07:32 am
 انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

07:32 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
افغانوں کے درمیان مذاکرات کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا تھا جب زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ساتواں دور قطر کے د ا ر ا لحکو مت  دوحہ میں جاری تھا۔افغانستان کے سیا ستد ا نو ں، سول سوسائٹی اور صحافیوں کی طالبان نمائندوں سے ملاقات کے لیے قطر اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں دو روزہ بین الافغان کانفرنس دوحہ میں ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ  کانفرنس میں جنگ بندی پر بھی بات چیت کی جائے گی تا ہم جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ خاموش ہے۔ کانفرنس کا مقصد افغانستان کے مختلف طبقوں کو طالبان سے ملاقات کا موقع دے کر افغان تصفیے کا حل تلاش کرنا تھا۔
بین الافغان اجلاس میں افغانستان سے 50 مندوبین شر یک  تھے جن میں سیاستدان، سول سوسائٹی اور معتبر صحافیوں سمیت پہلی بار خواتین بھی شامل تھیں۔طالبان ترجمان بتا رہے تھے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں 80 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔ بین الافغان کانفرنس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا جس میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔
 
 امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بعض حل طلب معاملات پر گفتگو ہونا باقی ہے۔طالبان افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کے بقول افغان حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے‘ لہٰذا فیصلہ سازی کا اختیار بھی امریکہ کے پاس ہے  تاہم بعد ازاں  وہ انفرادی حیثیت میں افغانستان کے مختلف سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے اہم اراکین سے ملاقات کے لیے تیار ہو گئے تھے۔افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان اب تک مذاکرات کے 7 ادوار ہو چکے ہیں۔جرمنی اور قطر کے علاوہ روس اور چین بھی افغان تنازعہ کا پرامن حل چاہنے کا موقف پیش کر چکے  ہیں۔ طالبان رہنماؤں کے ایک وفد نے حال ہی میں چین کا دورہ بھی کیا تھا۔پاکستان نے بھی چند روز قبل مری کے پرفضا مقام بھوربھن میں ایک افغان کانفرنس کا اہتمام کیا  جسے 'لاہور پراسیس' کا نام دیا گیا ، جس میں افغانستان کی سیاسی قیادت سمیت  57 مندوبین نے شرکت کی۔
پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر عمر زخیلوال کا کہنا ہے کہ بین الافغان کانفرنس کا مقصد امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔ رواں سال اپریل میں بھی اسی نوعیت کی ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ۔ تاہم مندوبین کی تعداد کے معاملے پر اختلافات کے باعث یہ التوا کا شکار ہو گئی تھی۔امریکہ افغان طالبان کے ساتھ ستمبر میں کسی ممکنہ سمجھوتے تک پہنچنے کا خواہاں ہے مگر فی الحال کسی جامع سمجھوتے تک پہنچنا شاید مشکل ہوگا، کیونکہ ابھی تک افغان حکومت بھی طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت میں شامل نہیں ہوئی۔گزشتہ ماہ، افغانستان کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے کہہ دیا تھا کہ امریکہ کو امید ہے کہ وہ یکم ستمبر تک افغانستان میں کسی امن سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا،کیونکہ یقیناً یہی ہمارا مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے حقیقی پیش رفت حاصل کی ہے، اور ہم ایک مجوزہ مسودے کو مکمل کرنے کے قریب ہیں، جس میں طالبان کے وعدوں کو تحریر کیا جائے گا کہ وہ اپنے افغان ہم وطنوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا مگر ستمبر تک کسی جامع سمجھوتے کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک ’ولسن سینٹر‘ سے منسلک مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ یہ سوچنا کہ یکم ستمبر تک کوئی جامع سمجھوتہ طے پا جائے گا، بہت ہی غیر حقیقی ہے۔ جنگ بندی اور سیاسی تصفیے کے حوالے سے یکم ستمبر تک ایک بھرپور معاہدہ طے کرنے کیلئے شاید چھوٹا سا معجزہ چاہئیے۔ طالبان کے ساتھ امریکی افواج کے انخلا پر بہرحال معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کابل میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ نے طالبان پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں ہٹانے کیلئے تیار ہے۔ تاہم اس کے لئے کسی معینہ مدت یا وقت سے اتفاق نہیں کرتا۔ خصوصی ایلچی خلیل زاد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ طالبان کسی حتمی معاہدے پر پہنچنے سے پہلے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کریں۔ ستمبر تک معاہدہ حاصل کرنے کے پیچھے امریکہ کی مقامی سیاست کا بھی دخل ہے۔  وزیر خارجہ پومپیو کی جانب سے ستمبر سے پہلے سمجھوتہ طے کرنے کے پیچھے بہت سے سفارتی معاملات بھی ہیں، جن میں امریکہ کو ناکامی ہوئی، جن میں سر فہرست شمالی کوریا اور ایران کے معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ  2020ء کی صدارتی انتخاب بھی اس کا حصہ ہیں۔ شاید طالبان کیلئے مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں۔  اگر امریکہ، ایران کے ساتھ جنگ کرنا چاہتا ہے تو وہ طالبان کو مزید رعایتیں دے گا۔ لیکن، اگر امریکہ کا ایسا کوئی ارادہ نہ ہوا تو پھر طالبان کا وزن کم ہوتا جائے گا۔
حالات بتا رہے ہیں کہ امریکہ کشیدگی کے اس دور میں ایران کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتا۔ افغانستان امن عمل میں پاکستان کی وابستگی لازمی ہے۔ پاکستان کو طالبان سے باہر اور موجودہ انتظامی سیٹ اپ میں اپنے اتحادی تلاش کرنا ہیں۔ جب کہ پاکستان دشمن ممالک کو اسلام آباد کے  مفادات کو نقصان پہنچانے سے ہر صورت میں باز رکھنا ہے۔ گو کہ عمران خان حکومت اندرونی حالات میں جکڑی ہوئی ہے۔ مگر اسے خارجہ پالیسی کی بے باکی اور عالمی اور علاقائی ماحول کو سمجھتے ہوئے افغانستان سے کنارہ کشی یا اسے دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑننے کا خطرہ مول لینے کی تحریک کرنے والے عناصر اور عوامل سے باہر نکلنا ہے۔