07:39 am
میڈیا ئی ٹارزن‘  ٹیکس اور مفادات کے اسیر

میڈیا ئی ٹارزن‘  ٹیکس اور مفادات کے اسیر

07:39 am

َٔدنیا میں اور بھی غم ہیں نواز اور زرداری کے سوا‘ کیا رانا ثناء اللہ کوئی پہلے ملزم ہیں کہ جن کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی؟ رانا ثناء اللہ ‘ یا نون لیگ کے دور حکومت میں صوبہ پنجاب کی سرزمین جس طرح سے دینی مدارس اور مذہب پسندوں کے لئے تنگ کی گئی‘17 سال کے نوجوان  لے کر اسی سال کے بوڑھے علماء کرام تک کے نام صرف غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے کے لئے بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں ڈال کر انہیں جان بوجھ کر تنگ کیا جاتا ‘ مذہبی کارکنوں کو مسجدوں یا ان کے گھروں سے اٹھایا جاتا  اور پھر ان پر ناجائز اسلحہ یا بارود رکھنے کا مقدمہ قائم کرکے انہیں جیلوں کا رزق بنا دیا جاتا‘ غیروں کو خوش کرنے کیلئے پہلے انتہائی عجلت میں ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی اور پھر میڈیا میں غازی ممتاز قادری کے جنازے کی کوریج پر پابندی لگا ئی گئی تھیں۔
 
سنا ہے کہ آجکل میڈیا کی آزادی کے بعض ٹارزن نما دعویدار بڑے اچھل کود کررہے ہیں‘ کوئی ان مصنوعی میڈیائی ’’ٹارزنوں‘‘ سے پوچھے کہ جب لاکھوں عشاق رسول ﷺ پر مشتمل ممتاز قادری کی نماز جنازہ کو میڈیا میں پیش کیا گیا تھا تب انہوں نے اس پابندی کو قبول کیوں کیا تھا؟ پاکستان کا بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ یہاں فحاشی اور عریانی کو فروغ دینے میں میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز کا ہاتھ ہے… الیکٹرانک چینلز نے نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ کوئی بتاسکتا ہے کہ کتنے ا ینکرز ‘ ا ینکرنیاں اور کالم نگار ہیں کہ جنہوں نے اپنے ٹی وی یا اخباری مالکان کے سامنے میڈیا کے ذریعے مسلط کی جانے والی فحاشی اور عریانی کے حوالے سے آواز حق بلند کی ہو یا احتجاج کیا ہو؟ برادرم انصار عباسی کے سوا باقیوں کے دامن اس حوالے سے مکمل خالی نظر آتے ہیں۔ہاں اگر مجھ سمیت کسی اینکر ‘ اینکرنی یا صحافی کی تنخواہ بند ہو  جائے تو پھر ہم سب سڑکوں پر نکل آتے ہیں … ہمارے ہاں کئی ایسے ’’ٹارزن‘‘ بھی ہیں کہ جنہیں بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی مظلومیت کسی پل چین نہیں لینے دیتی … پی ٹی ایم کے فوج دشمن عناصر سے جن کی محبت چھپائے نہیں چھپتی‘ لیکن گزشتہ ہفتے ضلع ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ایک نامور عالم دین اور انتہائی محب وطن پاکستانی مولانا عبدالجبار کا گولیوں سے چھلنی  لاشہ بلوچستان کے پہاڑوں سے برآمد ہوا‘ مگر مجال ہے کہ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز کے کسی اینکر‘ اینکرنی یا تجزیہ کار نے اس مظلوم شہید کی مظلومیت پر پورا پروگرام کرنا تو درکنار  کوئی بات کرنا بھی گوارا کی ہو‘ کیا میڈیا کی آزادی صرف رانا ثناء اللہ ‘ بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور پی ٹی ایم کی مظلومیت تک ہی محدود ہے؟
کیا پاکستان کے 22 کروڑ عوام شریفوں‘ زرداریوں اور خانوں کے غلام ہیں؟ مریم اگر اپنے باپ کی رہائی کے لئے آواز اٹھاتی ہے تو اس کا اسے حق حاصل ہے … بلاول اگر اپنے ابا کی رہائی کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کرتا ہے تو یہ اس کا بھی حق ہے … لیکن کوئی بتاسکتا ہے کہ بلاول  اور مریم بی بی نے ناموس رسالتؐ‘ ناموس صحابہؓ ‘ نظریہ پاکستان یا علماء اور دینی مدارس پر ہونے والے مظالم کے خلاف کتنی بار تحریک چلانے کا اعلان کیا؟  یا کتنی مرتبہ آواز اٹھائی؟ اگر ایک بار بھی نہیں تو کیوں؟ کیا پاکستان میں ناموس رسالتؐ‘ ناموس  صحابہ ؓ یا نظریہ پاکستان کو کبھی خطرات لاحق نہیں رہے؟ نہیں جناب نہیں‘ یہاں ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کا اسیر ہے‘ کیا میڈیا‘ کیا سیاست دان اور کیا حکمران سب کو اپنی اپنی کھال بچانے کی فکر ہے اور مال ہضم کرنے کی بھی۔
 بچے گا کوئی بھی نہیں‘ جلد یا بدیر آج کے حکمران رانا ثناء اللہ اور  شریفوں کی طرح سلاخوں کے پیچھے ہوں گے‘ جن کی زبانیں ممتاز قادریؒ اور مولانا عبد الجبار کی مظلومیت بیان کرتے ہوئے کانپتی ہیں‘ رانا ثناء اللہ‘ شریفوں اور زرداریوں کی خود ساختہ مظلومیت بیان کرنے کے لئے وہ قینچی سے بھی  تیز چلتی ہیں  جو کشمیر کے جہادیوں اور دینی مدارس کے علماء اور طلباء پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف خبر دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے‘ شریفوں اور زرداریوں کی حمایت میں وہ سردھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں ‘ لیکن اس سب کے باوجود وہ اپنے آپ کو ’’غیر جانبدار صحافی‘‘ کہلوانا پسند فرماتے ہیں۔
پاکستان کا مسئلہ نہ نواز شریف کی گرفتاری ہے اور نہ زرداری یا کسی اور کی‘ بلکہ پاکستان کا اصل مسئلہ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے … نظریاتی اور جغرافیائی تشخص کو مجروح کرنے والے پاکستان کا اصل مسئلہ ہیں‘ عمران خان کی حکومت ایک طرف ٹیکسوں کی بھرمار کررہی ہے  مگر دوسری طرف عوام کو ایک ٹیڈی پیسے کی سہولت دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔
عوام کو ریلیف اور سہولت دینے کے معاملے پر موجودہ حکومت کا کردار انتہائی بدترین ہے‘ عوام روٹی کے ایک ایک لقمے اور پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ حکومت کو عوام پر ظالمانہ ٹیکس مسلط کرنے سے ہی فرصت نہیں‘ عمران خان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ شریفوں‘ زرداریوں  اور  رانوں کی گرفتاریوں سے عوام کی بھوک مٹ جائے گی ‘ ٹیکسوں کی شیطان کی آنت کی طرح لمبے ظالمانہ شکنجے کے حوالے سے تفصیلی کالم تو پھر کبھی سہی‘ ہاں البتہ ہمارے محترم دوست اور ملک کے نامور شاعر سید سلمان گیلانی نے ’’ٹیکس لگ گیا‘‘ کے عنوان سے جو اشعار کہے ہیں فی الحال ان کا مطالعہ کرکے اپنی بے بسی پر خود ہی مسکرا دیجئے‘ شاہ جی کہتے ہیں کہ
بھنگڑے پر اور دھمال پر بھی ٹیکس لگ گیا
واعظ کے قیل وقال پر بھی ٹیکس لگ گیا
شادی کے بارے میں نہ کبھی سوچنا چھڑو
سنتے ہیں اس خیال پر بھی ٹیکس لگ گیا
کھانے کے بعد دانتوں میں تیلا نہ پھیرنا
دانتوں کے اس خلال پر بھی ٹیکس لگ گیا
جنگل میں مور ناچا تو آئے گا اس کو بل
اب ہرنیوں کی چال پر بھی ٹیکس لگ گیا
سنڈے کے سنڈے ملتے تھے ہم مفت میں مگر
اب یار سے وصال پر بھی ٹیکس لگ گیا
کھانا کسی کو کھاتے ہوئے دیکھنا بھی مت
بھوکے کی اب تو رال پر بھی ٹیکس لگ گیا
کیوں اتنے ٹیکس لگ گئے مت پوچھئے سوال
گیلانی اس سوال پر بھی ٹیکس لگ گیا

تازہ ترین خبریں