08:01 am
 تحریک حریت کشمیر کا حق

تحریک حریت کشمیر کا حق

08:01 am

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر بارے تازہ رپورٹ دراصل بھارت کے خلاف فرد جرم ہے۔ رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی ریاست نہتے کشمیریوں کی قاتل ہے! ریاستی اداروں کی چھتری تلے بے گناہوں کو بنا مقدمہ چلائے قتل کیا گیا ۔ قانونی تقاضے پورے کئے بنا عقوبت خانوں میں قید کیا گیا ۔ کون زندہ ہے کون چل بسا ؟ کچھ علم نہیں ۔ جن سہاگنوں کی آنکھیں اپنے خاوندوں کی راہ تکتے تکتے پتھرا گئیں ۔ ایسی حرماں نصیب ہزاروں خواتین کو نیم بیوہ کہا جاتا ہے۔  جوان بیٹے  کا تشدد زدہ  لاشہ کاندھوں پر دھرے بوڑھا باپ جب گھر کی دہلیز پر آتا ہے تو  ماں بہنیں بھارتی ریاست کی درندگی پر اشک بہاتی ہیں ۔
 
 اہل کشمیر اپنے شہداء کے مقدس لاشے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کے سپرد خاک کرتے ہیں ۔ جنازے کے ا جتما ع میں نماز جنازہ سے پہلے اور بعد میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے ہیں ۔ بھارت کے پنجہ خونیں سے آزادی کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے۔ تین برس قبل برہان وانی شہید کی تدفین میں جسد خاکی نہیں جہاد ِ حریت کے بیج بوئے گئے تھے۔ وہ بیج اب تناور درخت بن رہے ہیں ۔ جس برہان وانی شہید کا نام بعد از شہادت دلی سرکار کے لیے خوف کی علامت بن گیا ہے اسے ریاستی تشدد نے جنم دیا ۔ ایک ناپختہ ذہن کا جذباتی نوجوان آخر کیوں قلم چھوڑ کے دنیا کی سب سے سفاک جمہوریہ کے خلاف   بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوا ؟ محض اس سوال پر دلی سرکار نیک نیتی سے غور کر نے پر تیار ہو جائے تو کشمیر کا انسانی المیہ مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔ 
 برہان وانی اپنے بڑے بھائی پر بھارتی سیکیوریٹی اداروں کے وحشیانہ ذلت آمیز تشدد کے رد عمل میں مسلح جدجہد کی خارزار راہ پر گامزن ہوا ۔ مقبوضہ کشمیر کی ہر بستی ہر محلے اور ہر گھر میں رد عمل کی آگ دہک رہی ہے۔ ریاستی تشدد نے کشمیری عوام کو بھارتی ریاست سے ذہنی اعتبار سے اس قدر دور کردیا ہے کہ واپسی ممکن نہیں ۔ کشمیر پاکستا ن کا حصہ بنے یا خود مختار رہنا پسند کرے‘  لیکن  یہ بات تو طے ہے کہ کشمیری کسی قیمت پر  بھارت کی غلامی میں نہیں رہنا چاہتے۔ یہ حقیقت دلی کے راج سنگھاسن پر براجمان ہر حکومت کی راتوں کی نیندیں اُڑائے رکھتی ہے۔ حق رائے دہی کا منصفانہ استعمال کشمیر پر بھارتی ناجائز تسلط کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حل کے بجائے سرحد پار دہشت گردی کا راگ الاپ کے بھارت دنیا کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے میں مصروف رہتا ہے۔ کشمیر کی آزادی تقریروں  اور بیانات سے ممکن نہیں وگرنہ  اب تک ہمارے  بے عمل مجمع باز کشمیر تو کیا فلسطین کا مسئلہ بھی شعلہ بیانی سے ہی حل فرما لیتے۔ 
بہادر کشمیری جوان اپنا لہو بہا کے جو فضا قائم کئے ہوئے ہیں اسے پاکستان کے ارباب حل و عقد فہم  و فراست پر مبنی سفارت کاری سے کامیاب کروا سکتے ہیں ۔ بدقسمتی سے جہاں فہم و فراست  درکار ہے اس میدان میں بھی ہم بہتر سالوں سے زبانی کلامی جمع خرچ میں مصروف ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا جو بازار گرم ہے ہمیں اس کا ذرہ برابر احساس نہیں۔ اہل کشمیر جب اپنے اجڑے آشیاں پر بیٹھ کے پاکستان کی جانب امید بھری نگاہ ڈالتے ہوں گے تو کیا سوچتے ہوں گے؟ پارلیمان میں طوفان بدتمیزی جاری ہے۔ لٹیروں، زیر تفتیش ملزموں  ، رسہ گیروں ، اور سزا یافتہ مجرمان کے بنیادی حقوق پر ماتم کناں جماعتوں کی زبان پر کشمیر کے مظلوموں کے لیے ایک رسمی جملہ بھی جاری نہیں ہوتا۔ اپنے لیڈر کی شان میں جنہیں ایک جملہ سننا گوارا نہیں وہ کشمیری بہنوں کی بے حرمتی پر چپ کیوں رہتے ہیں ؟ وہ عالمی ادارے بھی اب بھارت کے غیرانسانی مظالم پر آواز اٹھا رہے ہیں جو عموماً مسلمانوں پر ڈھائے جانے و ا لے مظالم پر عادتاً چپ سادھے رہنے کے عادی ہیں ۔ 
اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق محض گذشتہ ایک سال کے دوران بھارتی اداروں نے پانچ سو بے گناہ کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ یاد رکھیے بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کشمیر پر قانون کا نہیں بلکہ خوف و دہشت کا راج ہے۔ افسپا جیسے بدنام زمانہ قانون کو دنیا بھر کے عالمی ادارے بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہیں ۔ تشدد اور ظلم کے بل بوتے پر کروڑوں انسانوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ۔ یہی قانون فطرت ہے۔ دلی سرکار اس قانون کو رد کر کے خطے کے امن کو دائو پر لگا رہی ہے۔ بھارت میں انصاف پسند سوچ رکھنے والے دانشور بارہا یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ کشمیریوں کو بندوقوں اور سنگینوں کے ذریعے بھارتی ریاست کا غلام بنائے رکھنے کی مہلک پالیسی فوراً ترک کی جائے۔ 
مودی کی قیادت میں بی جے پی جیسی شدت پسند جماعت سے کسی خیر کی توقع رکھنا دانشمندی نہیں بلکہ بے وقوفی ہوگی۔ پاکستان پر اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی دجہ نزاع کشمیر ہے۔ بہتر عشروںسے زائد عرصے پر محیط یہ تنازع چار جنگوں کے بعد اب دو ایٹمی قوتوں کے درمیان مستقبل میں تصور سے بھیانک جنگ کی بنیاد بن سکتا ہے۔پاکستان نے سفارتی محاذ پر وہ کردار ادا نہیں کیا جو مسئلہ کشمیر کا حق بنتا تھا ۔ ہم آج بھی کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ کشمیر کے جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں نے تو اپنا لہو بہا کے تحریک حریت کا حق ادا کر دیا ۔ افسوس صد افسوس کہ پاکستان کے ارباب حل و عقد اس معاملے میں باتوں سے آگے نہ بڑھ سکے  جو چابکدستی ہمارا دفتر خارجہ  امریکہ اور افغانیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے دکھا رہا ہے  کاش کہ ایسی ہی دلجمعی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے بھی دکھائی دے۔   

تازہ ترین خبریں