08:16 am
شکریہ !نیوزی لینڈ

شکریہ !نیوزی لینڈ

08:16 am

٭صادق آباد ایک اور ٹرین کا الم ناک حادثہ، مال گاڑی سے ٹکر، 12 افراد جاں بحق!خانیوال، ٹرین کا ایکسل ٹوٹ گیا، انجن گاڑی چھوڑ کر چلا گیاO جعلی اکائونٹس سندھ بنک کا صدر، نائب صدر، سابق صدر گرفتار، O وائٹ ہائوس امریکہ، عمران خان کے دورے کی تصدیقO کرکٹ ورلڈ کپ، نیوزی لینڈ کی جیت، بھارت میں سوگ O لاہور نوازشریف کا گھر، سڑک پر ساری رکاوٹیں ختمO جیل میں نوازشریف کے لئے شاہی کھانے۔
 
٭صادق آباد کے نزدیک اکبر ایکسپریس ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 13 مسافر جاں بحق 60 زخمی، پانچ بوگیاں الٹ گئیں! وزیرریلوے شیخ رشید کا رسمی اظہار افسوس! وزارت ریلوے جب سے موصوف کے زیر سایہ آئی ہے، حادثے پر حادثہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پچھلے دس گیارہ ماہ میں حادثوں کی تعداد 30 (شائد اس سے بھی زیادہ) سے بڑھ چکی ہے، متعدد مسافر جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہر اتوار کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کے خبط میں مبتلا لال حویلی والے وزیر ریلوے کو پہلے حادثہ پر ہی مستعفی ہو جانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور ڈیڑھ سو سالہ پرانی خستہ حال، ناکارہ ریلوے پٹڑیوں پر اندھا دھند کئی نئی ناکارہ ٹرینیں چلا دی گئی ہیں۔ پرانی ٹوٹی پھوٹی بوگیوں پر رنگ پھیر کر انہیں ایکسپریس اور سپر ایکسپریس ٹرینوں کے نام سے چلایا جا رہاہے۔ اپنی عمر پوری کرنے والے شکستہ حال بورھے انجن لگائے جا رہے ہیں۔ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو لال حویلی کا اعلان آ جاتا ہے کہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے! وزیر ریلوے نے کبھی کسی جائے حادثہ پر خود جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی! دکھ کی بات کہ اتنے بڑے حادثے کے بعد ریلوے کا صرف اتنا اعلان آیا ہے کہ باقی بچنے والی گاڑی کو روانہ کر دیا گیا ہے! استغفار! یہ سطریں لکھ رہا تھا کہ حسن ابدال کے نزدیک ٹریفک حادثہ میں 13 افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر آ گئی۔ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون!
٭قارئین کرام! کھیلوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے مگر بعض واقعات غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ گزشتہ روزکرکٹ کے ورلڈ کپ مقابلوں میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے نہائت غیر متوقع طور پر بھارت کو شکست دے کر غیر معمولی اپ سیٹ کردیا۔ اس پر پورے بھارت میں سکتہ اورسوگ کا عالم طاری ہو گیا اور جس بھارتی ٹیم کی اب تک کی کارکردگی کے قصیدے پڑھے جا رہے تھے، اس کے اچانک ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے باہر نکالے جانے پر بھارتی میڈیا اور سینئر کھلاڑی شدید نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ ابتدا میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان اور بھارت نے شکست دی تھی، یہی ٹیم نے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ میدان میں آئی تو بھارت کی ٹیم کے چھکے چھڑا دیئے۔ اس میچ کی تفصیل اخبار میں موجود ہے۔ دلچسپ منظر وہ تھا جب سٹیڈیم کے اندر بھارت کی شکست پر سکھوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور پاکستانیوں نے نیوزی لینڈ کے پرچم لہرائے۔ بھارتی سینئر کھلاڑیوں نے موجودہ کپتان کوہلی کی سخت خبر لی ہے کہ اس نے ٹیم کی بہت غلط قیادت کی۔ ایک اہم اور دلچسپ واقعہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان، ادارے ’’آئی ایس پی آر‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کی شکست پر نیوزی لینڈ کو مبارکباد دے دی ہے۔ اس پر بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں کو محاورہ کے مطابق مرچیں لگ گئی ہیں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔
قارئین کرام! میں اول سے آخرتک پاکستانی ہوں۔ مجھے بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کا غرور پاش پاش کرنے پر بے حد خوش ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ کو بے حد مبارکباد! مگر ایک پہلو یہ بھی ہے کہ میں بہت حساس انسان بھی ہوں۔ میں بھارت کی شکست پر بے حد و حساب خوش ہوں مگر اپنی حساسیت کا کیا کروں کہ بھارت کی شکست کے بعد سٹیڈیم میں بھارتی ناریاں جس طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی ہیں، مجھ سے وہ منظر دیکھا نہیں گیا! ہائے ہائے! انہیں دور دور تک اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے!ٹیلی ویژنوں والے بھی تماشائیوں میں سے صرف خوبصورت چہرے اور ان کی مسکراہٹیں دکھاتے ہیں۔ بہت سی خوبصورت بھارتی خواتین کس طرح بن ٹھن کر آئیں کیسا کیسا میک اپ کیا ہوا تھا! تماشائیو ںکو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میچ دیکھیں یا غالب کی زببان میں جمالِ دِل فراز، صورتِ میر نیم روز (چاند) کا نظارہ کریں؟ اچانک ان ادا فشاں ہنستے مسکراتے چہروں پر ستم آشنا برق یوں آگری کہ بھارتی ٹیم بری طرح سے رزقِ خاک ہو گئی۔ اس ناگہانی صدمہ پر حسین و جمیل بھارتی مہلائیں (لڑکیاں)اور ناریاں جس کیفیت سے دو چار ہوئیں میں اس کا شعروں میں تو نقشہ کھینچ سکتا ہوں مگر نثر میں بیان کرنا مشکل ہے۔ گلے میں دوپٹہ نہ ہاتھوں میں کوئی ٹشو پیپر! حُسنِ جہاں سوز نے جس طرح انگلیوںکی نوک سے آنکھوں سے بے تحاشا نکلنے والے آنسوئوں کے موتیوں کو نیچے جانے سے روکا! وہ قابل دید منظر تھا۔ مگر پھر بھی آنکھیں ساون بھادوں بن جائیں تو بارش کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ سب کا خوبصورت میک اپ ضائع ہو گیا اس کے ساتھ ہی میرے حساس دل میں ان بے چاریوں کے ساتھ دکھی ہونے کی جو معمولی سے ابھری تھی وہ ختم ہو گئی۔
بلاول زرداری بلکہ پورے زرداری خاندان کی تاریخ سے مکمل بے خبری اور لاعلمی پر ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں۔ اس انتہائی مذموم بدزبانی کا بھی ذکر کر چکا ہوں جو زرداری کے والد حاکم علی زرداری نے قائداعظم اور ان کے محترم والد جینا پونجا کے بارے میں کی تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ نئی نسل کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ چلئے، درست! مگر یہ کیا کہ بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب خان کے ایجنٹ کی حیثیت سے مادر ملت فاطمہ جناح کے خلاف صدارتی انتخابات کی مہم منظم کی۔ اس میں قائداعظم کی عظیم بہن کے خلاف ناقابل بیان ہرزہ سرائی کی گئی۔ اور انتہائی دھاندلی کے ساتھ مادر ملت کی واضح جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔ اس پر بھٹو نے فخر کا اظہار بھی کیا! اور اب! …اب! اسی ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ بلاول زرداری 9 جولائی کو مادر ملت کی برسی پر کیا کہہ رہا ہے! پڑھئے اور سر دُھنیے! بلاول نے کہا کہ ’’…پیپلزپارٹی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی جدوجہد کا تسلسل ہے، وہ برصغیر پاک و ہند کی دختر عظیم تھیں۔ انہوں نے نظریہ جمہوریت کے تحفظ کے لئے اپنے وقت کے ڈکٹیٹرایوب خان کا مقابلہ کیا!‘‘ اس پر کیا کہا جائے؟ کیا لکھا جائے؟اس ڈکٹیٹر کو بھٹو نام کا وزیرخارجہ ڈیڈی کہا کرتا تھا۔
٭تھڑا سیاست دان علم دین اکثربے تکی باتیں کرتا رہتا ہے۔ اب ایک عجیب درخواست کر دی ہے کہ اسے کسی طرح لاہور کی جیل میں بند میاں نوازشریف کے ساتھ ہیلپر (چپڑاسی) رکھوا دیا جائے۔ اس کی وجہ اخبارات میں شائع ہونے والی کھانوں کی وہ فہرست ہے جو جیل حکام کو سرکاری طور پر موصول ہوئی ہے۔ اس میں ہفتے کے ساتھ دنوں میں روزانہ دیئے جانے والے کھانوں کی تفصیل درج ہے۔ ان کھانوں کا ذکر پڑھئے۔ اس کے مطابق ناشتے اور دوپہر کے کھانوں میں انڈے، ہر قسم کے پھل، پھلوں کا جوس، دیسی مرغی کا گوشت اور بکرے کے گوشت کا قیمہ، مٹن کڑاہی سبزی گوشت، سٹیم روسٹ ، چکن سینڈوچ، دودھ، بادام، اخروٹ، گرین ٹی، سادہ روٹیاں… اور…اور مہینے میں ایک بار سری پائے!! ظاہر ہے یہ مغلئی مرغن کھانے نوازشریف اکیلے تو نہیں کھا سکیں گے! ہیلپروں کو اتنا عمدہ کھانا اور کہاں نصیب ہو گا؟ کہا جاتا ہے کہ نوازشریف دل کے مریض ہیں!
٭اپوزیشن نے بلوچستان کے سنیٹر حاصل بزنجو کو سینٹ کے چیئرمین کا امیدوار نامزد کر دیا۔ صادق سنجرانی کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایا گیا صرف یہ کہ وہ آصف زرداری کے فرماں بردار نہیں تھے۔ شائد حاصل بزنجو نے فرمانبرداری کا یقین دلادیا ہو!