07:40 am
راجہ داہر‘ رنجیت سنگھ اور پتھر کے زمانے کا مائنڈ سیٹ

راجہ داہر‘ رنجیت سنگھ اور پتھر کے زمانے کا مائنڈ سیٹ

07:40 am

فتنوں کی کوکھ سے ہی فساد جنم لیا کرتے ہیں‘ لاہور میں راجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ اور سندھ میں راجہ داہر جنم
فتنوں کی کوکھ سے ہی فساد جنم لیا کرتے ہیں‘ لاہور میں راجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ اور سندھ میں راجہ داہر جنم مکانی‘کو قومی ہیرو تسلیم کرنے کا خواب دیکھنے والے فتنہ گروں کو کوئی بتائے کہ یہ ملک قائداعظم محمد جناح کی قیادت میں مسلمانان برصغیر نے دو قومی نظریئے کی بنیاد پر حاصل کیا تھا‘ جسے رنجیت اور داہر سے پیار ہے وہ اس ملک کی جان چھوڑ د دے‘ ریاست مدینہ کے دعویدار وزیراعظم عمران خان ہزاروں مسلمانوں کے قاتل اور شاہی مسجد کو اصطبل خانے میں تبدیل کرنے والے رنجیت سنگھ کے مجسمے کی تنصیب کا فی الفور نوٹس لے کر ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینے کا اعلان کریں۔
دعوے جدت پسندی کے اور نعرے دور جہالت کے … راجہ داہر اور راجہ رنجیت سنگھ سے نہ اسلام کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا اور پھر جس ملک کا بنیادی نعرہ ہو‘ پاکستان کا مطلب کیا! لا الہ الا اللہ قیام پاکستان کے 71 سال بعد اس   پاکستان میں راجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کرنا‘ بدنام زمانہ راجہ داہر کو قومی ہیرو تسلیم کرنے کی باتیں کرنا مقتدر حلقے اور صاحبان علم و دانش… نوٹ کریں کہ یہ غیر آئینی اور غیر اسلامی حرکتیں کرکے کون مسلمانوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی کوشش کررہا ہے؟
قومی سلامتی کے ضامن اداروں پرپاکستانی قوم کو فخر ہے‘ کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرکے ہمارے اداروں کے بہادر سپوتوں نے قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا تھا‘ پاکستانی قوم اپنے قومی سلامتی ضامن ’’بہادروں‘‘ سے بجاطور پر توقع رکھتی ہے کہ وہ راجہ رنجیت سنگھ اور راجہ داہر کی ’’اولاد‘‘ کو فوراً شٹ اپ کال دیں گے کیونکہ ان کی ان مذموم حرکتوں کی وجہ سے پاکستانی قوم میں بے چینی کی فضا ء بڑھتی جارہی ہے۔
سندھ‘ عبداللہ شاہ غازی‘ لعل شہباز قلندر‘ سچل سرمست اور شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی وہ عظیم دھرتی ہے کہ جسے اپنے محسن حضرت  محمد بن قاسمؒ کی سپہ سالاری پر آج بھی ناز اور فخر ہے۔
اگر کسی کے دماغ میں راجہ داہر کو قومی ہیرو تسلیم کروانے کا کیڑا کلبلایا ہے تومیرا اس فتنہ پرور گروہ کو مشورہ ہے کہ وہ یہاں سے دفع ہوکر ہندوستان منتقل ہو جائے اور پھر وہاں پر ’’داہرستان‘‘ کے نام پر نیا ملک بنانے کی کوشش کرے ‘ ’’خالصتان‘‘ کے نام پر سکھوں نے انڈیا میں بڑی قربانیاں پیش کیں‘ لیکن عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد پہلے کرتارپورہ راہداری اور لاہور میں راجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کی تنصیب کے مناظر دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے خدانخواستہ ’’خالصتان‘‘ یہیں کہیں بننے جارہا ہے‘ یہ کن عجیب فسادیوں سے پاکستانی قوم کا پالا پڑا ہوا ہے؟ جو یہ جانتے بھی ہیں کہ رنجیت سنگھ سے نہ مسلمانوں کا کوئی تعلق ہے اور نہ واسطہ … پھر بھی زور زبردستی  وہ ایک اسلامی نظریاتی ملک میں اس کا مجسمہ نصب کرچکے ہیں ‘ یہ ’’مجسمہ سازی‘‘ تو ویسے ہی دور جاہلیت کی قدیمی یادگار ہے‘ اگر ’’مولوی‘‘ نماز‘ زکوٰۃ اور پردے وغیرہ کے اسلامی احکام سنائے تو سیکولر شدت پسندوں کا یہ جاہل گروہ منہ بگاڑ کر کہتا ہے کہ جدید زمانے میں پرانی باتیں مت کرو اور خود اس جاہل گروہ کی اپنی حالت یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی ملک میں کافروں کے مجسمے نصب کرکے ملک کو پتھر کے فروغ میں دھکیل چکا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ کے فوج دشمن متشدد سیکولر یہ لکھ کر کہ ’’پنجاب چونکہ پرو اسٹیبلشمنٹ ہے اس لئے وہاں راجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب ہوسکتا ہے مگر سندھ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اس لئے یہاں راجہ داہر کو ہیرو تسلیم کرنا ذرا مشکل ہے‘‘ پاک فوج کے خلاف متعصبانہ پروپیگنڈا کرکے ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیسے خدانخواستہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے چوکوں اور چوراہوں پر کافروں کے مجسمے رکھنے کی حامی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوراً اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے‘ گو کہ پاکستان سمیت دیگر بعض مسلم ممالک کے معروف شہروں میں کافروں کے مجسمے رکھوانا عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے‘ اس حکومت نے عالمی ایجنڈے کو قبول کرکے یہ ثابت کر دیا کہ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے لے کر نواز اور شاہد خاقان عباسی تک طاغوتی طاقتوں سے ڈکٹیشن لینے کا سلسلہ رکا نہیں‘ بلکہ کپتان کی حکومت اس حوالے سے سب پچھلوں کو بھی مات دینا چاہتی ہے۔
اگر طاغوتی طاقتوں کا ایجنٹ متشدد و سیکولر نان اسٹیٹ ایکٹرز پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے والے ایجنڈے سے باز نہ آئے اور حکومت نے بھی اس کا نوٹس نہ لیا تو پھر مجھے ڈر ہے کہ کہیں ردعمل میں مسلمان سڑکوں پر سخت احتجاج پر مجبور نہ ہوجائیں۔
لاہور‘ مظفر آباد کے ختم نبوت ؐ چوک سے لے کر تھرپارکر میں جاری قادیانی ریشہ دوانیوں تک ‘ مسلمانوں کی حالات و اقعات پر گہری نظر ہے‘ عالمی طاغوتی جاہل گروہ کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے د یا جائے گا۔

 

تازہ ترین خبریں