01:47 pm
 مادر پدر آزادی ، کیا یہی صحافت ہے؟

 مادر پدر آزادی ، کیا یہی صحافت ہے؟

01:47 pm

پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں عوام میں تعلیم کی کمی ہے جیسا کہ دیگرپسماندہ ممالک میں دیکھا جا سکتا ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی شعو ر پیدا ہوتا ہے ، اگر تعلیم کا معیار کمزور یا ناقص ہے تو سوچ بھی اسی ہی طرح کی پیدا ہوگی جس میں منفی پہلو نمایاں ہو گا۔ پاکستان میں صحافت کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ آزادی ہے، یہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا پا پرنٹ میڈیا میں جس طرح آج تبصرے اور خبریں شائع کی جارہی ہیں وہ غیر معمولی آزادی کا مظہر ہیں ۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک خصوصیت کے ساتھ بھارت ، بنگلہ دیش، اور افغانستان میں ایسی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتابلکہ بنگلہ دیش میں آزادی صحافت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ اگر کوئی صحافی حسینہ واجد کے خلاف یا پھر بھارت کے خلاف کچھ آزادی کے ساتھ لکھنا چاہتا ہے تو اس کو فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔یہی صورتحال بھارت میں پائی جاتی ہے ۔ اگر کوئی صحافی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کو بے نقاب کرنے سے متعلق کچھ حقائق تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اس صحافی اور اخبار پر نریندرا مودی کی حکومت اس کو بلیک لسٹ کرکے سرکاری اشتہار سے محروم کر دیتی ہے یہ صورتحال پڑوسی ملک افغانستان میں بھی پائی جاتی ہے جہاں کا نظم و نسق امریکہ کے ہاتھ میں ۔پاکستان میں جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کچھ صحافی جو چاہیں اخبارمیں بغیر کسی سیاق و سباق کے لکھ دیتے ہیں بلکہ اس کی خبر سے متعلق حکومت کے کسی ذمہ دار فرد سے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ 
ماضی میں پاکستان کے پرنٹ میڈیا کا رول انتہائی مثبت رہا تھااس وقت کے زیادہ تر صحافی  اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنی خبریں شائع کرنے سے گریز کرتے تھے جس کی وجہ سے ریاستی اداروں پر منفی اثرات پڑنے کا احتمال ہو تا ہے لیکن آج صورتحال یکسر بدل گئی ہے ۔ جب سے پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا اپنی تمام تر طاقت اورروشنی کے ساتھ پاکستان کے صحافتی افق پر نمودار ہو ا ہے صحافت مادر پدر آزاد ہو گئی ہے ۔ ایسے تبصرے نشر کیے جارہے ہیں جس کے سبب معاشرے میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے،چونکہ معاشرے میں معروضی حالات کو سمجھنے کا گہر افہم نہیں ہے اس لیے  لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اور بعد میں اس کو معاشرے میںمشتہر کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال بعض اخبارات میں پائی جارہی ہے تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی خبر کو جس کا تعلق سیکیورٹی اداروں، دفتر خارجہ، وزارت داخلہ سے ہو‘ شائع کرنے سے پہلے کسی ذمہ دار سے پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں بحرانی کیفیت کے ساتھ ساتھ مایوسی بھی پیدا ہوتی ہے ۔ ماضی میں اکثر صحافی کسی حساس خبر کو شائع کرنے سے پہلے متعلقہ افسر سے ضرور پوچھ لیا کرتے تھے اس طرح  صحافی بھی آزاد تھے اور صحافت بھی آزاد تھی اس پر کسی قسم کی قدغن یا دبائو نہیں تھا۔ 
صحافت کی آزادی سے متعلق ابھی حال ہی میں نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہو ا ہے جس میں امریکہ کے ایک معتبر اور دانش ور صحافی جیمز رائزن نے اپنے ایک کالم میں انکشاف کیا ہے کہ بیشتر امریکی صحافی حساس نوعیت کی خبروں کو شائع کرنے سے پہلے حکومت کے کسی ذمہ دار افسر سے اسکی تصدیق کرتے ہیں۔  اسی لیے امریکی معاشرے میں صحافیوں کو بڑی عزت سے  دیکھا جاتا ہے بلکہ ان تحریروں سے حب الوطنی کا نیا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
پاکستان میں صحافت میں مادر پدر آزادی کی وجہ سے معاشرہ میں ذہنی خلفشار پیدا ہورہا ہے ۔ دوسری طرف ٹی وی ریٹنگ کے حصول کے لیے من گھڑت تبصروں کے ساتھ ساتھ جھوٹی خبریں بھی نشر کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بسا اوقات ریاست پاکستان کی سا  لمیت سے متعلق بھی ایسی خبریں شائع یا نشر ہونے لگتی ہیں جو پاکستان دشمن طاقتوں کے لیے حوصلے کا باعث بنتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ  ایس پی آر یا پھر دفتر خارجہ یا وزارت خارجہ کو ان خبروں یا تبصروں کی تردید کرنی پڑتی ہے ۔ حالانکہ حساس نوعیت کی خبروں کو شائع کرنے سے پہلے متعلقہ محکموں سے ان کی اگر تصدیق کرلی جائے تو اس طرز عمل سے ریاست اور صحافت کے درمیان خوشگوار تعلقات استوار ہو سکتے ہیں جو بعد ریاست کی مضبوطی کا سبب بن سکتے ہیں تاہم یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس وقت پاکستان مشرق اور مغرب کی جانب سے دشمن ممالک میں گھر ا ہو ا ہے اس صورتحال کے پیش نظرحسا س نوعیت کی خبروں کو شائع کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا ذمہ دار صحافت کا ایک لازمی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ 
 پاکستان میں بعض میڈیا ہائوسز کی جانب سے ریاستی اداروں سے متعلق جو سوچ اور رویہ پایا جاتا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے جذبہ حب الوطنی کے زمرے میں نہیں آتا۔  ان عناصر کے اس طرز عمل سے دشمن ممالک کو بے پناہ فائدہ پہنچ رہا۔ جو پاکستان کے اندرونی حالات کو مزید خراب کرنے سے نہیں چوکتے ۔ مزید برآں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے بعض افراد بھی اس صورتحال میں مزید تلخی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ان افراد کی خواہش ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام پیدا نہ ہوسکے اور کسی طرح بھی موجودہ سیٹ اپ کو تحلیل کر دیا جائے تاکہ معاشرے میں مزید بے چینی پیدا ہو سکے ۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے خلاف سنگین نوعیت کے کرپشن کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ عدالتیں ان کے خلاف حکم صادر کریں ۔ان کی اس سوچ کو ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے  وہ عناصر بڑھاوا دے رہے ہیں جو کہ ان کے ہم نوا ہیں ۔ صحافت کا یہ انداز اور طریقہ کار خود صحافت کی بنیادی اقدار کے خلاف ہے صحافت کاکا م عوام کو خبریں پہنچانا ہے نہ کہ ان کے ذہنوں میں قومی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہے ۔  ذرا سوچیے!

تازہ ترین خبریں