07:37 am
پاک بھارت ٹریک ٹو مذاکرات، نئی لاحاصل داستاں!

پاک بھارت ٹریک ٹو مذاکرات، نئی لاحاصل داستاں!

07:37 am

٭اسلام آباد، پاک بھارت ٹریک ٹو مذاکرات O فضائی حدود کھول دی جائیں، بھارت کی درخواست O صادق آباد ٹرین حادثہ، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 24 ہوگئیO اپوزیشن: حاصل بزنجو سینٹ کے نئے چیئرمین نامزدO انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں O پشاور، روٹی7 کی بجائے15، نان 12 کی بجائے 20 روپے میں،آٹے اور میدے پر کوئی ٹیکس نہیںلگایا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر O لندن کا بگ بین گھنٹہ گھر خاموش O احتساب جج محمد ارشد کا ہائی کورٹ میں حلفیہ بیان، تمام الزامات مسترد!، جج کو واپس وزارت قانون میں بھیج دیا گیا۔
 
٭اپوزیشن نے سینٹ کے چیئرمین کے لئے حاصل بزنجو کو نامزد کر دیا۔ حاصل بزنجو کی عمر 61 سال ہے۔ وہ بلوچستان کے سابق گورنر غوث بخش بزنجو کے بیٹے اور نیشنل پارٹی کے صدر ہیں۔ 1990ء سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن منتخب ہو رہے ہیں۔ سینٹ میں ان کی پارٹی کے پانچ ارکان ہیں۔
٭اسلام آباد میں کئی برس کے بعد پاکستان اور بھارت میں ’ٹریک ٹو‘ (Track-2) مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، اگلا اجلاس دہلی میں ہو گا۔ ٹریک ٹو کی اصطلاح غیر سرکاری سطح پر سابق سفارت کاروں اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے وفود میں مذاکرات کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ مذاکرات نجی سطح پر خفیہ انداز میں ہوتے ہیں تاہم انہیں دونوں طرف سرکاری تعاون حاصل ہوتا ہے۔ اس قسم کے مذاکرات عام طور پر کسی خاص ہنگامی صورت حال کے موقع پر کئے جاتے ہیں جب سرکاری سطح پر مخالف فریق ایک دوسرے پر الفاظ کے گولے برسا رہے ہوتے ہیں مگر درپردہ امور خارجہ کے سابق سیکرٹری، سفیر اور سیاسی رہنما میں خفیہ رابطہ میں رہ کر معاملات کو نارمل سطح پرلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج تک ایسے کئی مذاکرات ہو چکے ہیں، کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔
٭اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد ارشد کو اس عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس بارے میں قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے وزارت قانون کو خط بھی بھیج دیا ہے۔ جج محمد ارشد پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایک ویڈیو کے ذریعے نوازشریف کی قید و جرمانہ کی سزا کو دبائو کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ محمد ارشد نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط بھیجا ہے اس میں تمام الزامات کو مسترد کیا گیا ہے تاہم ان کے بھی بطور جج کردار کو سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی بجائے ایک پریس ریلیز میں عوام کو مخاطب کیا۔ اس میںکہاکہ انہیں نوازشریف کے خلاف مقدمے کی سماعت بھاری رشوت کی پیش کش کی گئی اوار خطرناک دھمکیاں دی گئیں مگر ان باتوں کے بارے میں ہائی کورٹ کو مطلع نہیں کیا گیا۔
٭ریلوے کے صادق آباد حادثے کو خود وزیر ریلوے شیخ رشید نے اب تک کا سب سے بڑا حادثہ قرار دیا ہے۔ ان صاحب کے ہاتھ ریلوے آ جانے کے بعد 10 ماہ میں تقریباً 70 حادثے ہو چکے ہیں۔ بہت سی ٹرینیں ٹکرا گئیں، بہت سی الٹ گئیں، بہت سے انجن اور بوگیاں تباہ ہوئیں، کئی انجن راستے میں جواب دے گئے۔ ریلوے سٹیشنوں کے سگنل بند ہو گئے۔ لوگ ریلوے کے سفر سے گھبرانے لگے ہیں اور بسوں کا رخ کر رہے ہیں مگر پشاور سے کراچی یا کوئٹہ کا بس کے ذریعے تقریباً 25,24 گھنٹے کا سفر مریضوں، خواتین اور بزرگ افراد کے لئے ناقابل برداشت ہے اس لئے لمبے سفر کے لئے لوگ ٹرینوں کے سفر پر مجبور ہیں۔ عالم یہ ہے کہ وزیر ریلوے کو نئی ٹرینیں چلانے کا بہت شوق ہے مگر نہ تو نیا ضروری عملہ رکھا نہ اضافی انجنوں اور بوگیوں کا انتظام کیا۔ ریلوے سٹیشنوں پر وہی سٹاف رات دن پہلے سے کئی گنا زیادہ ڈیوٹی دے رہا ہے۔ 40 نئی ٹرینوں کا شور مچایا گیا۔ لمبی مسافت کی ہر ٹرین کے دو طرفہ سفر کے لئے کم از کم چھ ڈرائیور ضروری ہوتے ہیں۔ ہر چند روز کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کے شوقین وزیرریلوے نے 70 حادثوں کی تحقیقات کا حکم جاری کیا! ان تحقیقات کا کیا بنا؟ کسی ایک حادثہ کی کوئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟ کسی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ اسمبلی میں صرف ایک نشست مگر عمران خان کے جلسوں میں عوام کو ’’مارو یا مر جائو‘‘ کی تلقین کرتے رہنے سے ریلوے جیسی بین الصوبائی رابطے والی انتہائی اہم وزارت مل گئی۔ 70 حادثے، محض افسوس اور تحقیقاتی رپورٹ طلب کرنے کے بیانات! نتیجہ؟ صرف جون کے مہینے میں دس اذیت ناک حادثے!
٭ کرکٹ ورلڈ کپ! کل 14 جولائی کو لندن میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گے۔ عجیب بات کہ یہ دونوں ٹیمیں پاکستان کی ٹیم سے ہار چکی ہیں مگر پاکستان کی ٹیم باہر کھڑی ہے۔ کل والے میچ میں پاکستان کے تماشائی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اس لئے سپورٹ کریں گے کہ اس نے پاکستان کے دشمن بھارت کی ٹیم کو ورلڈ کپ کے مقابلوں سے باہر نکال پھینکا ہے۔ بھارت کو یہ شکست قبول نہیں ہو رہی۔ مسلسل واویلا ہو رہا ہے۔ بھارتی ٹیم کی دُرگت جاری ہے۔ 
٭ پیپلزپارٹی کے وراثتی ولی عہد بلاول زرداری نے پھراعلان کیا ہے کہ ملک کی اگلی حکومت ہماری ہو گی! 2018ء کے انتخابات سے پہلے بلاول کے والد آصف زرداری نے بلند اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہو گی اور بلاول وزیراعظم ہو گا۔ اور نتیجہ! پنجاب، بلوچستان اور پختونخوا کی اسمبلیاں پیپلزپارٹی کو ڈھونڈتی رہ گئیں، خود سندھ میں پیپلزپارٹی کی چادر سمٹ گئی اور پائوں باہر نکل آئے۔ اب ہو کیا رہاہے؟ 19 سال کی عمر میں پیپلزپارٹی کا چیئرمین بننے والے اُردو اور سندھی زبانوں سے نابلد نوجوان بلاول پارٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہا ہوتا ہے اور اس کے سامنے خورشید شاہ، اعتزاز احسن، رضا ربانی اور کائرہ جیسے سینئر، بلکہ بہت سینئر ارکان سر جھکائے بیٹھے حاضری لگوا رہے ہوتے ہیں مجھے بہت کچھ یاد آ رہا ہے۔ اس پارٹی کے قیام کے وقت میں نیا نیا صحافت میں آیا تھا۔ پارٹی کا قیام بہت زبردست تھا۔ کیا کیا لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے گرد جمع ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر مبشر حسن (اب بھی موجود ہیں، عمر 97 سال)، ملک معراج خالد، امان اللہ خاں، معراج محمد خاں، محتار رانا، احسان الحق، جے اے رحیم، احسان الحق، تالپور خاندان، مصطفی کھر، رانا شوکت محمود اور دوسرے بہت سے بڑے بڑے نام! یہ سب نظریاتی لوگ تھے۔ پیپلزپارٹی ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر بنی تھی اور ہوا کیا کہ کچھ لوگ کٹڑ نظریاتی لوگ معراج محمد خاں، محتار رانا، کوثر نیازی، حتیٰ کہ اعتزاز احسن بھٹو کی زندگی میں ہی ساتھ چھوڑ گئے، جو سیانے بزرگ رہ گئے تھے انہیں بے نظیر بھٹو نے نظر انداز کر کے فرمانبردار نوجوانوں کی ٹیم بھرتی کر لی۔ فارغ ہونے والے انکلز میں معراج خالد، مبشر حسن، احسان الحق اور امان اللہ خاں جیسے وفادار ساتھی شامل تھے۔ ان میں سے 30 سال قبل نظر انداز ہونے والے امان اللہ خاں اب بھی لندن میں اپنے ان نظریات کا پرچار کر رہے ہیں جو پیپلزپارٹی کے ابتدائی منشور کا حصہ تھے۔ میری ڈاکٹر مبشر حسن سے ملاقات اور امان اللہ خان سے گاہے گاہے فون پر بات ہوتی رہتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ زبوں حالی پر نہائت دل گرفتہ رہتے ہیں۔ وہ پارٹی کے قیام کے بانیوں میں سے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں بہت سے اہم فرائض سونپے۔ گورنر کے پریس سیکرٹری کے طور پر بہت اہم صحافتی امور انجام دیئے۔ بھٹو کے ساتھ طویل قید و بند کا دور دیکھا، صادق آباد میں ریلوے پھاٹک بند کر کے بھٹو کی گاڑی پر حملہ ہوا۔ بھٹو بچ گئے، امان اللہ شدید زخمی ہوئے، بھٹو نے خود ہسپتال میں داخل کرایا۔ لمبی داستان ہے۔ بلاول کو شائد ڈاکٹر مبشر حسن اور امان اللہ خاں کے ناموںکا بھی پتہ نہ ہو۔ 19 سال کی عمر میں چیئرمینی مل گئی، والد صاحب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں اور پھر کہہ رہے کہ بلاول وزیراعظم بنے گا۔

تازہ ترین خبریں