01:45 pm
 آڈیو سے ویڈیو ڈرامے تک!

 آڈیو سے ویڈیو ڈرامے تک!

01:45 pm

یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ،پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے اور میاں نواز شریف کے سرکردہ لوگ ایسے معاملات میں سرگرم رہے ہیں۔جسٹس عبدالقیوم آڈیو ڈرامہ تاریخ کا حصہ ہے ،اس میں میاں صاحب کا ایک وزیر ملوث تھا ۔ اب ان کی سیاسی وارث مریم نواز،بس نام ہی تو بدلے ہیں ِ،کردار بھی وہی ، ذرا سی کہانی میں تبدیلی ہوئی ہے۔
 
اعلیٰ عدالتوں کے رول آف لا کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جن کے دائرے میں رہ کر معاملات چلائے جاتے ہیں، جنہیں میرٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ہر جج سے قرآن پر یہ حلف لیا جاتا ہے اور جج صاحب کو اسی حلف کی پاسداری کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرنے ہوتے ہیں ،تاہم حلف کے وقت قرآن کریم علامتی طور پر باور کرایا جاتا ہے۔موجودگی کا التزام ضروری نہیں ہوتا ۔شاید اسی لئے زیادہ پڑھے لکھے روشن خیال ججز گنجائش نکال لینے میں قباحت محسوس نہیں کرتے۔
کسی بھی کیس میں جج پر دبائو ڈالنا یا جج کا دبائو میں آنا ،دونوں حلف کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں ۔اسی طرح عدالتی اثر و رسوخ  کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھی ایک اعلی قومی ادارے کی ساکھ مجروح کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔مسلم لیگ ن کا طرہ امتیاز یہ رہا ہے کہ یہ ہر دور میں عدالتی ڈھانچے کوغیر مستحکم کرنے میں ملوث رہی ہے۔ارشد ملک وڈیو کیس میں جس جھلاہٹ میں مریم نواز نے پریس کانفرنس برپا کی۔اس پر مسلم لیگ ن کے صدر اور اس کے چچا شہباز شریف جتنے متحیر و ششدر دکھائی دیئے۔ شاید کسی اور لیگ رہنما کے چہرے پر ایسی حیرت اور ناگواریت محسوس کی گئی ہو۔یہ شہباز شریف کا حوصلہ ہے کہ اسقدر غیر سنجیدہ رویئے کو صبر کا گھونٹ سمجھ کر پی گئے۔
مسلم لیگ (ن) کا عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف جارحانہ رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔عدلیہ پر دبائو کے حوالے سے  رد عمل کے لئے وہ وقت بھی ایسا چنتی رہی ہے کہ جب ملک خطرناک صورت حال سے دوچار ہو۔شہباز شریف  میثاق معیشت پر زور دے رہے ہیں کہ قوم کے دکھوں کے مداوے کا کوئی حل دریافت کیا جاسکے۔ اقتصادی طور پر زوال پزیر ملک کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا جائے۔گوکہ عمران سرکار اس معاملے  پر گرم جوش نہیںمگر پھر بھی قائد حزب اختلاف نواز بیانئے کے تحفظات کے باوجود بہتری کے کسی عمل پر مثبت رائے رکھتے ہیں توعوام کے حوصلے بلند کرنے کی نیت کے طور پر ہی شہبازشریف بیانئے کو دونوں طرف سے اہمیت ملنا چاہیے۔مریم نواز کا عجلت میں پریس کانفرنسز بلا کر خواہ مخواہ میں دھول اڑانا دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔ان کی پچھلی کانفرنس نے بھی مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات و تضادات کی پردہ کشائی کی تھی ۔اب پھر لگتا ہے اس نے بڑوں سے مشورہ کئے بغیرعدلیہ پر چڑھائی کی کوشش کی جو اس کے اپنے گرد عدالتی گھیرا تنگ کرنے پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔
دراصل یہ عدلیہ دشمنی بغض یا عنادمریم کو اپنے باپ نواز شریف سے ورثے میں ملا ہے۔ میں جب میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کے طور پر صدر مملکت کی آڑمیں عدلیہ کے اختیارات کو سلب کرنے کیلئے آئین میں بارہویں ترمیم پاس کرانے کی پیش رفت کی ،تاکہ مطلق العنان وزیر اعظم بن سکیں تو صدر اسحاق خان نے قانونی ماہرین کی مشاورت کی روشنی میں وزیر اعظم کی سعی کو لاحاصل بنادیا،بعد ازاں بھی مسلم لیگ ن کے ادوارِاقتدار میں عدلیہ کے ساتھ جو جو کچھ کیا گیا،جو کھلواڑہ ڈالا گیا ،وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔آج نواز شریف کی ہونہار بیٹی عدلیہ کے خلاف کچھ کرنے نکلی ہے ،اس مقدس و معزز ادارے کے تقدس کو پامال کرنے کے لئے نکلی ہے تو تاریخ پر نظر رکھنے والوں کے لئے کوئی اچنبھا نہیں۔
وزیر اعظم نے اس قضیئے کو حکومت کے سر نہ لیتے ہوئے ،سپریم کورٹ کے کندھوں پر ذمہ داری ڈال دی  کہ وہ جج ویڈیوکا فرانزک آڈٹ کرے۔معاملے کی تحقیقات سے حکومت کا یکسر پیچھے ہٹ جانا کیا قانونی اور آئینی حیثیت رکھتا ہے۔اس پر ماہرین ِ قانون کی کیا رائے ہے۔اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔بہر حال لگتا یہ ہے کہ شائداب  آپریشن مڈنائٹ جیکال اور وولف آپریشن  جیسی صورت حال بننے جا رہی ہے ،کوئی ایسا نیا عامر،امتیاز  پیدا ہونے جارہا ہے ،جو دائیں بازو کے مغضوب سیاستدان کی شاطر بیٹی کو اقتدار کے خواب کی مستی سے سرشار کر کے کسی نئی آمریت کے راستے صاف کرنے کی سازش کی طرف دھکیل رہا ہے کہ جس کی گود میں پل کر وہ عنان اقتدار کے حصول میں کامیاب ہوسکے۔عمران سرکار کے ناعاقبت اندیش وزیر ،مشیر ایسی کسی سازش کی تاب نہیں لا سکیں گے۔وہ قوتیں جنہوں نے امید کا  دِیا عمران خان کی ہتھیلی پر رکھا ہوا ہے ، ابھی اسے بجھنے نہ دینے کا عزم رکھتی ہیں ۔موصوف میں کتنی استقامت ہے،اس بارے کچھ کہنا بھی قبل از وقت ہے،کہ ابھی ایسی تیز ہوا کے چلنے کے امکانات بظاہر کم نظر آتے ہیں۔واللہ اعلم اب معاملہ بہت دور تک جاچکا ہے جج موصوف بھی چاچکے ہیںمعاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت آئے گا تو اصل حقائق سامنے آئیں گے کہ سچ کیا تھا اور جھوٹ کیا تھا کس نے کیا کیا اور اسکے نتائج و عواقب کا ذمہ دار کون قرار پاتا ہے کون غالب اور کون مغلوب ۔۔یہ تو وقت ہی بتائے گا !

تازہ ترین خبریں