08:15 am
باریک واردات؟

باریک واردات؟

08:15 am

کسی سیاست  دان‘ عالم دین‘ جج‘ جرنیل یا جرنلسٹ سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف پر اسے غدار قرار دینے کی روش کسی طور پر مناسب نہیں ہے‘ دنیا دیکھ رہی ہے کہ  جو کل تک مولویوں پر الزام تراشیاں کیا کرتے تھے کہ مولوی کفر کے فتوے بانٹتے ہیں وہ لبرل آج تھوک کے حساب سے دوسروں پر غداری کے فتوے لگا رہے ہیں؟
میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ ماضی میں کس کس نے کس کس کو غدار قرار دیا تھا کیونکہ یہ بحث لاحاصل ہے‘ ہاں البتہ یہ درخواست ضرور کروں گا کہ اگر اس دھرتی پر رہنے والا ہرشخص اپنے مخالف پر غداری کا فتویٰ لگانا شروع کر دے گا تو پھر ملک کا وفادار کون کہلائے گا؟  سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کسی سیاست دان یا جرنلسٹ کو غدار سمجھتے ہیں تو پھر چاہے قیامت ٹوٹ پڑے اسے سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔ لیکن جو جرنلسٹس آئی ایس آئی کی پریس کانفرنسوں میں صف اول پر بیٹھے نظر آتے ہیں‘ اور پاک فوج کے بہادر ترجمان بڑے شفقت بھرے انداز میں جن کا نام لے کر انہیں سوالات کرنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں‘سوشل میڈیا کے ذریعے ان پر غداری کی پھبتیاں کسنا عقل سے عاری پن ہی کہلائے گا۔
 
یہ بات درست ہے کہ کسی بھی اینکر‘ اینکرنی‘ کالم نگار یا جرنلسٹس کو کسی بھی مخصوص سیاسی جماعت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اسلام‘ مسلمانوں یا نظریہ پاکستان پر سمجھوتہ کرکے غیر ملکی ایجنڈے کو پروان چڑھانا چاہیے...لیکن بدقسمتی سے رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور سے لے کر آج تک یہ ہوتا چلا آرہا ہے لیکن بدی کے اس کام میں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ سیاست دان اور حکمران بھی برابر کے شریک رہے ہیں۔
ہمارے قومی سلامتی کے ضامن اداروں کی بعض پالیسیاں بھی سمجھ سے بالاتر رہی ہیں۔ ڈاکٹر پرویز ھود بھائی‘ فرزانہ باری‘ آنجہانی عاصمہ جہانگیر اور موم بتی مافیا کے دیگر پردھانوں کی قیادت میں مٹھی بھر عناصر ’’سول سوسائٹی‘‘ کے نام پر اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنے مظاہروں میں جب یہ متنازعہ نعرہ لگایا کرتے تھے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے‘ اس کے پیچھے وردی ہے۔‘‘
ہم نے تب بھی انہی صفحات پر بار‘ بار لکھا کہ اس شدید متنازعہ نعرے لگانے والے مٹھی بھر عناصر کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے مگر ہماری بات پر کسی نے توجہ نہ دی‘ اس شدید متنازعہ نعرے کو لگانے والی موم بتی مافیا کے مٹھی بھر عناصر اسلام آباد سمیت ملک بھر کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں دندناتے ہوئے پھرتے رہے اور انہوں نے ڈالروں اور پائونڈز کی طاقت سے مزید سینکڑوں نوجوانوں کو بھی اپنی راہ پر لگا لیا اور پھر اسی  مافیا کی کوکھ  سے پی ٹی ایم نے جنم لیا جو  متنازعہ نعرے اور متشددانہ الزامات موم بتی مافیا کے پنڈت اور پردھان لگایا کرتے تھے  وہی الزامات اور نعرے پی ٹی ایم نے گود لئے سوشل میڈیا اور جلسوں میں پاک فوج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ ہی ان کی بہادری کی علامت سمجھا جانے لگا اور لنڈے کے لبرلز کے ہاں اب یہ فیشن بن چکا ہے کہ ان کے نزدیک پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا ہی بہادری اور آزاد میڈیا کی علامت سمجھا جارہا ہے۔
میں یہ مانتا ہوں کہ ہماری پاک فوج دنیا کی بہادر ترین فوج ہے‘میری فوج کے سپاہیوں کا جذبہ ایمانی آسمان کی بلندیوں سے بھی بلند تر ہے میںقلمی محاذ پر  ’’را‘‘ موساد‘ این ڈی ایس‘ ایم  آئی سکس‘ ایف بی آئی‘ امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر کے ایجنٹوں کے مقابلے میں کل بھی کھڑا تھا اور آج بھی  کھڑا ہوں۔ میری صحافت کو امریکی‘ برطانوی تنظیمیں قبول کریں نہ کریں‘ مجھے دہلی‘ فرانس یا ڈھاکہ میں بلا کر کوئی ایوارڈ دے یا نہ دے‘ میری ساری محبتیں‘ وفائیں اور قلم کی توانائیاں اسلام اور پاکستان کے لئے وقف ہیں۔
یقینا یہی وہ نکتہ ہے کہ جو ہمیں رضاکارانہ طور پر پاک فوج کے دفاع کے لئے مجبور کرتا ہے‘ پی ٹی ایم والوں کو غصہ ہے کہ ہم ان کے حوالے سے پاک فوج کے موقف کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم پاک فوج کے پے رول پر ہیں‘ نہیں واللہ یہ بات نہیں‘ اگر کوئی ’’را‘‘  اور این ڈی ایس سے ادھار تیر لے کر میرے وطن کی سرحدات کے نگہبانوں کے سینوں میں اتارنے کی کوشش کرے گا تو وہ بلوچ علیحدگی پسند ہوں یا پی ٹی ایم ان کے مکروہ چہروں سے نقاب ہٹانا ہماری اولین صحافتی ذمہ داریوں میں شامل ہو جائے گا۔
ہم پاکستان میں پیدا ہوئے‘ پاکستان میں پل بڑھ کر جواں ہوئے پاکستان نے ہمیں عزت دی‘ اگر کار‘ بنگلے نہ خرید سکے تو پھر کیا ہوا؟ واللہ اگر دو وقت کی عزت کے ساتھ یہاں روٹی بھی مل جائے تو گوروں کے پردیس کی ساری راحتیں اس پر قربان‘ پاک فوج کے خلاف جس انداز میں زہریلے‘ پروپیگنڈے کو پروان چڑھایا جارہا ہے‘وہ ملک اور قوم کے لئے نیک شگون نہیں ہے‘ آج جو عاقبت نااندیش‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ یا کراچی کے ٹھنڈے ٹھار کمروں میں بیٹھ کر فوج مخالف پروپیگنڈے کو رواج دے کر چند مفاد پرست سیاست دانوں کے منظور نظر بن رہے ہیں۔ان میں سے کوئی ایک  بھی ایسا نہیں ہے کہ جس نے اپنی ساری زندگی میں کسی ایک رات بھی سرحدات کی نگرانی کرتے ہوئے جاگ کر  گزاری ہو؟
میں مولانا فضل الرحمن کی باتوں کو فوج دشمنی اس لئے نہیں سمجھتا کیونکہ میں جانتا ہوں‘ شکوے اور شکایتیں اپنوں سے ہی کی جاتی ہیں، وہ لبرل اور سیکولر شدت پسند کہ جو ساری عمر مولانا کی سیاست کے سخت ترین مخالف رہے‘ آج وہ بھی مولانا کی خوبیوں سے بھرے ہوئے کالم لکھ رہے ہیں تو یہ حب علیؓ  نہیں بلکہ بغض معاویہؓ کے مترادف ہے‘ یعنی کبھی پرویز مشرف‘ کبھی غلام اسحاق خان‘ کبھی زرداری‘ کبھی نواز شریف اور کبھی  عمران خان کی شکل میں ’’چوری‘‘ کھائیں لبرل اور سیکولرز اور جب خون دینے کا وقت آئے‘ مزاحمت کی  باتیں ہوں تو ’’مولانا‘‘ اور ان کے اکابرین کی استعماری قوتوں کے خلاف کی جانے والی جدوجہد کی سیکولرز شدت پسند بھی رطب اللسان ہو جائیں‘ یہی وہ باریک واردات ہے جس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔