07:39 am
مالیاتی اور معاشی قتل سب سے بڑا ظلم ہے

مالیاتی اور معاشی قتل سب سے بڑا ظلم ہے

07:39 am

ارشادِ ربانی ہے: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھائو۔ (29:4
ارشادِ ربانی ہے: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھائو۔ (29:4)
مطلب یہ ہے کہ کرپشن، ظالمانہ ٹیکسوں اور لوٹ مار کے ذریعے سے قومی خزانے کو تباہ و برباد نہ کرو۔ ملکی مالیاتی نظم و نسق قائم کرنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ’’تجارت آپس کی خوشی سے ہو۔ ‘‘یعنی ملک کا جتنا بھی تبادلہ اشیا کا عمل ہے، آمدن اور خرچ کے درمیان جو بیلنس شیٹ بنانی ہے، وہ باہمی رضامندی اور انسانی حقوق کے پورا کرنے کے ساتھ ہو۔ قرآن حکیم نے مزید کہا کہ: نہ خون کرو آپس میں۔
معاشی قتل سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔ انسان کا رزق چھین لیا جائے، اس کے گاڑھے پسینے کی کمائی لوٹ لی جائے، اس سے بڑا قتل کیا ہوسکتا ہے! جان سے مار دینا تو آسان ہے، اس سے دنیا کے عذاب سے تو نجات مل جاتی ہے، لیکن زندہ بھی رکھا جائے اور کھانے بھی کچھ نہ دیا جائے، فاقوں پر مجبور کردیا جائے، اس سے بڑا انسانیت کے خلاف ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ قرآنی ہدایات پر عمل کیا جائے تو مالیاتی نظم و نسق درست طور پر قائم ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو قرآن نے وارننگ دی ہے کہ جس نے بھی انسانوں پر زیادتی کرتے ہوئے یہ حرکات کیں، طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کے مالوں اور ان کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالا، جنھوں نے انسانیت کی تباہی اور بربادی کا کام کیا، ہم انھیں جہنم کی آگ میں ڈال دیں گے۔ (30:4)یقیناً اس سے دنیا بھی جہنم بنتی ہے اور آخرت بھی۔ قرآن حکیم باربار مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے اور مالیاتی معاملات کو عدل و انصاف کے ساتھ قائم کرنے کے لیے غور و فکر اور عقل و شعور کی دعوت دیتا ہے۔ یہ کیسے  لوگ ہیں کہ ماہِ رمضان میں قرآن کی تلاوت سنتے ہیں، لیکن قرآن کے اہم ترین پیغام کو اپنی سوسائٹی کے تناظر میں دیکھنے کے لیے قطعا ًتیار نہیں؟
پھر عجیب معاملہ ہے کہ اصل خرابی اس مالیاتی سسٹم میں ہے، جو ڈھائی تین سو سال سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور برا کہا جاتا ہے حکمران افراد کو کہ وہ ایسا تھا، ویسا تھا، وہ ظالم تھا، وہ کرپٹ تھا وغیرہ وغیرہ، حال آںکہ جرم سسٹم کی خرابی کا ہے اور قوم کو محض افراد کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے، جن کا خود ملک پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ حکمران تو ان کے تابع ہوتے ہیں، جن کی یہ کٹھ پتلیاں ہیں، جس سسٹم نے انھیں فٹ کیا ہے۔ جو سسٹم ان مقتدر افراد کو آگے لے کر آتا ہے، بات تو اس کی ہے۔ ایسے ظالمانہ سسٹم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور شخصیات کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ فرد بدل جاتا ہے تو نئے چہرے سے امیدیں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بھئی! اگر فرد اتنا ہی اہم ہے، تو پھر اس کے چلے جانے کے بعد بجٹ خسارہ ٹھیک ہونا چاہیے تھا، جب کہ ایسا نہیںہوتا۔ اس لیے آج سسٹم کی خرابی سے واقف ہونے اور اس کو بدلنے کی ضرورت ہے، ورنہ دین و دنیا کا خسارہ در خسارہ چلتا رہے گا۔
دینِ اسلام کی معاشی تعلیمات میں مالیاتی ڈسپلن قائم کرنے کو بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ سماج دشمن عناصر جنھیں قرآن حکیم فاسق کہتا ہے، ان کی بنیادی علامات میں سے ایک اہم علامت قرآن حکیم نے یہ بتلائی ہے کہ وہ زمین میں فساد مچاتے ہیں اور انسانی سوسائٹی میں سب سے بڑا فساد مالیاتی فساد ہوتا ہے۔ کمزوروں، یتیموں اور عام انسانوں کے مال پر ڈاکہ ڈالنے کو سب سے بڑا فساد قرار دیا گیا ہے۔ قرآن حکیم نے فسادی آدمی کی علامت بتاتے ہوئے کہا کہ:205:2) )وہ کھیتیوں کو آگ لگاتا ہے اور انسانوں کو تباہ و برباد کرتا ہے، نسلِ انسانی کی تباہی کے فیصلے کرتا ہے۔ لوگوں کو بھوکا مارتا ہے۔ ان کے حقوق توڑتا ہے اور جو وسائل دستیاب بھی ہوں، انھیں جلا کر راکھ کردیتا ہے۔ دورِ جاہلیت میں مکے کا ظالم اپنی فصلوں کو اس لیے آگ لگا دیتا تھا کہ گندم غریبوں کو کہیں سستے داموں نہ ملے، انھیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے نہ ملیں، جس سے وہ کھانے پینے کی چیزیں نہ لے لیں۔ پھر لوگوں کو رزق نہیں ملے گا تو وہ تباہ و برباد ہوں گے۔ ان کی نسلیں کو تباہ ہوجائیں گی، جس سے مالیاتی ڈسپلن ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔
نبی اکرم نے ارشاد فرمایا کہ: الاقتصاد فی النفق نصف المعیش۔ (کنز العمال)اخراجات میں میانہ روی کل معیشت کا آدھا حصہ ہے۔معیشت کا ایک حصہ آمدن کا حصول ہوتا ہے، جس میں پوری سرگرمی اور محنت کرنے سے یہ حصہ حاصل ہوتا ہے۔ باقی نصف معیشت اخراجات میں میانہ روی اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ گویا کہ قرآنی تعلیمات اور نبی اکرم ؐنے معاشیات کے دو بنیادی اصولوں کی وضاحت کردی کہ علم معیشت کے تحت کسی ملک کے معاشی اور مالیاتی نظم و نسق کے دو دائرے ہیں: ایک یہ کہ دولت پیدا کیسے کرنی ہے اور دوسرے یہ کہ خرچ کیسے کرنی ہے؟ کیا معیشت چوری، ڈاکے، کرپشن، لوٹ مار اور دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے پیدا کرنی ہے؟ نسلِ انسانی کو تباہ کرکے ظلم اور زیادتی کے ساتھ یہ دولت کی پیدائش کا عمل ہوگا؟ یا پھر انسانی حقوق کو پورا کرنے، مزدوروں کی اجرت پوری طرح ادا کرنے، انسانی حقوق کو ذمہ داریوں کے ساتھ سرانجام دینے، کاشت کاروں، کسانوں اور دیگر کام کرنے والے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے تناظر میں دولت پیدا کی جانی ہے۔
اسلام نے انسانی حقوق کی ادئیگی کے ساتھ دولت کی پیدائش کو معیشت کا آدھا حصہ قرار دیا ہے اور اس دولت کے اخراجات کے درست میزانیے اور درست نظم و نسق قائم کرنے کو معیشت کا آدھا حصہ قرار دیا ہے۔ اسی لیے انسانی معاشروں میں مالیاتی نظم و ضبط کو قائم کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت ایسے حکومتی نظام کی رہی ہے، جو ملکی اخراجات کو کنٹرول کرے۔ انسانی معاشروں کے لیے آمدن اور اخراجات کے مالیاتی فیصلے کرنا جدید اصطلاح میں بجٹ بنانا کہلاتا ہے۔
مال و دولت انسانی زندگی کی بقا کے لیے ناگزیر اور لازمی ہے۔ قرآن حکیم نے خود فرمایا ہے کہ: مال کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے گزران کا ذریعہ بنایا ہے۔ (5:4)مال کے بغیر دنیا میں انسانی جسم کی ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں، نہ اس کرہ  ارض پر زندگی بسر ہوسکتی ہے۔
 مال کا انسانی ضرورت سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم کی سینکڑوں آیات میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ مال کی پیدائش، اس کی تقسیم، تبادلہ اور اس کا صرف اور استعمال کن اصولوں اور ضابطوں پر ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم کی معاشی تعلیمات میں ان معاملات کو بڑی اہمیت دی گئی ہے کہ مال وجود میں کیسے آئے؟ انسانوں کے درمیان اس کی تقسیم کیسے ہو؟ اس کا ایک دوسرے سے لین دین اور تبادلے کا بنیادی قانون اور ضابطہ کیا ہو؟ مال کا استعمال اور خرچ کیسے ہوگا؟ اسی لیے وہ تمام مالی معاملات جہاں انسانی حقوق کے پامال ہونے، کمزوروں کے حقوق پر ڈاکہ پڑنے، انسانی سوسائٹی کے درمیان جھگڑے اور لڑائی پیدا ہونے کے ممکنہ پہلو ہیں، ان کے متعلق قرآن حکیم نے پوری وضاحت کے ساتھ احکامات بیان کیے ہیں۔ اسی طرح وراثت کا قانون بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ دولت کی پیدائش سے متعلق بنیادی اساسی اصول واضح کیے ہیں۔ دولت کی تقسیم اور اس کے استعمالات کے جامع طریقے واضح کیے ہیں، تاکہ کسی بھی حوالے سے مسلمانوں کے اس مالی نظام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ ان کی اجتماعیت اور ان کی سماجی زندگی مال نہ ہونے کی وجہ سے نہ ٹوٹے۔ (شاہ ولی اللہ کے معاشی افکار پر عبور رکھنے والے عالم دین مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری کا موقف)

 

تازہ ترین خبریں