01:46 pm
فرعون کا ستون!

فرعون کا ستون!

01:46 pm

شانزے لیزے کاجب نام لیاجاتاہے توفوراپیرس کی طرف نگاہ اٹھتی ہے جوفرانس کادارالخلافہ ہے۔شانزے لیزے دنیاکی خوبصورت اورمہنگی ترین شاہراہ ہے،یہ سڑک سینکڑوں سال پہلے فرانسیسی با د شا ہو ں نے اپنی چہل قدمی کیلئے بنائی تھی،یہ سڑک فرانسیسی کاریگروں نے چھوٹے چھوٹے پتھرجوڑکرمکمل کی تھی اوریہ پتھرآج تک قائم ہیں،شانزے لیزے دنیاکی پہلی فیشن سٹریٹ بھی کہلاتی ہے۔دنیاکے مہنگے ترین برانڈزکے شورو مز،ریستوران، فیشن سٹوراوردنیابھرکی خوبصورت یادگاراشیاکاڈھیرلگاہواہے۔یہ سڑک ’’پلاس ڈی لاکنکورڈ‘‘سے شروع ہوتی ہے اورسڑک کے وسط میں سب سے بڑاچوک ہے جس کے عین درمیان میں ایک مخروطی ستون ہے یہ ستون ہزاروں سال پہلے ماہرمصری کاریگروں نے تراشاتھاجب مصرمیں فرعون کی حکومت ہوتی تھی،یہ وہی فرعون ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دورمیں خدائی کادعوی کیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے ساتھ اس کامقابلہ ہوااوروہ اوراس کی فوج دریائے نیل میں غرق ہوگئی اورآج تک فرعون کی لاش مصر کے میوزیم میں عبرت کیلئے موجودہے۔
 
جب یہ ستون مکمل ہواتوکاریگروں نے حاکمِ وقت کے وزیرِقانون کے حکم پراس پراپنے تیشے سے فرعون رامسیس کی طاقت،اختیاراورآئینی ترامیم کھود د یں  اور بعدازاں یہ ستون شہنشاہ معظم کے حضورپیش کر دیا گیا، فرعون یقیناکاریگروں کے اس تمغے پرخوش ہوااور اس نے یہ ستون اپنے ایوان صدر کے سامنے نصب کروا دیالیکن وقت بدلا،فرعون پرزوال کا مہینہ آیا،وہ اوراس کی سلطنت دونوں بکھرگئے اوراس کاسارااختیار، ساری طاقت اورسارے ایل ایف او،اوراین آراوریت میں دفن ہوگئے،انیسویں اوربیسویں صدی میں مصری صحر ا ئو ں  میں فرعون کے آثارقدیمہ دریافت ہوئے تویہ ستون بھی کسی کونے کھدرے میں پڑاہوامل گیایہ ستون طویل عرصے تک مصری حکومت کی تحویل میں رہا۔مصری بادشاہ محمدعلی پاشااپنے آقاکوسلام کرنے پیرس کے سرکاری دورے پرآیاتووہ یہ ستون بھی ساتھ لے آیا۔آقاکنگ لوئی کی خدمت میں اس نایاب ستون کونذرانہ عقیدت کے طورپرپیش کیاکہ آقاکی نظروں میں قدرومنزلت حاصل کرسکے۔بادشاہ نے یہ ستون پیرس کے سب سے بڑے چوک میں لگوادیااوراس چوک کوستون کے حوالے سے’’پلاس دی لاکنکورڈ‘‘کانام دے دیاگیااوریہ ستون آج تک یہاں موجودہے اوراس پر قدیم مصری زبان میں کھدے ہوئے وہ سارے قصیدے بھی جوں کے توں ہیں جوپانچ ہزارسال قبل ہمارے بجٹ بنانے والوں نے تخلیق کئے تھے لیکن افسوس دنیا کے ماہرین لسانیات آج تک کنکورڈ کی زبان’’ڈی کوڈ‘‘نہیں کرسکے۔
 شانزے لیزے کے آخری کونے پر’’آرک ڈی تری اونف‘‘ہے یہ بارہ دری قسم کی عمارت ہے لیکن اس کے صرف چاردروازے ہیں اوریہ نپولین بوناپارٹ کی فتوحات اور کامیابیوں کے اعتراف میں بنائی گئی تھی،اس عمارت کے عین درمیان میں ایک نامعلوم سپاہی کی یادمیں ایک مشعل روشن ہے،یہ مشعل پچھلے کئی برس سے مسلسل جل رہی ہے اورفرانس کے تمام فوجی اس مقام پرپہنچ کرسرسے ٹوپی اتارتے ہیں اوران فرنچ سپاہیوں کوسیلوٹ کرتے ہیں جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں اپنے وطن کیلئے جان دی تھی،اس چوک کوایک اور انفرادیت بھی حاصل ہے،پیرس کی بارہ بڑی سڑکیں اس آرک سے شروع ہوتی ہیں اوران سڑکوں میں شاہراہ جمہوریت بھی شامل ہے۔پنجاب کے انگریزگورنرسرلائل نے بھی شائد اسی شاہراہ سے متاثرہوکرپنجاب کے مشہورزرعی شہر’’ساندل بار‘‘کانقشہ برطانیہ کے جھنڈے کودیکھ کرترتیب دیاتھاجہاں آج بھی فیصل آبادشہر(لائلپور)کے آٹھ بازارگھنٹہ  گھرآکرایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے اٹھارہویں صدی کے آخرمیں جب انقلاب فرانس آیاتوپیرس کے انقلابیوں نے اس مقام پرگلوٹین نصب کردی تھی اوراس چوک میں روزانہ ڈیڑھ سو لیکردوسو اشرافیہ،حکمرانوں اور سیاستدانوں کاسرقلم کیاجاتاتھا،انقلابی پیرس کے مختلف چوکوں میں کھڑے ہوجاتے تھے اورانہیں جس شخص کے ہاتھ نرم دکھائی دیتے تھے،جس کے جسم سے عطراورصابن کی خوشبوآتی تھی اورجس نے تازی شیوبنائی ہوتی تھی، اسے گرفتارکرکے لایاجاتاتھا، سرسری عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ چلاتے تھے اورگلوٹین کے نیچے لٹا کر اس کاسرقلم کردیتے تھے۔میں جب اس چوک پرپہنچتا ہوں تومجھے نہ جانے کیوں یہ محسوس ہوتاہے اس آرک کے نیچے آج بھی فرانس کی اس اشرافیہ کاخون موجودہوگاجس نے عوام کیلئے روٹی تک ناممکن بنادی تھی،جس نے کسی غیرمنتخب وزیرخزانہ کوکھیل کھیلنے کی مکمل اجازت دے رکھی تھی اورحکمران عوام کوصبرکی تلقین کررہاتھا۔
یہ فرانس کی تاریخ کاوہ دورتھاجس میں سارے سول محکموں کے سربراہ بادشاہ نے سابقہ  حکو متو ں  کواپنی کابینہ میں شامل کرکے ان کے حوالے کررکھے تھے۔بادشاہ نے پیرس کے مضافاتی علاقے وارسائی میں محلات بنانے کافیصلہ کیاتواس نے اپنے وزیرخزانہ کوبلایااورحکم دیایہ محلات تم بنوائوگے،وزیرخزانہ نے سرتسلیم خم کیااورعوام کاخون نچوڑکرمعماروں کے حوالے کردیااورمعماروں نے وارسائی میں دنیاکاسب سے بڑامحل کھڑاکردیا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں