01:48 pm
کشمیری مسلمان ‘ ہندو پنڈت دلت اور بی جے پی

کشمیری مسلمان ‘ ہندو پنڈت دلت اور بی جے پی

01:48 pm

صدر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں سب سے بڑا متنازعہ مسئلہ ہے۔ اگر کشمیر مسئلہ نہیں تو یہاں اقوام متحدہ کے مبصر نہ ہوتے نہ ہی یہ معاملہ اقوام متحدہ میں ہوتا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نسیم باغ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دونوں طرف سے گولیاں چل رہی ہیں پھر بھی مذاکرات ہو رہے ہیں تو کشمیر پر کیوں مذاکرات نہیں ہوسکتے؟ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس پر پاکستان سمیت تمام متعلقین سے بات جیت کرنا ہوگی۔
 
نئی دہلی سے خبر ہے کہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور پارٹی عہدیداروں کے ظلم و بربریت کا نشانہ صرف مسلمان یا دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہی نہیں بنتے بلکہ خود ان کے بچے بی جے پی کے تکبر و غرور کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یوگی حکومت کے رکن اسمبلی کی بیٹی نے بھارتی پولیس سے اپیل کی ہے کہ اسے اور اس کے خاوند کی جان و مال کی حفاظت کی جائے۔ رکن اسمبلی راجیش مشرا کی بیٹی ساکشی مشرا نے کہا ہے کہ اسے  اور اس کے خاوند کو اپنے والد اور بھائی اور اس کے بھیجے ہوئے لوگوں سے جان کا خطرہ ہے۔ ساکشی مشرا کا اصل قصور یہ ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے کم تر ذات کے دلت ہندو لڑکے سے شادی کرلی تھی۔ بھارتی اخبار ہندو کے صحافی سوربھ تریدیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو شیئر کی جس میں ساکشی کا کہنا ہے کہ اس نے ایک دلت نوجوان سے محبت کی  شادی کرلی ہے مگر اس شادی سے اس کے والدہ قطعی خوش نہیں اور اسے اور اس کے خاوند کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
بھارت نے اسرائیل ساختہ اینٹی ٹینک مزائل کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد اسرائیل سے 500ملین  ڈالر کی ڈیل منسوخ کر دی ہے جس کے بعد بھارتی فوج نے ملکی ساختہ ٹینک شکن میزائل پر توجہ مرکوز کر دی ہے بھارت نے 321لانچر اور 8356میزائل اسرائیل سے خریدنا تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم ستمبر میں بھارت کا دورہ کریں گے مگر منسوخی معاہدہ خریداری  میزائل کا پیغام اسرائیل چلا گیا ہے۔
کشمیر میں ہندو آبادی کاری کا منصوبہ دوبارہ زیر غور ہے رام ماڈھیو بی جے پی نیشنل جنرل سیکرٹری برائے کشمیر کا کہنا ہے کہ اس کی ہندو قوم پرست پارٹی کشمیر میں ہندوئوں کو واپس لا کر بسانے کے منصوبے پر قائم ہے۔ تقریباً دو سے تین لاکھ ہندو پنڈت واپس لا کر کشمیر میں آباد کئے جائیں گے۔ ان کے بقول یہ پنڈت خاندانی 1989ء کے جنگی ماحول میں کشمیر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ جموں نہرو کی تدبیروں سے ہندو اکثریتی آبادی بنا دی گئی تھی۔ رام ماڈھیو کا موقف ہے کہ ہندو پنڈتوں کی واپسی کے استحقاق کو باضابطہ طورپر تسلیم  کیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ کشمیری ہندو ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق 7ملین کل آبادی ہے جن میں 97فیصد مسلمان آبادی ہے اور لاکھوں بھارتی فوجی انہیں مسلسل محاصرے میں لئے رکھتے ہیں کیونکہ یہ مسلمان کشمیری دہلی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اب تک 50ہزار مسلمان کشمیری قتل کئے جاچکے ہیں۔
بھارتی فوج کے ہاتھوں‘ ماڈھیو کے بقول کشمیری پنڈتوں کو واپس لا کر بسانے کے لئے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی آبادیوں کی طرح کی تعمیرات کی جائیں گی۔ ان کے لئے ٹائونشپ بنائیں جائیں گے جبکہ کشمیری مسلمان ہندو پنڈتوں کے نام پر ہندو نئی آباد کاری کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ زیر عمل آتا ہے تو بھارتی وزارت داخلہ اس کے منصوبے کو اپنائے گی۔
اے جی نورانی بھارتی مسلمان دانشور ثابت کرتے ہیں کہ جمہوریت اور قانون کشمیر میں داخل ہوتے ہوئے پیر پنجال علاقے میں مستقل طور پر مقیم ہو جاتا ہے۔ جموں میں چونکہ بھارتی ہندو اکثریت بنا دئیے گئے تھے۔ لہٰذا جمہوریت اور قانون ان ہندوئوں کا محافظ و مدگار رہتا ہے مگر کشمیری وادی کو جمہوریت اور قانون کی حفاظت‘ مدد‘ حمایت ہرگز حاصل نہیں کیونکہ وادی کشمیر مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ہے جبکہ بھارتی دانشور سوچنے والے اس حالت پر ذرا بھی توجہ نہیں دیتے کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ کتنا برا سلوک ہو رہا ہے حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے صحافی پرشانت  قنوجیہ کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے  کہا ہمیں جس بات کی زیادہ فکر ہے وہ یہ کہ اس صحافی کو گرفتار کیوں کیا گیا تھا؟ اگر اس کو گرفتار کیا ہے تو قانون کی روشنی میں مقدمہ تو بنائو۔ بغیر قانون کے کیسے اسے جیل میں رکھا تھا؟

تازہ ترین خبریں