01:48 pm
جھوٹ اور جعل سازی 

جھوٹ اور جعل سازی 

01:48 pm

اپوزیشن کے اکثر بڑے لیڈر کرپشن، اقرباء  پروری، منی لانڈرنگ اور منشیات اسمگلنگ جیسے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے ہیں جب کہ ان کی جماعتوں کی دوسری اور تیسری صف کی قیادت سامنے آرہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کو سڑکوں پر لانے سے نا امید ہوکر ’’ابا بچاؤ تحریک‘‘ کو ہنگامہ خیز بنانے کے لیے دوسرے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ کی ’’نائب صدر‘‘ اور سیاسی افق پر ’’ستارے‘‘ کی طرح ابھرتی ہوئی مریم نواز کی حالیہ پریس کانفرنس انہی حربوں کی ایک مثال ہے۔ جب ان کے والد برسر اقتدار تھے تو انھوں نے  تقریباً تین سو افراد پر مشتمل اپنی میڈیا ٹیم کی صورت میں افواہوں کا کارخانہ لگا رکھا تھا۔ ’’ڈان لیکس‘‘ معاملے میں اس وقت کی حزب اختلاف اور اپنے خلاف جاری احتساب کو بے اثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ طارق فاطمی، پرویز رشید اور راؤ تحسین جیسے لوگ مریم کے ان ’’حربوں‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ 
 
خفیہ طور پر ویڈیو بنانا جرم ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کو سزا ملنی چاہیے۔ اس من گھڑت ویڈیو کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دباؤ کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ اسٹیل مل کرپشن کیس میں سزا دی جب کہ مریم کے والد تو کسی نومولود کی طرح بے قصور ہیں۔ اس کوشش کا مقصد نواز شریف کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ جج ارشد ملک، عدلیہ اور پورے احتسابی عمل کو عوام کی نظر میں بے اعتبار کرنا ہے۔  یہ اقدام دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے مشترکہ مقصد کو پورا کرتا ہے، کیوں کہ ان دونوں کے لیڈر جیلوں میں ہیں اور یہ مل کر عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور ن لیگ کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ 
یہاں کئی سوالات سر اٹھاتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ مریم اگر سیاسی قیادت سنبھالنا نہ بھی چاہتی ہوں تو بہرحال وہ اپنے والد کو بچانے کی کوشش تو کر ہی رہی ہیں‘ لیکن یہ محض آغاز ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دراصل ان ہتھکنڈوں کا مقصد ملکی استحکام کو ٹھیس پہنچانا ہے اور ایک ایسی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے جو سابق حکمرانوں  سے ورثے میں ملنے والے سیاسی و معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سرگرداں ہے۔ 
سونے پر سہاگہ ، یہ کوششیں ایک ایسی شخصیت کی جانب سے کی جارہی ہیں جو عدالت میں جعل سازی اور کذب بیانی کی مرتکب قرار پاچکی ہے۔ 2016ء میں پاناما معاملے کی تحقیقات کے دوران ’’کیلیبری فونٹ‘‘ سے متعلق سامنے آنے والے حقائق یاد کیجیے۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں نے اثاثوں کی ملکیت سے متعلق اپنی صفائی میں جو دستاویزات جمع کروائی تھیں، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جب ان کی تحقیقات کی گئیں تو یہ بات سامنے آئیں کہ مریم نواز نے جو دستاویز جمع کروائی ہے وہ بظاہر 2006ء میں تیار ہوئی لیکن اس میں کیلیبری فونٹ کا استعمال ہوا، حالاں کہ فونٹ کمرشل استعمال کے لیے دست یاب ہی 2007ء میں ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس پر جعل سازی ثابت ہوچکی ہو ایسے کسی شخص کی جانب سے کوئی بھی ثبوت کسی پیشگی جانچ پڑتال کے بغیر عام کرنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ 
یہی سوال میڈیا سے بھی پوچھنا چاہیے کہ کیوں پاکستانی چینلز نے ایک ایسی خاتون کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو نشر کی جو عدالت میں جعل سازی کی مرتکب قرار پاچکی ہے اور کیا ایسے ثبوت بغیر جانچ پڑتال کے عوام تک پہنچانے کا کوئی جواز ہوسکتا ہے؟ یہ مشتبہ ویڈیو ایک دو نہیں بلکہ 21ٹی وی چینلوں نے نشر کی۔ حالاں کہ ٹی وی چینلز کے پاس وہ تکنیکی آلات موجود ہیں جن کی مدد سے اس مواد کی پڑتال ہوسکتی تھی کہ وہ خود بھی ویڈیوز بناتے ہیں۔ سبھی یہ بات جانتے ہیں کہ سیاق و سباق تبدیل کرنے کے لیے کیا پینترے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال نوگیارہ کے بعد امریکی ٹی وی چینلز کو ملنے والی ایک ویڈیو ہے، جس میں فلسطینیوں کو خوشی سے گلیوں میں رقص کرتے دکھایا گیا اور بتایا گیا تھا کہ یہ لوگ امریکہ میں ہونے والی قتل و غارت پر جشن منا رہے ہیں۔ بعدازاں یہ ثابت ہوا کہ یہ ویڈیو کسی اور موقعے کی ہے جسے غلط طور پر اس واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ میڈیا کو غیر جانبدار ہونا چاہیے لیکن وہ جعلی ویڈیوز جاری کرنے والوں کا طرف دار بنا ہوا ہے اور پیشہ ورانہ اخلاقیات اور لائسنس کے قانونی تقاضوں کے خلاف طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس معاملے میں ہر ذمے دار سے جوابدہی ہونی چاہیے۔ 
ویڈیو کے مرکزی کردار ، احتساب عدالت کے جج  ارشد ملک  نے فوری طور پر الزامات اور ویڈیو کے درست ہونے کی تردید کردی ہے، لیکن مریم اب بھی یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ اخبارات کے مطابق جج ارشد ملک نے کہا ہے کہ ویڈیو میں انہوں نے جس شخص سے ملاقات کی ہے وہ ان کا شناسا ہے اور اس سے متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ یہ ویڈیو مختلف مواقع کی ویڈیوز کے ٹکڑے جوڑ کر بنائی گئی ہے اور اس کی آواز اور تصویر میں بھی تفاوت ہے۔ انہوں نے کسی قسم کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ان پر نواز شریف کو ثبوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر کیس میں سزا دینے کا دباؤ ہوتا تو سبھی مقدمات میں ان کا فیصلہ بھی یکساں ہوتا جبکہ انہوں نے صرف اسی ایک مقدمے میں سزا دی جس میں جرم ثابت ہونے کے لیے کافی  شواہد پیش کیے گئے۔ کسی حاضر جج کو بدنام کرنا، اس پر کیچڑ اچھالنا نہ صرف اس کے اور اس کے اہل خانہ کے خلاف ذاتی حملہ ہے بلکہ یہ پورے ادارے کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بجا طور پر ایسا کرنے والوں کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ 
حکومت نے ویڈیو کی بنیاد پر عائد کیے جانے والے الزامات کی حقیقت واضح کرنے کے لیے فرانزک آڈٹ کروانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے نتائج کے بارے میں بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر اس تماشے کا آغاز کرنے والے جھوٹے ثابت ہوجائیں تو اس بار ان کے ساتھ پورا انصاف ہونا چاہیے۔ جھوٹ، دھوکا دہی اور دستاویز کی جعل سازی کی نہ تو اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسے عام سے کسی جرم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ علاوہ ازیں اس معاملے کی اخلاقی جہات بھی پیش نظر رہنی چاہئیں۔ اگر جھوٹوں اور جعل سازوں کو قانون سے استثنیٰ ملتا رہا تو اس سے معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کو کیا پیغام ملے گا؟ آئین کی دفعات 62اور 63کے تناظر میں ایسے جرائم کے اخلاقی پہلوؤں، قانونی و اخلاقی جرائم کے مابین تعلق اور اس کے سیاسی اثرات پر  ہم پہلے بھی تفصیل سے بات کرچکے ہیں۔  یہ بھی ایسا ہی ایک اور معاملہ ہے۔ جن لوگوں کی اخلاقی حیثیت ہی پر سوال اٹھ چکے ہوں انھیں پاکستان اور پاکستانیوں کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اطلاق وزیر اعظم پاکستان کے عہدے کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمنٹ پر بھی ہونا چاہیے۔  ایسے جرائم اگر منتخب ہونے کے بعد بھی ثابت ہوجائیں تو ایسے لوگوں کو نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم ہونا چاہیے بلکہ انہیں ریاستی اشرافیہ جیسی مراعات کا بھی کوئی حق نہیں رہتا۔خفیہ ویڈیوز بنا کر انہیں عام کرنے والوں کو کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں ملنا چاہیے اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جیل بھیج دینا چاہیے۔ پاکستان کی بہتری کا یہی راستہ ہے۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں