بھی نہیں سکتا وہ بھارت کے وزیراعظم کیلئے کوئی خطرہ بن سکتاتھا؟دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے محافظ اس بلکتے تڑپتی شیرخوارزین جس کے آنسوکئی دلوں کوگھائل کررہے تھے،مردہ خورگدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے تھے۔
مجبورومقہورکشمیریوں کے سرقلم کرنے کیلئے غیراعلانیہ کرفیوکے دوران پبلک سیفٹی ایکٹ کی بے لگام تلوارہی کافی تھی کہ اب کشمیرمیں تعینات سات لاکھ افواج کوآرمڈ فورسز سپیشل پاورایکٹ اورڈسٹرب ایریاایکٹ جیسے ظالمانہ قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل کرنے کے بعدکسی کوجوابدہ نہیں،جس کی وجہ سے اب یہ قانون عوام کے محافظین کہلانے والوں کیلئے ایک نفع بخش تجارت کی شکل اختیارکرگیاہے جس میں لین دین انسانی سروں اور سستے انسانی خون سے ہوتاہے۔میں توابھی تک زاہد، وامق،عنائت اللہ اور طفیل متو کی ہلاکتوں سے لیکر مژھل فرضی جھڑپوں میں کشمیریوں کے سرِعام قتل کو نہیں بھول سکا،اے میری مظلوم ومجبوربیٹی زینب!کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام کاایک درخشندہ ستارے کانام بھی زینبؓ تھاجن کی کنیت ام المصائب تھی جن کے خطبات آج بھی مسلم امہ کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔
 میراوجدان اس بات کی گواہی دیتاہے کہ ظلم وستم کایہ دورایسے عوامی انقلابی ریلے کودعوت دے رہاہے جس کے سامنے توپ وتفنگ ناکارہ اوربے بہرہ ہو جاتی ہیں۔انقلابِ فرانس بھی ایک پتھرمارنے سے شروع ہواتھاپھراس کے بعدبادشاہ کے محافظین اپنے تمام اسلحے کے ساتھ نہ توبادشاہ کی حفاظت کرسکے اور نہ خودکوبچاسکے۔اس طوفانی ریلے کے سامنے تمام ظالمانہ قوتیں اپنے اتحاد کے باوجودتنکوں کی طرح خس وخاشاک کی طرح بہہ گئیں۔جونرم ہاتھ یاسفیدکالر والی گردن نظرآئی اس کاشانوں سے تعلق ختم کردیاگیا۔کشمیرکیموجودہ حالات میں امرناتھ جیسی ایجی ٹیشن سے بھی کہیں شدیدمزاحمتی تحریک شروع ہوچکی ہےجہاں سات دہائیوں سے کشمیریوں کابہنے والامقدس خون اب ضرور رنگ لائے گااوراب کوئی نیامیرجعفریامیرصادق ظالموں کومیسرنہ آسکے گاان شا اللہ۔۔۔لیکن ٹھہریئے مجھے کچھ ان افرادکے ضمیر کوبھی جگاناہے جن کی یہ مجبورومقہوربیٹیاں ان کے نام کی دہائی ان شہدا کے قبرستانوں میں دیتی نظرآرہی ہیں جو ہمارے ہاں کے مفادپرستوں کی چیرہ دستوں کاشکارہوگئے جن کوہرقیمت پراپنااقتدارعزیزہے اورسفاک مودی سے ملاقات کیلئے بے چین ہیں اورسلامتی کونسل میں اپناووٹ دیکراس کوممبربنانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی۔آخریہ روتی بلکتی مائیں،دربدربھٹکتے بوڑھے باپ،بال بکھرائے دہائی دیتی بیویاں کہاںجائیں؟کون سی زنجیرعدل ہلائیں،کس دیوارسے سر پھوڑیں؟میں سوچتے سوچتے تھک گیا ہوں لیکن کوئی جواب سجھائی نہیں دیتا۔آج بھی تین سالہ سوزین کے آنسو اور بائیس سالہ نوبیاہتازینب کی آوازیں مسلسل میراتعاقب کررہیں ہیں اور میرے لئے کرب کاایک اضافی پہلویہ ہے کہ دل میں چھید کردینے والی آواز میری پوتی کی آوازسے ہوبہوملتی ہے!

تازہ ترین خبریں