07:34 am
ٹیکسوں کا کوڑا عوام کی پشت پر

ٹیکسوں کا کوڑا عوام کی پشت پر

07:34 am

کہیں ڈان لیکس‘ کہیں نیوز لیکس اور کہیں وڈیو لیکس‘ یہ سیاست دان‘ جج‘ جرنیل‘ حکمران اور جنرنلسٹ اس ملک و قوم پر رحم کھائیں‘ یاد  رہے کہ ان سب ’’لیکس‘‘ میں کوئی مدرسہ‘ کوئی جہادی یا مولوی ملوث نہیں ہے …71 سال ہوگئے پاکستان کو قائم ہوئے‘ چلو اچھا ہوا‘71 سال بعد عمران خان کی شکل میں کوئی تواس ملک کو ایسا وزیراعظم ملا کہ جس نے عوام کی نہ صرف یہ کہ چیخیں نکلوا دیں‘ بلکہ چولیں تک ہلا ڈالیں‘ عمران خان کے ویژن کو دیکھ کر ’’پتاشے‘‘ تقسیم کرنے کو جی چاہتا ہے …سابق حکمران ملکی خزانے  کو لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بناتے رہے ‘ حکمران‘ منی لانڈرنگ سے لے کر کک بیکس تک میں ملوث رہے لیکن ٹیکس کے کوڑے برسائے جاہے ہیں غریب عوام کی پشت پر‘ کہتے ہیں جی کہ قومی خزانہ خالی ہے ‘ لیکن اس خالی قومی خزانے میں سے  اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا گیا‘ اسی قومی خزانے میں سے ہی وکیلوں میں17کروڑ کے لگ بھگ رقم تقسیم کی گئی‘  یہ قومی خزانہ حکومتی اللے تللے تو پورے کرسکتا ہے ‘ ہاں مگر کسی غریب کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اس خزانے میں کوئی پیسہ نہیں ہے۔
 
یہ کیسے کھوکھلے کردار کے حامل وزراء ہیں کہ جو غریب پاکستانیوں کی پشت پر ٹیکسوں کا کوڑا برساتے ہوئے ساتھ امریکہ اور لندن کی مثالیں دیتے ہیں‘ جن ملکوں کا یہ نام لیتے ہیں ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنے عوام کو جس طرح سے سہولیات دے رکھی ہیں ان سہولیات کا100 واں حصہ بھی یہ اپنے عوام کو دینے کے لئے نہ تیار ہیں اور نہ آمادہ‘ کوئی ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو جاکر دیکھے تو اسے مذبحہ خانوں کا گماں گزرے گا۔
یعنی طبی شعبہ ہو‘ تعلیم کا شعبہ ہو‘ معیشت ہو یا معاشرت‘ ہر شعبہ برباد ہے اور یہ لگے ہیں ٹیکسوں کے نام پر عوام کا خون نچوڑنے‘ پاکستانی معیشت کا جنازہ یہودی آکٹوپس نے نکال کر رکھ دیا ہے‘ اور موصوف فرماتے ہیں کہ تم مرو یا جیو ہمیں ٹیکس دو‘ جیتو یا ہارو! مگر ہمیں ٹیکس دو‘ چھوٹے دوکاندار ہوں ‘ دیہاڑی دار ہوں ‘ چھابڑی فروش ہوں‘ مزدور ہوں ‘ بڑے تاجر ہوں یا ملازمت پیشہ لوگ‘ خون کے آنسو رو رہے ہیں مگر حکومت کہتی ہے کہ ہمیں ٹیکس دو‘ صنعتیں‘ کارخانے بند ہو رہے ہیں‘ کاروبار ٹھپ پڑے ہیں… مگر حکومت کہتی ہے ہمیں ٹیکس دو‘ گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں‘ بچے بھوک سے بلک رہے ہیں مگر حکومت کہتی ہے ‘ تم بھوک سے مرتے ہو تو مرو‘  بیماری تمہیں مارتی ہے تو مار ڈالے ‘ مگر ہمیں ٹیکس دو۔
ساڑھے چودہ سو سال پہلے ریاست مدینہ کا یہ حال نہ کبھی کسی نے دیکھا اور نہ پڑھا‘ نام ریاست مدینہ کا اور کام لالچیوں والے‘ نام ریاست مدینہ کا اور غلامی آئی ایم ایف کی‘ نام ریاست مدینہ کا اور معیشت سود پر‘ نام ریاست مدینہ کا اور لاہور میں مجسمہ راجہ رنجیت سنگھ کا‘ حالانکہ ریاست مدینہ کے والی محمد کریمﷺ نے تو سب سے پہلے بیت اللہ کو بتوں اور مجسموں سے پاک کیا تھا‘ کیا حکومت نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ عالمی ایجنڈے کے تحت پاکستانی مسلمانوں کو دانے دانے کا محتاج کرکے ان سے غیرت ایمانی چھین لے سکتی ہے؟
ایں خیال است و محال است و جنوں است
اگر عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو پھر وہ بتائیں کہ جناب محمدکریمﷺ‘ کے خلفائے راشدینؓ نے مدینہ کی ریاست کے عوام پر کتنے اور کون کون سے ٹیکس عائد کیے تھے؟ ملک کی معیشت کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دے کر ریاست مدینہ کا نام لینا جہالت اور دوغلا پن ہے‘ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے نفاذ اسلام سے بھاگتے ہیں‘ اسلام کا نظام زکوٰۃ انسانوں کے لئے رحمت ہے‘ اگر پاکستان میں اسلامی نظام کو عملاً نافذ کر دیا جائے تو   پاکستان کی معیشت بھی سدھر جائے گی۔
’’سود‘‘ نے اس سے قبل کسی مسلمان ملک کو کب کامیاب کیا کہ جوکہ  اب ’’سود‘‘ پاکستانی معیشت کو ترقی تک لے جانے کی سکت رکھتا ہو؟ نام ریاست مدینہ کا‘ مگر عملی اقدامات اور پالیسیاں اس کے  بالکل برعکس‘ ایک سال پہلے تک یہاں مال دار ہوتے تھے ‘ متوسط طبقے کے سفید پوش ہوتے تھے یا پھر غریب‘ عمران حکومت کے آنے کے بعدغریب تو ویسے ہی بھوک کے سمندر میں اوندے منہ جاگرے جبکہ متوسط اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والے بھی ایک ہی چھلانگ میں غربت کے سمندر میں غوطے کھانے پر مجبور کر دیئے گئے۔یعنی غریب تو غریب… متوسط اور سفید پوش بھی غریب‘ اور اوپر سے ٹیکس کا کوڑا عوام کی پشت پر‘ اور دعویٰ یہ کہ اس سے ملک ترقی کرے گا‘ تم اگر اسے ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہو تو یہاں اسلامی نظام نافذ کیوں نہیں کر دیتے؟ اگر تم اسلامی نظام نافذ نہیں کرسکتے تو جان چھوڑدو اقتدار کی‘ عوام کے خون کو مت نچوڑو‘ وگرنہ پھر حالات کسی کے قابو میں نہ رہیں گے۔