07:33 am
 پاکستان کے لئے عالمی اقتصادی فورم کی اہمیت

پاکستان کے لئے عالمی اقتصادی فورم کی اہمیت

07:33 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
عالمی اقتصادی فورم کا مقصد ہے ’’عالمی حالات میں بہتری‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا بھر کی قیادت کو عالمی، خطوں اور صنعت کے ایجنڈے کی تشکیل کے  لیے ایک جگہ جمع کیا جائے۔ ڈیووس میں آپ کا بیانیہ نہ صرف سنا جاتا ہے بلکہ اسے سمجھا بھی جاتا ہے۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کی آواز عوامی سیشن میں بھی سنی جائے۔ مٹھی بھر بزنس مین ڈیوس میں پاکستان کی نمائندگی کا بار گراں نہیں سہار سکتے۔ ڈیووس پاکستان کو دنیا سے مثبت انداز میں متعارف کروانے کے لیے ایک انتہائی اہم موقع ہے، ہمارے بڑے بزنس لیڈرز کو اس پلیٹ فورم میں شرکت کو اہمیت دینی ہوگی، کیوں کہ جس  انہوں نے کاروبار کے میدان میں کام یابیاں حاصل کی ہیں، یہاں بھی ان کا چرچا ہونا ضروری ہے۔ دنیا بھر کے امیر ترین، طاقت ور اور صاحبان علم کے حلقوں کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ عالمی اقتصادی فورم  معاشی، سماجی اور سیاسی حوالے سے منعقد ہونے والا اہم ترین ایونٹ بن چکا ہے۔
 عالمی اقتصادی فورم کا مشن’’دنیا کے حالات میں بہتری‘‘ ہے جس کا اصل مفہوم عالمی لیڈز کے باہمی تعاون سے عالمی، خطے اور کاروباری ایجنڈے کی تشکیل ہے۔
 
 عالمی اقتصادی فورم نے بدعنوانی کے مواقعے کے خاتمے کے خلاف  شراکت داری “Partnership Against Corruption Initiative” (PACI) کا آغاز کیا تھا، راقم 2013ء سے اس کا رکن ہے۔ اس کے ذریعے فورم کی کرپشن کے خلاف کاوشوں کو سمت دی گئی، اس گروپ کے اجلاس میں وہ اہم ترین لوگ شریک ہوتے ہیں جو کاروبار کے فروغ کے لیے بدعنوانی سے پاک ماحول کے لیے پالیسی سازی کے لیے کوشاں ہیں۔ اجلاس کے شرکا کرپشن سے نمٹنے کے مؤثر طریقوں اور انتظامی ڈھانچوں پر انحصار بڑھانے کے لیے میدان ہموار کرنے سے متعلق تجاویز دیتے ہیں۔ باسل انسٹی ٹیوٹ، ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل اور وینگارڈ جیسے اداروں سمیت 100سے نمایاں کمپنیاں اور ادارے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ فلور کارپوریشن کے چیئرمین اور چیف ایگزیکیٹیو(پی اے سی آئی وینگارڈ کے سابق چیئرمین) ڈیوڈ سیٹون کے مطابق:’’ وقت آ پہنچا ہے کہ کاروباری و حکومتی قیادت اور سول سوسائٹی کرپشن اور رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کُن اقدامات کی حمایت کریں۔ ہمیں مل کر ایک ایسا عالمی ایجنڈا اور کثیر الجہات شراکت داری ترتیب دینا ہوگی جو ترقی کے لیے مددگار، مسابقت اور قیادت پر مکمل اعتماد کی فضا قائم کرے۔ ’’کیتھم ہاؤس رولز‘‘ او ای سی ڈی کی سیکریٹری جنرل اینجل گوریا کے قابل تحسین کرادر کے ذکر میں مانع نہیں۔ او ای سی ڈی کا رشوت ستانی کے خلاف کنوینش کرپشن سے مقابلے کی فضا ہموار کرنے کے لیے جامع قانونی حل فراہم کرتا ہے۔ پی اے سی آئی انفرااسٹرکچر کے منصوبوں میں بدعنوانی کے تدارک کے لیے حکومتوں کے ساتھ قومی و معاشرتی سطح کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 
عالمی اقتصادی فورم میں دیگر کے ساتھ پاتھ فائنڈر اور مارٹن ڈو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ برسوں سے یہ دونوں ادارے مشترکہ طور پر ڈیووس میں پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دینے کے لیے کاوشوں میں مصروف ہیں۔ میرا بیٹا ضرار سہگل، ایک ڈبلیو ای ایف ینگ گلوبل لیڈر   ہے اور ڈیووس میں گروپ کی نمائندگی کرتا ہے۔ دونوں گروپس مشترکہ طور پر روایتی ’’پاکستان بریک فاسٹ‘‘ کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ تقریب بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو درپیش منفی امیج کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مددگار ثابت ہوا اور اس میں انتہائی نمایاں شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ 2018ء میں اس تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بہت درست نشاندہی کی تھی’’ آپ کے سامنے دو پاکستان ہیں۔ ایک جو سی این این دکھا ہے اور دوسرا حقیقی پاکستان‘‘۔ اس سے مراد عالمی میڈیا میں پاکستان سے متعلق منفی خبروں کو نمایاں کرنے کے چلن کی نشاندہی کرنا تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان سے متعلق مثبت اور اچھی خبروں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ تاثر اور حقیقت کے مابین پائی جانے والی اس خلیج کو پاٹنے کے لیے پاکستان بریک فاسٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تقریب کے مہمان اعلیٰ پاکستانی قیادت کے ساتھ بڑی دلچسپی سے تبادلۂ خیال کرتی ہے۔ اس برس وزیر اعظم پاکستان اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکے۔ 
عالمی اقتصادی فورم کے صدر اور سابق نارویجین وزیر خارجہ برگی برندے  کا حالیہ ایک روزہ دورۂ پاکستان بلامبالغہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ عالمی اقتصادی فورم کے پاکستانی اراکین کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ بدقسمتی سے عام طور پر ایسے عالمی فورمز میں شرکت اور رابطوں کو اخراجات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ رواں برس فورم میں وزیر اعظم عمران خان کی عدم شرکت سے یہ پیغام ملا کہ ہماری حکومت اس فورم کی اہمیت سے واقف نہیں۔ اپنے گزشتہ کالموں میں سے ایک میں لکھا تھا ’’ ہمارے سرکاری سفارتی عملے اور سرکاری میڈیا مشینری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی منفی تاثر کا ازالہ کرے۔ مگر ڈیووس بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے لیے کام کرنے کے حوالے سے مسلسل ناکامی کی ایک زندہ مثال ہے۔‘‘ ایسے مواقع ضایع کرنے  کا رویہ تبدیل کرنے کا  یہ سنہرا موقع ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے صدر کا دورہ مختصر سہی لیکن اپنی اہمیت کے اعتبار سے انتہائی غیر معمولی ہے اور مستقبل میں عالمی سطح پر باہمی تعاون بڑھانے کے اعتبار سے پاکستان کے لیے چشم کشا ثابت ہوسکتا ہے۔ فورم کے صدر وزیر اعظم عمران خان ، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب، مشیر پٹرولیم ندیم بابر، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد، مشیر ماحولیاتی تغیرات، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، مشیر برائے انسانی وسائل ذوالفقار بخاری، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور دیگر حکومتی ارکان سے ملاقات کریں گے۔ گزشتہ بیس برسوں میں عالمی اقتصادی فورم کے کسی صدر کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی حالات پر کس طرح نظر رکھے ہوئے ہے۔  مرحوم جاوید اوکھائی کے صاحب زادے اور چیئرمین مارٹن ڈو گروپ علی اوکھائی، غیر معمولی صلاحیتوں اور وژن کا حامل کھرا پاکستانی ضرار اور  راقم  الحروف صدر عالمی اقتصادی فورم کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے جہاں ان سے فورم کے عالمی ایجنڈے میں پاکستانی شمولیت سے متعلق روبرو اظہار خیال کا موقع ملے گا۔  امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی حکام سے براہ راست ملاقاتیں عالمی برادری کے ساتھ معاشی، سماجی اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔ صدر عالمی اقتصادی فورم کو پاکستان کے مسائل کا ذاتی مشاہدہ ہوگا تو وہ ان سے متعلق اپنی رائے عالمی سطح پر بھی پیش کریں گے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ (کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں