07:59 am
وزیراعظم کے غیر ملکی دورے! تردیدیں، وضاحتیں

وزیراعظم کے غیر ملکی دورے! تردیدیں، وضاحتیں

07:59 am

٭وزیراعظم پاکستان کے امریکہ اور روس کے دورے! دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کا انکار، لاعلمیO نواز،زرداری غیر ملکی دورے سوا تین ارب روپے، زیادہ دورے ذاتی، سب کے اخراجات سرکاریOپشاور سادگی! صوبائی وزیر کیلئے 1800 سی سی کی بجائے 2800 سی سی کی80 لاکھ روپے والی گاڑی، تمام وزراء کے لئے نئی گاڑیاںO سپیشل بچوں کی ایک وجد آور داستان۔
 
٭قارئین دل تھام کر پڑھئے کہ آصف زرداری اور نوازشریف نے اپنے مغلیہ قسم کے شاہانہ دور میں 226 غیر ملکی دورے کئے سوا تین ارب کے اخراجات! ان میں سے بیشتر نجی نوعیت کے تھے مگر اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کئے گئے! بیرون ملک بے انتہا بڑے بڑے اثاثے بنانے والے ان ’’نہائت محب وطن‘‘ مہاراجوںنے اپنے ذاتی مفادات کے لئے ملکی خزانے کو جس طرح لوٹا یا لٹایا، اس کی مختصر روداد پڑھ کر سر چکرا رہا ہے۔ آپ بھی حوصلے کے ساتھ پڑھئے۔ کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری نے پانچ سالہ صدارتی دور میں 134 غیر ملکی دورے کئے، مجموعی طور پر 257 دن (آٹھ ماہ 6 دن) ملک سے باہر رہے۔ صرف دبئی کے 51 (نصف تعداد) دورے تھے ان میں سے صرف تین سرکاری اور باقی 48 نجی دورے تھے! (کیوں؟ کیا کام تھا؟) ان دوروں میں آصف زرداری تین ہزار سے زیادہ افراد کو ساتھ لے گئے۔ لندن کے 17 دورے کئے۔ ان دوروں پر ایک ارب 42 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ (زندگی کی ابتدا ایک سینما گھر کی ٹکٹیں بیچنے سے کی تھی)۔ ان دوروں کے دوران آصف زرداری نے پسندیدہ لوگوںکو ساڑھے چارکروڑ روپے کے تحائف اور ہوٹلوں کے بیروں کو ٹِپ کے طور پر دو کروڑ روپے دیئے۔ (لوٹ مارکا مال تھا، اپنی جیب سے ایک پیسہ نہیں دیا) اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام پر 55 کروڑ ادا کئے گئے۔ اہم بات یہ کہ دورہ کسی بھی ملک کا ہوتا، چین کا یا سنگا پور کا، تقریباً ہر دورہ نجی کاروباری مرکز، دبئی کے، شاہی فارم ہائوس سے ہو کر گزرتا تھا۔
اب دوسرے بادشاہ، میاں نوازشریف!آصف زرداری نے 5 سال میں 134 دورے کئے، نوازشریف کے چار سال میں 92 دورے، 262 دن باہر رہے ان دوروں پر ایک ارب 84 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ زرداری کے دورے دبئی سے ہو کر آگے جاتے تھے۔ نوازشریف نے لندن کے 20 دورے کئے ان پر 22 کروڑ خرچ ہوئے (لندن میں دو ماہ علاج کے لئے قیام پر تین کروڑ روپے) 12 دفعہ سعودی عرب گئے۔ آصف زرداری کے ساڑھے چار کروڑ کے تحائف کے مقابلے میں نوازشریف نے 6 کروڑ کے تحائف بانٹے۔ زرداری نے پانچ سال میں باہر ہوٹلوں کے بیروں کو دو کروڑ روپے کی ٹپ دی تھی، نوازشریف نے چار سال میں ٹپ کے طور پر تین کروڑ لٹا دیئے۔ ان کے ہر دورے میں پی آئی اے کا ایک بڑا جہاز مستقل طور پر ساتھ رہتا تھا، اس سے پی آئی اے کو 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ ایک بدقسمت انتہائی غریب ملک کے ’ہمدرد‘ حکمران!
٭ان بوجھل باتوں سے ہٹ کر ایک وجد آور چھوٹی سی کہانی۔ کینیڈا سے محترم طارق انوار نے بھیجی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ان کے علاقے کے ایک سکول میں آٹھ سپیشل (ذہنی معذور) بچوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔ آٹھوں بچے ایک لکیر پر کھڑے ہو گئے۔ سیٹی بجی،بچے دوڑے، ایک بچہ گر گیا اور چیخنے لگا۔ دوسرے بچے کچھ فاصلے پر جا چکے تھے۔ وہیں رک گئے، مڑ کر دیکھا، واپس آئے، مل کر اس چیختے ہوئے ساتھی بچے کو اٹھایا، آہستہ آہستہ قدم قدم چل کر جیتنے والی لکیر کے پاس پہنچے، اس بچے کو لکیر کے پار رکھ دیا اور پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو گئے!اردگرد کھڑے تمام لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں، آنسو بہنے لگے! آنسو تو یہ داستان لکھتے ہوئے میرے بھی بہہ رہے ہیں، شاید آپ  کےبھی…!
٭بار بار اعلان ہو رہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان 20 جولائی کو امریکہ جا رہے ہیں جہاں وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ سے بھی ملاقات اور مذاکرات ہوں گے…اور…اور امریکہ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسے تو ایسی کوئی اطلاع نہیں! ایک اور اعلان ہوتا رہا کہ روس کے صدر نے وزیراعظم عمران خان کو خاص مہمان کے طور پر روس کے دورے کی دعوت دی، وہ خود بھی پاکستان آئیں گے۔ نیز یہ کہ روس کے دوران اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ روس کے صدر کی طرف سے ایسی کوئی دعوت نہیں دی گئی نہ ہی پاکستان کے دورہ کی کوئی بات ہوئی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے یہ بات بھی کہی ہے کہ ممکن ہے وائٹ ہائوس کی طرف سے پاکستان کو دورے کا پیغام بھیجا گیاہو، مگر پاکستان کی وزارت خارجہ نے امریکی وزارت خارجہ سے کوئی رابطہ قائم نہیں کیا۔ روس کی وزارت خارجہ نے تو ایسی خبروں کی مکمل تردید کر دی ہے۔ ان باتوں پر کیا تبصرہ کیا جائے؟
٭اسلام آباد احتساب عدالت نمبر2 کے جج محمد بشیر نے مریم نواز کو جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے بارے میں 19 جولائی کو عدالت کو طلب کیا ہے۔ نیب نے عدالت میں رپورٹ پیش کی ہے کہ مریم نواز نے ایون فیلڈ کے اس کیس میں جو دستاویزات داخل کی تھیں، وہ جعلی ثابت ہوئی ہیں۔ (اس پر 5 سال قید ہو سکتی ہے) عدالت کی طلبی پر مریم نواز بپھر گئیں کہ ’’اپنے رِسک پر مجھے بلائو، تم میری باتیں نہ سن سکو گے، نہ سہہ سکو گے، سر پیٹتے رہ جائو گے۔‘‘ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے فوری طور پر ن لیگ کے اہم رہنمائوں کا اجلاس طلب کیا اور بتایا کہ وہ عدالت کا بائیکاٹ کریں گی اور اگر گئی تو باقاعدہ بڑے لشکر کے ساتھ جائیں گی۔ اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے بیشتر رہنمائوں نے اس طرز عمل کی مخالفت کی اور سمجھایا کہ عدالت پر لشکر کشی سے حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں،جمہوریت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ اس پر مریم نواز طیش میں آ گئیں اور کہا کہ آپ خاموش رہیں میں وہ کچھ کر رہی ہوں جس کا مجھے نوازشریف نے حکم دیا ہے۔ یہ کچھ کر کے رہوں گی! اس کے بعد اجلاس میں تمام لوگ چپ ہو گئے۔ خبریں میں بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول نے بھی مریم نواز کے عزائم  کی مخالفت کی ہے اور اسے خطرناک قرار دیا ہے۔
٭ہرشخص کسی جرم ثابت ہونے تک بے گناہ اور بے قصور ہے مگر بعض حکومتی بزر جمہروںنے عجیب موقف اختیار کیا ہے کہ کسی کیس میں زیر تفتیش رکن کو اس لئے اسمبلی میں نہیں بلایا جا سکتا کہ اس کا کوئی کیس زیرتفتیش ہے یا  وہ کسی کیس میں ریمانڈ پر ہے۔ بالکل بے تکا موقف ہے۔ جب چاہو کسی مخالف رکن کو اسمبلی میں آنے سے روکنے کے لئے اس کے خلاف کوئی چوری وغیرہ کا مقدمہ درج کرا دو جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے چودھری ظہورالٰہی کے خلاف بھینس چوری کا اور پنجابی شاعر استاد دامن پر بم سازی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ایسے کسی مقدمے کے بعد اعلان کرو کہ زیر تفتیش شخص کو ایوان میں نہیں بلایا جا سکتا!کیسے کیسے لوگ ایوانوں میں پہنچ گئے!
٭مظفر گڑھ: سابق رکن قومی اسمبلی اور اس کی پارٹی کے کچھ ساتھیوں نے مہنگائی کے خلاف ٹِنڈیں کرا لیں (سر کے سارے بال صاف) پتہ نہیں چلا کہ حکومت پر کیا اثر ہوا؟ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ حجام کو ٹِنڈ کرانے کی کتنی اجرت دی؟ ایک دیہاتی مراثی پہلی بار شہر میں آیا۔ ایک مٹھائی کی دکان کے سامنے رکا، مٹھائیوں کی قیمت پوچھی۔ دکاندار نے ایک مٹھائی کی قیمت بتائی اور کہا کہ باقی مٹھائیوں کی قیمت ایسے ہی ہے۔ دیہاتی سمجھا باقی مفت میں! جی بھر کر کھائیں، چلنے لگا تو دکاندارنے پکڑ لیا۔ لوگوں نے کچھ چہرہ افزائی کے بعداِس کے سر کے بال مونڈ کر ٹِنڈ کر دی، منہ پر سیاہی ملی اور ایک گدھے پر بٹھا کر شہر میں گھمایا۔ گائوں واپس گیا۔ لوگوں سے کہنے لگا کہ شہر تو بہت اعلیٰ جگہ ہے، مٹھائی مفت، حجامت مفت، سواری اور شہر کی سیر مفت!

تازہ ترین خبریں