01:49 pm
جج کہانی، فیصلہ برقرار رہے گا!

جج کہانی، فیصلہ برقرار رہے گا!

01:49 pm

٭جج کہانی! صدمہ، شرم! دونوں فریق لاقانونیت میں ملوث!O سندھ حکومت، سرکاری رپورٹ 23 ہزار جعلی تقرریاں ڈائریکٹر تعلیم 14 ارب روپے کھا گیا، روٹی 15 روپے، نان20 روپےO تاجروں کی ملک گیر ہڑتال، بعض مارکیٹیں کھلی رہیںO دریائے سوات میں سیلاب، کنارے پر بستیاں خطرے میںO وزیراعظم پاکستان کا امریکہ کا تیسرے درجے کا دورہ O تحریک انصاف، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قراردادO آٹا، میدہ،  دال پر کوئی ٹیکس نہیں O تمام ٹرینوں کا شیڈول اپ سیٹ، بارہ بارہ گھنٹے لیٹ۔
 
٭دوسرے معاملات پیچھے چلے گئے، ایک جج کی  کہانی پھیل گئی ہے۔ شدید حیرت والی باتیں سامنے آ رہی ہیں! ایک جج ایک ملزم کو مجرم قرار دے کر ایسے طویل قید اور بھاری جرمانہ کی سزا سناتا ہے، پھر اس ’مجرم‘ کے گھر پہنچ کر معافی تلافی کرتا ہے استغفار! بہت سی دوسری باتیں بھی اذیت ناک ہیں۔جج ہائی کورٹ کے نام ایک خط میں خود ہی اپنے خلاف فرد جرم عائد کر لیتا ہے۔ اخبارات میں تفصیل موجود ہے، مختصر یہ کہ نوازشریف کے بیٹے حسین نواز نے نوازشریف کو بری قرار دینے کے لئے 50 کروڑ روپے، غیر ملکی شہریت اور دوسری سہولتوں کی پیش کش کی۔ جج نے خود کہا ہے کہ میں فیصلے کے بعد نوازشریف سے ملنے کے لئے (برائے معذرت) جاتی عمرہ میں گیا جہاں وہ عارضی رہائی کے وقت آئے ہوئے تھے۔ میں نے بتایا کہ انہیں ایک مقدمے میں بری کر دیا ہے۔ یہ بھی تحریر کیا ہے کہ نوازشریف کے فرنٹ مین ناصر بٹ نے نوازشریف کو بری نہ کرنے پر مجھے قتل کرنے اور بچوں کو اغوا کرنے کی دھمکیاں دیں۔ جج نے یہ باتیں ہائی کورٹ کو نہیں بتائیں احتساب عدالت کے اس جج کو اس عہدہ سے ہٹا کر وزارت قانون کے حوالے کرایا ہے۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں آ چکا ہے، اس لئے اب کسی رائے زنی کی بجائے عدالت عظمیٰ کی کارروائی کا انتظار کرنا ہو گا۔ میں کچھ دوسری باتیں کرنا چاہتا ہوں۔
شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ جج کے تحریری بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ نوازشریف کو سزا دینے کا فیصلہ غلط تھا اس لئے نوازشریف کو فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا دس سال تک وزیراعلیٰ اور اب قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر قانون کی الف ب بھی نہیں جانتا! پہلی بات یہ ہے کہ کسی عدالت کے کسی بھی جج کا فیصلہ اس کا ذاتی نہیں ہوتا اِس کے نام سے نہیں دیا جاتا، اسے عدالت کا فیصلہ کہا جاتا ہے۔ عدالتوں میں بہت سے سابق فیصلوں کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کو عدالت کے نام سے بیان کیا جاتا ہے، ججوں کے نام نہیں دیئے جاتے۔ اسی حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ عدالتوں کے فیصلوںکو ججوں کی ذات اور کردار کے حوالے سے نہیں، بلکہ قانون کے حوالے سے پرکھا جاتا ہے۔ جج کی ذات اور کردار کے حوالے سے اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے تو تبدیل نہیں ہو جاتے، ان کے خلاف اپیل کئے جانے پر صرف اعلیٰ عدالتیں جائزہ لے سکتی ہیں۔
٭ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ، نوازشریف کو سزا دینے کے بارے میں اپیلیں اور نظرثانی کی درخواستیں مسترد کر چکی ہیں)۔ ملک کی عدالتی تاریخ میں ہائی کورٹوں کے تین جج، جسٹس اخلاق احمد، جسٹس شوکت علی اور جسٹس صدیقی برطرف کئے گئے مگر ان کے بے شمار سابق فیصلے تبدیل نہیں ہوئے، بدستور برقرار اور موثر ہیں۔ ان کے خلاف اگلی عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ انہیں اس لئے تبدیل یا ختم نہیں کیا جا سکتا کہ جج معطل یا تبدیل ہو گیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں جج صرف تبدیل ہوا، اس کی ذات اور کردار کے خلاف  ابھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی کسی کارروائی کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ فیصلے کی بات الگ ہے۔ اسے الگ سے دیکھنا ہو گا۔ جج کا موجودہ فیصلہ فی الحال برقرار ہے۔ فیصلہ محض کسی کے مطالبے پر ختم کیا گیا تو اس جج کے پہلے والے بے شمار دوسرے فیصلے بھی متنازع ہو جائیں گے۔
٭سی بی آر کے چیئرمین کا بیان ہے کہ آٹے اور میدہ یا کسی دال پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا مگر پشاور میں نان بائیوں نے سات روپے والی روٹی 15 روپے اورنان بارہ کی بجائے 20 روپے کا کر دیا۔ یہ اضافہ کیوں؟ جب کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا نہ ہی کسی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے؟ بالفرض مجبوری کے باعث ایسا کرنا پڑا ہے تو روٹی کی قیمت میں ایک دو روپے کا اضافہ پھر بھی قبول ہو سکتا تھا مگر اک دم سات روپے پر آٹھ روپے اضافہ!یہ صریح ظلم اور زیادتی ہے۔ پیسہ کمانے کی ہوس اتنی زیادہ کہ غریب عوام کے گلے دبا دیئے جائیں انہیں روٹی نہ مل سکنے پر فاقوں سے ختم کر دیا جائے۔ ویسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ خبر کے مطابق خود صوبائی حکومت نے عوام پر اس ظالمانہ تشدد کی اجازت دی ہے! اس پر کیا لکھا جائے! پہلے خبر آ چکی ہے کہ پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ صوبائی اسمبلی کے امیر ترین رکن ہیں۔ ایسے لوگوں کو کیا خبر کہ شدید مہنگائی سے پہلے ہی ایسے لوگوں پر کیا گزر رہی ہے؟
صادق آباد: اکبر ایکسپریس کی وہی گھسی پٹی رپورٹ آ گئی کہ پٹڑی پر کانٹا غلط تبدیل ہو گیا تھا اور بس! تحقیقات ختم، وزیرریلوے اور ذمہ دار ریلوے حکام پاک صاف بری! ویسے آج تک مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ داروں اور منتخب وزیراعظم کی مارشل لاء کے ہاتھوں گرفتاریوں، پھانسیوں اور قتل کے مجرموں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ہے جو اس حادثے پر کی جائے!
٭سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس خبر پر چپ رہا جائے یا کچھ کہا جائے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان 21 جولائی کو امریکہ پہنچیں گے تو ان کا درجہ اول یا درجہ دوم کا نہیں، درجہ سوم کا استقبال کیا جائے گا اور وہ پروٹوکول اور استقبالیہ تقریبات نہیں ہوں گی جو درجہ اول اور دوم کے مہمانوں کے اعزاز میں منعقد ہوتی ہیں۔ غیر ملکی مہمانو ںکے استقبال کے لئے امریکی حکومت نے پانچ درجے بنا رکھے ہیں۔ درجہ اول سٹیٹ وزٹ: بادشاہوں یا کسی ملک کے صدر سرکاری دورے کو سٹیٹ وزٹ (ریاستی استقبال) کہا جاتا ہے۔ ہوائی اڈے پر 21 توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر، وائٹ ہائوس سے چند قدم پر سرکاری مہمان خانہ ’بلیئرہائوس‘ میں تین راتوں چار دنوں کے قیام کی سہولت، وائٹ ہائوس میں آمدورفت پرخصوصی تقریبات، بینڈ باجہ وغیرہ اور رات کو اعلیٰ پیمانہ کا عشائیہ! درجہ دوم آفیشل وزٹ کسی بڑے وزیراعظم کی آمد پر جسے خصوصی مہمان کے طور پر صدر نے بلایا ہو، (نریندر مودی) ہوائی اڈے پر 19 توپوں کی سلامی، بلیئر ہائوس میں دو راتوں تین دن کا قیام، وائٹ ہائوس میں تقریب اور رات کو عشائیہ! تیسرا درجہ: آفیشل ورکنگ وزٹ (وزیراعظم پاکستان والا) ہوائی اڈے پر کوئی توپ یا گارڈ آف آنر نہیں، بلیئرہائوس میں جگہ خالی ہونے پر دو راتوں تین دن قیام کی اجازت! جگہ نہ ہو تو اپنے خرچ پر ہوٹل میں رہو۔ رات کے عشائیہ کی بجائے دوپہر کو ورکنگ لنچ، عام کھانا۔چوتھا درجہ: کسی وزیراعظم کے اپنے سرکاری دورے کے دوران اس کی درخواست پر وائٹ ہائوس میں صدر امریکہ سے مختصر ملاقات! کوئی استقبالیہ تقریب نہیں۔ آخری درجہ کہ کوئی اہم شخص ذاتی دورے پر آیا ہو تو اس کی درخواست پر امریکی صدر کے پاس وقت ہو تو چند منٹ کی علیک سلیک! اور بس! قارئین کرام! بھارت کا وزیراعظم واشنگٹن گیا تو اول کا استقبال کیا گیا… اور …اور پاکستان کا وزیراعظم جا رہا ہے تو درجہ سوم…!
٭فیس بک پر دوتین چھوٹی چھوٹی باتیں: ایک تجزیہ، ’’کچھ بہت اہم ہونے والا ہے!‘‘ جوابی تجزیہ! ’’جی ہاں ایک اہم شخصیت باپ بننے والی ہے‘‘-2 ایک سوال انتخابات میں سیاست دانوں کو کیسے چُنا جانا چاہئے؟‘‘ انور مقصود کا جواب! ’’جیسے اکبر بادشاہ نے انارکلی کو دیوار میں چُن دیا تھا!‘‘ سیاست دان کے گھرکے باہر سے آواز، رشید صاحب ہیں؟ اوپر سے چھوٹے بچے کی آواز! ’’جی ابو کہہ رہے ہیں میں گھر پر نہیں ہوں!

تازہ ترین خبریں