07:58 am
حد ہو گئی          !

حد ہو گئی          !

07:58 am

ان دنوںسوشل میڈیا میں پاکستان کی ایک معروف مذہبی جماعت کے جھنڈے اور انتخابی نشان کے ساتھ ایک دیوار پر لکھی گئی یہ تحریر’’ ووٹ کے بدلے جنت کی ذمہ داری‘‘بہت مشہور ہوئی ہے۔ تصویر سے لگتا ہے کہ فاٹا کے علاقہ میں ایک دیوار پر ووٹروں کو اپنی جماعت کی طرف راغب کرنے اور ان کا ووٹ لینے کے لیے  جنت کے ٹکٹ کے حصول کی  خصوصی ڈسکائونٹ مہم چلائی گئی ہے۔ اس سے پہلے مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں روٹی ، کپڑا اور مکان، نظام کی تبدیلی، چہرے نہیں نظام کو بدلو، اسلامی نظام کا نفاذ، سوشلزم جیسے نعروں سے ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ نئے حالات ، نئے زمانے اور نئے پاکستان میں اب جنت کے ٹکٹ کی ضمانت پر ووٹ مانگا جا رہا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ حد نہیں ہو گئی کیا؟
 
گزشتہ دنوں ہائی کورٹ سے ضمانت پر آئی ہوئی محترمہ مریم صفدر اعوان صاحبہ نے کہا تھا کہ وہ اپنے والد(نواز شریف)کو مرسی نہیں بننے دیں گی اور اس مقصد کے لیے وہ آخری حد تک جائیں گی۔ چنانچہ پچھلے دنوں انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت کو اردگرد بٹھا کر ایک عدد پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کو ایک مقدمہ میں بری کرنے اور دوسرے مقدمے میں سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج  ملک ارشد کے حوالے سے ایک مسلم لیگی کارکن ناصر بٹ کی پر و ڈ کشن  وڈیو اور آڈیو کا مکسچربنا کر پیش کیا اور ساتھ ہی اعلیٰ عدلیہ پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے سزا یافتہ میاں محمد نواز شریف کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ اس پریس کانفرنس کے نشر ہونے سے پہلے کاش شہباز شریف سمیت وہاں پر موجود سینئر لیگی عہدیداران میں سے کوئی شخص مریم صفدر اعوان  کو بتا دیتا کہ اب صدر پاکستان رفیق تارڑ نہیں جو راتوں رات بیک جنیش قلم قیدی کو سعودی طیارے میں بٹھا کر روانہ کردیں گے اور نہ ہی جنرل مشرف کا زمانہ ہے کہ جو عدالتی فیصلوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے اقتدار کو دوام دینے کی خاطر میاں نواز شریف کو تحریری معافی نامہ یا معاہدہ اور سعودی و لبنانی حکمرانوں کی گارنٹی پر قیدی کو دس سال کے لیے جلا وطن کر دے گا۔
 مریم صفدر اعوان کو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ سزا یاب ہونے کے بعد ہائی کورٹ سے حاصل کردہ ضمانت پر ہیں۔ آپ کی یہ پریس کانفرنس اور عدلیہ پر تنقید، الزامات اور اثر انداز ہونے کی کوشش آپ کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے قانونی جواز بن سکتی ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو محترمہ کا کہنا تھا کہ وہ آخری حد تک جائیں گی اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آخری حد زیادہ دور بھی نہیں۔
قارئین محترم!گزشتہ دنوں راولپنڈی کچہری میں ایک بد نما واقعہ پیش آیا۔ مبینہ طور پر ارسلان قریشی ایڈووکیٹ نے سول جج شوکت حیات کے ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے جھگڑا کیا۔ وکیل صاحب اور جج صاحب نے عدالتی ٹیبل پر موجود مثل مقدمہ اور پیپر ویٹ وغیرہ ایک دوسرے پر پھینکے۔ ارسلان قریشی ایڈووکیٹ زخمی ہوئے حسب توقع اگلے دن ضلع بھر میں ہڑتال کر دی گئی۔ وکلا کے جزوی مطالبات منظور ہوئے اور مذکورہ جج صاحب کو ٹرانسفر کرتے ہوئے انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا اور بعد ازاں انہیں معطل بھی کر دیا گیا۔ ارسلان قریشی ایڈووکیٹ نے پہلے دن ہی اپنا طبی معائنہ کروا کر مقدمہ درج کرانے کی درخواست پولیس کو دے دی۔ نازک حالات کے پیش نظر وقوعہ کے چوتھے روز سول جج صاحب نے طبی معائنہ کرواتے ہوئے ایک  ایم  ایل سی حاصل کر لی۔ 
انتظامیہ نے حالات کو سنوارنے کی بجائے بگاڑنے کے لیے ایک عام شہری کی طرف سے جج صاحب موصوف اور ارسلان قریشی ایڈووکیٹ اور چند دیگر نامعلوم وکلا کے خلاف اقدام قتل سمیت کئی دفعات کے تحت پرچہ درج کرلیا۔ انتظامیہ کی اس خوش انتظامی کی وجہ سے وکلا کی ہڑتال دسویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔سائلین کا داخلہ عدالتوں میں بند ہے۔ بے شمار بے گناہ لوگ ہڑتال کی وجہ سے جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ گزشتہ روز اس ہڑتال کے متاثرین عوام الناس نے راولپنڈی کچہری کے باہر ٹریفک روک کر مظاہرہ کیا۔ جو بالآخر کچہری کے اردگرد ڈیوٹی دینے والے فوجی حضرات کی مداخلت پر ٹریفک بحال ہوئی۔ اب تو حد ہی عبور ہو چکی ہے۔ بار نمائندگان ہڑتال پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انتظامیہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ ہزاروں سائل روزانہ بے مراد و بے مرام واپس چلے جاتے ہیں۔ جب تک ہر دو فریق اپنی ضد اور انا کے پہاڑ سے دو قدم نیچے نہیں اترتے، تب تک کسی طور مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بروز بدھ ہڑتال کے دسویں روزایک اہم کاروباری شخصیت  کے مقدمہ میں مبینہ طور پر ہڑتالی واقعہ کے متاثرہ وکیل از خود جن کے ہمراہ سابقہ اور موجودہ عہدیداران اور مستقبل کے ایک امیدوار نے اینٹی کرپشن کی عدالت میں پیش ہو کر ہڑتال کرنے والے مجھ جیسے سینکڑوں سفید پوش وکلا کا منہ چڑھایا، مذاق اڑایااور یہ پیغام دیا کہ ہڑتال صرف غریب عوام کے سفید پوش وکلا پر فرض ہے۔ کھرب پتی مئوکل کی خوشنودی کے لیے باقی عدالتوں کو تالے لگوا کر سپیشل کورٹ کے سپیشل مئوکل کے سپیشل مقدمہ میں سپیشل وکلا کا پیش ہونا سپیشل روائتی قدم ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ حد کی حدود بھی پھلانگی جا چکی ہیں یا کہ ابھی کوئی کسر باقی ہے؟
 رمضان  المبارک کے دنوں میں شہر کے کچھ مخصوص ریستورانوں پر چادر لگا کر بورڈ آویزاں کر دیا جاتا ہے جس کی تحریر کچھ یوں ہوتی ہے۔ مریضوں ، مسافروں اور غیر مسلموں کے لیے کھانے کی سہولت موجود ہے اور ہوٹل کھلا ہے۔ اگر یہ تحریر سپیشل کورٹ میں سپیشل مقدمہ کے سپیشل مئوکل کے سپیشل وکلا صاحبان کی سپیشل پیشی کے سپیشل طرز عمل سے مماثلت رکھے تو اس میں راقم کا کوئی قصور نہیں۔