07:33 am
یوم شہدائے کشمیر 

یوم شہدائے کشمیر 

07:33 am

13جولائی پوری دنیا کو کشمیر کی تاریخ  کے ، سیاہ ترین دن 13جولائی1931 ء کی یاددلاتاہے ۔ یہ دن،کشمیر پر غیرملکی قابض ہندو سامراج اور ہندوتوا کے تاریخی،  انسانیت دشمن بھیانک چہرے کوبے نقاب کرتا ہے ۔ 1931ء کی ریاستی دہشت گردی، جذبہ حریت سے سرشار مظلوم کشمیریوںکی ناقابل یقین اورناقابل فراموش قربانیوں کی یاد ،  دلاتی ہے ۔
 
سری نگرجیل کے سامنے نوجوان عبدالقدیر  جس نے 25جون 1931ء کو کشمیری مسلمانوں کی آزادی کے حق میں تقریر کی تھی‘  کے مقدمے کے دوران نماز کا وقت ہوگیا ۔ ایک کشمیری نوجوان نے اذان دینا شروع کی ۔ گورنر ترلوک چند نے فائرنگ کا حکم دیا ، جس پر ہندو پولیس نے فائرکرکے اسے شہید کردیا ۔اس پر ایک اور مسلم نوجوان نے وہیں سے اذا ن کا سلسلہ شروع کردیا ۔ ہندو پولیس نے اسے بھی فائرنگ کرکے شہیدکردیا۔ ایک تیسرانوجوان کھڑا ہوگیا اس نے پھر اذان کا سلسلہ شروع کردیا جس پر ہندو پولیس والے انہیںشہید کرتے رہے یہاں تک کہ 22نوجوانوں نے اذان مکمل کرتے ہوئے شہادت پائی۔  سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ بعد میں شہداکی تعداد 24ہوگئی ۔ خانقاہ معلی میںان کے مزارات آج بھی   جدوجہد آزادی کشمیر کی تحریک کیلئے مشعل راہ بنے ہوئے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اور پوری دنیامیں موجود کشمیری اور پاکستانی اس دن کو یوم شہدائے کشمیر کے نام  بھرپور طریقے سے مناتے ہیں۔
13جولائی1931ء کے شہدا کو خراج عقیدت کرتے ہوئے ، کشمیری قوم غیرملکی قابضین سے آزادی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے ۔ نوجوان نسل اپنے بزرگوں کی راہپر چلتے ہوئے دنیا میں موجودبدی کی ایک بڑی طاقت (بھارت) کے خلاف برسرپیکارہے ۔جس نے  جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی  فوج کے مظالم کی انتہا نے تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی جلا بخشی ۔ نہتے اور معصوم کشمیریوں پر ڈنڈے  پیلٹ گن ،اور گولیاں برساتے برساتے بھارتی فوجی تھک گئے  لیکن کشمیریوں کے حوصلے بلند سے بلند تر ہورہے ہیں ۔ بچے بوڑے ہوں یا نوجوان سینے پر گولی کھا کر بھی نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں ۔
ہم چھین کے لیں گے آزادی 
 تحریک آزادی کی شمع جلانے والی طالبات بھی کہتی ہیں ۔’’کشمیری شہید ہوتے ہیں تو ہونے دو ، ہم لے کر رہیں گے آزادی ۔‘‘کشمیر کی بہادر مائیں بھی کہتی ہیں بیٹے نہیں مانتے ، ہم ان کے ساتھ ہیں ۔
   پروفیسر حمیدہ نعیم پروفیسر ،تجزیہ کار کشمیر یونیورسٹی ،مقبوضہ جموں وکشمیر کا کہنا ہے کہ    بیٹے ،بھائی ،شوہر باہر جائیں تو واپسی کی خبر نہیں ہوتی ۔ گھروں میں ہوں تو بھارتی فوجی چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کرتے ہوئے اغواکرکے غائب یا شہید کردیتے ہیں ۔ بدترین بھارتی   بربریت اور بے یقینی کی حالت میں بھی زندگی رواں دواں ہے ۔ 
70سالہ تحریک آزادی کو 8جولائی 2016ء    کو برھان وانی کی شہادت نے ایک نئی زندگی دی   انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بننے والے برھان وانی کے خاندان میں اس کے بڑے بھائی خالد وانی کو اس کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شہید کیا گیا تو اس 15سالہ نوجوان نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے چھ سالہ جدوجہد میں، بھارتیوں کے جنگی جرائم اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ آگاہ کیا  جس کی وجہ سے بھارت کا ستر سالہ پروپیگنڈہ بری طرح بے نقاب ہوگیا کہ،جدوجہد آزادی میں پاکستان سے آنے والے مجاہد شامل ہیں ۔سوشل میڈیا کے استعمال سے کشمیر کی نوجوان نسل کی جدوجہد آزادی کو ایک نیا حوصلہ ملا۔
 کوئی دن ایسا نہیں جس دن کشمیر میں کسی نوجوان بچے ،معصوم بچی ،یا بزرگ کو شہید نہ کیا جائے ۔ شہیدوں کے خون نے کشمیر کوایک نئی جان دی ہے ۔ برھان وانی کشمیر کی نئی نسل کا وہ ہیرو ہے ۔جسے پوری دنیا تسلیم کرچکی ہے ۔اس کی تقلید میں ڈاکٹر منان وانی ،سبزوار صوفی ان جیسے سینکڑوںاعلی ٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے کشمیر کی آئندہ نسلوں کی آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں ۔ اس وقت کا کشمیر کا کوئی ذرہ ایسا نہیں جو کسی شہید کے خون سے لالہ زار نہ بنا ہو۔ 
  مظفر وانی والد شہید برھان مظفر وانی  کی  والدہ  کہتی ہیں کہ کشمیر کی مائوں اور بہنوں کی گودیں شہادت کی درس گاہیں بن چکی ہیں۔ وہ فطری دکھ کو برداشت کرچکی ۔اب وہ اپنے شہید بیٹوں کے جنازوں کو گن سیلوٹ اور آزادی کے نعروں کے ساتھ جنازہ گاہ بھیجتی ہیں ۔ان نوجوانوں کے عظیم حوصلہ مند، والدین جنہوں نے ان کے مستقبل کے سنہرے خواب دیکھے تھے ۔انہوں نے ان کی قربانی کو اللہ ،رسول ﷺ کے نام پر کشمیر کی آزادی کیلئے ان کا حصہ قرار دیا ۔
قابض بھارتیوں کے مظالم کی گونج بین الاقوامی برادری ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن میں بھی سنی گئی ۔ اقوام متحدہ نے بھارتی جنگی جرائم اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی جس پر بھارتی بدحواسی میں چیخنے چلانے لگے ۔ ان کی اس حرکت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر درست قراردیا ۔ 
  چھرے ،گولیاں ،آنسو گیس ،پیلٹ گن سمیت کوئی مہلک ہتھیار نہیں جو بھارتی فوج نہتے اور معصوم کشمیریوںکے خلاف استعمال نہ کررہی ہو ۔10لاکھ بھارتی فوجیو ں نے کشمیر کو یرغمال بنارکھا ہے ۔لاکھوں مائوں کی گودیں اُجڑ چکی ہیں ۔ 
1100سے زائد افراد کو نابینا کردیا گیا ہے ۔ ہزاروں عورتیں بیوہ ہوئی ،ہزاروں کی عزت پامال کئی گئی ۔  اننت ناگ ،پلوامہ اور شوپیاں میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی بے دریغ نسل کشی اور شہادتوں پر بین الاقوامی میڈیا کہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔
 13جولائی2019ء کا یوم شہدائے کشمیر کے دن قوم تجدیدعہد کرتی ہے ،کہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بدی کی طاقت بھارت کے ناجائز قبضے سے نجات حاصل کرکے رہیں گے کیونکہ آزادی کے متوالے ظلم واستبداد کے ہتھکنڈوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے ۔وہ آخری سانس تک پرامن جدوجہد کرتے ،بھارتی تشدد اور جیلوں کے مصائب برداشت کرتے  اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیتے ہیں  ۔ سامراجی بھارت ٹوٹ رہا ہے ۔ آزادی کی منزل کٹھن لیکن قریب ہے ۔   آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے ۔ ان شااللہ