07:40 am
فرعون کا ستون!

فرعون کا ستون!

07:40 am

یہ محلات آج تک قائم ہیں،یہ شتودی وارسائی کہلاتے ہیں اوران کے درودیوارسے عوام کے خون کی بوآتی ہے
(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ محلات آج تک قائم ہیں،یہ شتودی وارسائی کہلاتے ہیں اوران کے درودیوارسے عوام کے خون کی بوآتی ہے،آپ کوشاید یہ جان کرحیرت ہوگی،انقلاب فرانس کی بنیادعدالت کے ایک فیصلے نے رکھی تھی،اٹھارہویں صدی  کے آخرمیں جب لوگوں کے پاس آٹاختم ہو گیاتھااوروہ محل کے سامنے کھڑے ہوکرآٹے کی دہائی دینے لگے تھے اورنو خیزملکہ نے انہیں روٹی کی جگہ کیک کھانے کامشورہ دیاتھا ۔
 ٹھیک اس وقت فرانس کی عدالت میں یہ مقدمہ چل رہاتھا،بادشاہ کاہرفرمان قانون ہے اورفرانس کی کسی اتھارٹی کے پاس اس سے سرتابی کا اختیار نہیں، جس وقت لوگ پیرس کی گلیوں میں آٹاآٹاپکار رہے تھے ٹھیک اس وقت فرانس کی سپریم کورٹ نے اعلان کر دیا تھا، بادشاہ کوزمین پرخداکے تمام اختیارات حاصل ہیں اوردنیاکی کوئی طاقت اس سے یہ اختیارات واپس نہیں لے سکتی،اس حکم کے دوسرے دن بادشاہ کے ایک گماشتے نے ایک مالی کو’’آرک ڈی تری اونف‘‘کے مقام پرکوڑے مارنا شروع کردئیے،لوگوں نے روکا تو گماشتے نے جیب سے بادشاہ کاحکم نامہ نکال کردکھایا،اس حکم نامے کے مطابق شاہی گماشتے کسی بھی ایسے شخص کوکسی بھی مقام پرسزادے سکتے تھے جس کے بارے میں اندیشہ ہویہ نقص امن کاباعث بن سکتاہے،یہ مالی شاہی گماشتے کی ماربرداشت نہ کر سکااوراس نے لوگوں کے سامنے دم توڑدیا،مجمع میں سے ایک پتھر آیا اور سیدھا شاہی گماشتے کے سرپر لگا، اس نے غصے سے ہجوم کوگالی دی اورپانچ منٹ بعداس چوک میں اس گماشتے کی لاش پڑی تھی،یہ گماشتہ اس انقلاب کا پہلا شکار تھا، اس کی نعش سے لوگوں کومعلوم ہواظالم بھی آخرکار انسان ہی ہوتے ہیں اورانسانوں کی زندگی اورموت میں کوئی آہنی پردہ حائل نہیں ہوتا،بس یہ معلوم ہونے کی دیرتھی پورے فرانس میں آگ لگ گئی اورلوگوں نے ظالموں کی نعشیں بچھاکران پررقص شروع کردیا،وہ دن اورآج کا دن، فرانس میں اس کے بعدکسی نے’’کنکورڈ‘‘بننے کی کوشش نہیں کی۔
اگرآپ’’آرک ڈی تری اونف‘‘کی چھت پرکھڑے ہوں توآپ کے قدموں میں شانزے لیزے بچھی ہوتی ہے،پوراپیرس روشنیوں میں نہایاہوانظرآئے گااورآپ فرانس کی ایک خوبصورت اورپراسرار شام کا لطف اٹھاسکتے ہیں جہاں خوشگوارموسم میں افق پرکبھی کبھارآپ کولالی کے آثاربھی دکھائی دیں گے۔میں نے پیرس کی خنک شام کاایک لمباسا گھونٹ بھرااورسوچافرانس اورپاکستان میں کیافرق ہے ،مجھے محسوس ہواپاکستان 1780ء کافرانس ہے،وہی مسائل،وہی ظلم،وہی جبر،زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی وہی حرص،وہی مفادپرست اورخوشامدی سیاستدان،قانون آئین اورضابطوں کی وہی بے حرمتی،وہی سنگدلی،وہی ہٹ دھرمی اورخودکو نا گزیر اور ضروری سمجھنے کی وہی ضد،وہی نوگز کی انا،اللہ کے قرب کے وہی دعوے اورخودکوعقل کل تسلیم کرانے کی وہی کوششیں،عوام کاوہی اضطراب، وہی بے چینی،وہی غصہ اوروہی شدت،ملک کی وہی مہنگائی،وہی بے روزگاری اورآٹے کی وہی قلت،میڈیاپروہی ڈنڈے بازی اورنظام کی وہی شکست وریخت، سیاستدانوں کی وہی بندربانٹ،وہی ڈیلیں،وہی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے متفقہ قراردادیں اوروہی سمجھوتے اوربادشاہوں کے وہی مصاحب اوران کی وہی چمچہ گیری،چند لمحوں کیلئے مجھے اپنادل ڈوبتامحسوس ہوااورسانس لینادشوارہوگیا۔
 مجھے محسوس ہوا 1780 ء کے فرانس اور 2010 ء کے پاکستان میں کوئی فرق نہیں بس ماچس کی ایک تیلی گرنے،ایک نعش کے تڑپنے اورایک پتھراٹھنے کی دیرہے اورعوام ساری حدیں پارکرجائیں گے،مجھے پیرس کی اس شام نے یہ پیغام دیاکہ پاکستان بھی اب ایک ایسے ہی خونی انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ نجانے میں نے کیوں فوری طورپربڑی عجلت سے ’’آرک ڈی تری اونف‘‘کی چھت سے نیچے اترنے میں ہی اپنی عافیت جانی لیکن کیا کروں ان احساسات اوراندیشوں نے میرامحاصرہ کررکھاہے!

 

تازہ ترین خبریں