08:16 am
 انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

08:16 am

 دو روزہ انٹرا افغان امن کانفرنس ختم ہو گئی ہے ۔ اس کے خطے کے حالات اور سیاست پر ممکنہ اثرات کے بارے میں جائزے پیش ہونے لگے ہیں۔ ایسی کانفرنسز سے پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کیا حاصل کر سکتا ہے۔ اس پر بحث سے پہلے اس امن کانفرنس اور اس کے پس منظر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میںمنعقدہ اس کانفرنس کی میزبانی مشترکہ طور پر قطر اور جرمنی نے کی۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا  جس میں کہا گیا کہ کانفرنس کے شرکا دوحہ میں کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اعلامیے میں خاص طور پر اقوامِ متحدہ، خطے کے ممالک، امریکہ اور انٹرا افغان کانفرنس میں مذاکرات کا اہتمام کرنے اور تنازعے کے حل کیلئے اقدامات اختیار کرنے والوں کی کوششوں کو سراہا گیا اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان میں حقیقی قیام امن کیلئے یہ تمام فریق مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ شرکا نے کہا کہ مذاکرات سے افغانستان کے حال اور مستقبل کے بارے میں افہام و تفہیم پیدا کرنے میں مدد ملی ہے اور اس سے رکاوٹیں دور کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ لہٰذا، تمام شرکا کا اصرار تھا کہ اس طرح کے مذاکرات کو جاری رہنا چاہئیے۔ 
 
کانفرنس میں شرکاء نے اتفاق کیا کہ اول، تمام ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں پائیدار اور باعزت امن کا قیام تمام افغان لوگوں کا مطالبہ ہے اور یہ تمام افغان فریقین کی شمولیت سے ہی ممکن ہوگا۔دوم، افغانستان ایک متحد اسلامی ملک ہے اور اس میں مختلف نسلی برادریاں، اسلامی اقتدار اعلیٰ، سماجی اور سیاسی انصاف، قومی وحدت اور علاقائی خود مختاری موجود ہے اور تمام افغان لوگ ان کی پوری طرح قدر کرتے ہیں۔سوم،  افغانستان کی تمام تر تاریخ اور خاص طور پر گزشتہ چالیس سال کے دوران افغان لوگوں نے اپنے مذہب، ملک اور ثقافت کا دفاع کیا ہے اور آزادی کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان میں دوبارہ لڑائی کی اجازات نہیں دی جا سکتی اور افغان معاشرے کے تمام طبقوں کے درمیان سمجھوتا انتہائی اہم اور ناگزیر ہے۔ لہٰذا، اقوام عالم کو افغانستان کی اقدار کا پاس کرنا چاہیے۔چہارم،  چونکہ افغان قوم نے طویل عرصے سے جاری جنگ سے شدید نقصان برداشت کیا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کیلئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متحارب گروپ  سرکاری اجلاسوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف دھمکیوں، بدلہ لینے اور غیر مناسب الفاظ کے استعمال سے گریز کریں۔ گرفتار ہونے والے ضعیف، معذور اور بیمار افراد کو فوراً رہا کرنے کا اور عوامی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ خاص طور پر سیاسی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ امیگرنٹس اور بے دخل ہونے والے افراد کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ ہمسایہ ممالک سے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی گئی اور اقوام متحدہ، سیکورٹی کونسل، او آئی سی ، یورپین یونین اورپاکستان یا کسی اور کا نام لئے بغیر  افغانستان کے ہمسایہ ملکوں سے استدعا کی گئی کہ وہ ماسکو اور دوحہ کانفرنس کی حمایت کریں۔
 کانفرنس کی سب سے اہم بات یہ سمجھی گئی  کہ افغان حکومت کے کچھ عہدیداروں نے  اپنی ذاتی حیثیت میں اس اجلاس میں شرکت کی، جن میں قومی سلامتی کے نائب مشیر کے علاوہ نادر نادری اور متین بیگ جیسے نمایاں سیاستدان بھی شامل تھے۔افغان ہائی پیس کونسل کے نائب سربراہ حاجی دین محمدکے مطابق کونسل کے چار عہدیدار اور قومی سلامتی کے سابق مشیر ڈاکٹر رنگین سپانتا اور سابق نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی بھی دوحہ کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔سابق افغان صدر حامد کرزئی اس اجلاس میں شریک نہیںتھے تاہم انہوں نے اجلاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے افغان تصفیے کے حل میں مدد ملے گی۔ افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان، صادق صدیقی نے وضاحت کر دی تھی کہ  افغان حکومت دوحہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گی اور کوئی کرتا ہے تو وہ افغان حکومت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ نجی حیثیت میں شرکت کرے گا۔
 یہ پہلا موقع ہے کہ اجلاس میں حکومت کے نمائندوں کی شرکت پر طالبان نے اعتراض نہیں کیا۔ اس اجلاس کے انعقاد کیلئے افغان حکومت کی بھرپور حمایتتھی۔اجلاس میں کئی خواتین  نے بھی شرکت کی۔ ان میں سے ایک خاتون مندوب عقیلہ وردک ہیں جو خواتین کی معروف فعال کارکن ہیں۔ وہ اس وقت اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں افغان حکومت کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ عقیلہ وردک کا اعتراف ہے  کہ انہیں طالبان کے رویے میں نمایاں  تبدیلی نظر آئی ۔ ایک عشائیے میں طالبان نے ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کی اور ان کی گفتگو سے یہ بھرپور تاثر ملا کہ وہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔کانفرنس میں طالبان مندوبین خواتین کی تعلیم، ان کے کام کرنے اور وراثت کے حقوق سے متعلق بات کرنے کیلئے بھی تیار نظر آئے۔اجلاس میں شریک مندوبین نے کہا  کہ وہ افغانستان کے آئین میں دی گئی انسانی حقوق کی ضمانت کا بھرپور دفاع کرنے کے خواہشمند ہیں۔ بظاہر یہ بات چیت طالبان کی شرائط پر ہو رہی تھی  کیونکہ اس بات چیت میں کابل حکومت کا کوئی نمائندہ سرکاری حیثیت میںشریک نہ تھا۔ اگرچہ اجلاس میںافغان حکومت کے نمائندے اپنی ذاتی حیثیت میں شریک تھے،تاہم، وہ ایسے تمام نکات اٹھا رہے تھے جو افغان حکومت کا کوئی نمائندہ اپنی سرکاری حیثیت میں اٹھاتا ہے۔ 
پاکستان اور افغانستان کے لیے جرمنی کے خصوصی نمائندے مارکس پوٹزل کے مطابق، ان مذاکرات میں شرکت کرنے والے ’’اپنی ذاتی اور مساوی حیثیت میں ان مذاکرات میں شامل تھے۔‘‘ اس سے پہلے  قطر میں افغانوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اس وقت منسوخ ہو گئے تھے جب فریقین میں ان مذاکرات کے شرکا کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔ شرکا کو ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت قطر اور جرمنی کی طرف سے مشترکہ طور پر دی گئی ۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانوں کے درمیان 7 اور 8 جولائی کوہونے والے مذاکرت کی میزبانی کرنے پر قطر اور جرمنی کا شکریہ ادا کیا ۔خلیل زاد نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ یہ مذاکرات چار حصوں پر مشتمل امن عمل فریم ورک کا ایک اہم اور ضروری جزو ہیں اوریہ افغان امن عمل میں پیش رفت کی طرف اہم اقدام ہو گا۔
افغانوں کے درمیان مذاکرات کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا تھا جب زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ساتواں دور قطر کے د ا ر ا لحکو مت  دوحہ میں جاری تھا۔افغانستان کے سیا ستد ا نو ں، سول سوسائٹی اور صحافیوں کی طالبان نمائندوں سے ملاقات کے لیے قطر اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں دو روزہ بین الافغان کانفرنس دوحہ میں ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ  کانفرنس میں جنگ بندی پر بھی بات چیت کی جائے گی تا ہم جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ خاموش ہے۔ کانفرنس کا مقصد افغانستان کے مختلف طبقوں کو طالبان سے ملاقات کا موقع دے کر افغان تصفیے کا حل تلاش کرنا تھا۔        (جاری ہے)