07:41 am
رہبرکمیٹی‘  پراگندہ سیاست اور سینیٹ چیئرمین

رہبرکمیٹی‘ پراگندہ سیاست اور سینیٹ چیئرمین

07:41 am

اپوزیشن  رہبر کمیٹی کے قیام کا عمل میںلائی تو حفیظ جالندھری کی غزل کا ایک شعر ہونٹوں پر مچلتا رہا۔ غزل کے تین اشعار پیش خدمت ہیں تاکہ مذکورہ شعر کا مزا دوبالا ہو۔
 
اپوزیشن  رہبر کمیٹی کے قیام کا عمل میںلائی تو حفیظ جالندھری کی غزل کا ایک شعر ہونٹوں پر مچلتا رہا۔ غزل کے تین اشعار پیش خدمت ہیں تاکہ مذکورہ شعر کا مزا دوبالا ہو۔
اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے
یہ مری رات کا سویرا ہے
رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا
اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے
قافلہ کس کی پیروی میں چلے
کون سب سے بڑا لٹیرا ہے
رہبر کمیٹی بنا لیں یا اس کو کوئی اور نام دے دیں جب تک ہمارے رہنما اپنے رہنما ہونے کا حق ادا نہیں کرتے ان کی بات بن نہیں سکے گی۔ زندگی دوسروں کی غلطیوںپر نہیں اپنی خوبیوںپر بسر ہوتی ہے اور ان کی خوبی یہ ہے کہ ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ جب تک اپنی ذات کی قربانی دینے پر آمادہ نہیںہوتے ان کی پریشانیوں کے دن ختم نہیںہوں گے۔ ہماری قیادت کامسئلہ یہ رہا ہے کہ یہ غیر مرئی قوتوں پر تنقید کرتے ہیں اور خلائی مخلوق کی باتیں کرتے ہیں مگر اپنی اصلاح پر توجہ دینا گوارہ نہیںہے۔ رہبروں کی اصلیت یہ ہے کہ کسی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ ہے اور کوئی جعلی بینک اکانٹس اور آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بھگت رہا ہے۔ رہنما اپنی قوم کا بڑا آدمی ہوتا ہے اخلاقی اعتبار سے نہ کہ مال و دولت کے بل بوتے پر جیسا کہ ہمارے معاشرے کی ریت بن چکی ہے۔ آپ اپنے رہنمائوں کی اخلاقی لحاظ سے ریٹنگ کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ رہنمائوں کے اوصاف کیا ہیں۔ قوم کا درد تو بہت بعد کی چیز ہے یہ تو چیک کریں کہ قیادت کے دعویدار بننے والے کتنا سچ بولتے ہیں اور کس قدر ایماندار ہیں۔ عہد کی پاسداری کتنی کرتے ہیں اور فریب و دغابازی سے کس قدر پرہیز کرتے ہیں۔ اصول پرستی ' میرٹ کی بالادستی اور انصاف کی سربلندی اور قوم کے غم میں پاگل ہونے والے اوصاف تو اس معاشرے میں ناپید ہیں ہی‘ بنیادی انسانی اوصاف کے لحاظ سے بھی معاشرہ قحط الرجال کا شکار ہے۔ ایک دوسرے کے جرائم کے پردہ پوش قوم کی کیا قیادت کریں گے اور کیا کوشش کریں گے کہ کڑے اور شفاف احتساب کے نتیجے میں چور اور رسہ گیر اپنے انجام کو پہنچیں۔ منو بھائی یاد آتے ہیں ۔ ان کی پنجابی نظم کے چند اشعار اس ضمن میں شاہکار ہیں۔
احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر!
چور ‘ قاتلاں ‘ ڈاکوواں کولوں
  چوراں ' ڈاکوواں ' قاتلاں بارے کیہ پچھدے او
ایہہ تہانوں کیہ دسن گے کیوںدسن گے
دسن گے تے جنج وسدے نیں کنج وسن گے
کھوجی رسہ گیر نے سارے کیہ پچھد ے او
اک دوجے دے جرم سہارے کیہ پچھدے او
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں احتسابی عمل کو جس طرح نظر اندا زکیا اس سے مذکورہ بالا اشعار کی صداقت پر مہر ثبت ہوئی ہے۔ انہوں نے میثاق جمہوریت میں جنرل مشرف کے بنائے ہوئے ادارے’’نیب‘‘ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا لیکن برسراقتدار آنے کے بعد دونوں جماعتوں نے اپنے دس سالہ عہد میں نیب کو ختم نہ کیا۔ آج انہیں نیب برا لگ رہا ہے۔ جھوٹ موٹ کا جعلی احتسابی یا سیاسی انتقام والا احتساب تو انہیں قابل قبول ہے مگر جس احتساب کے نتیجے میں ’’چوں وچوں کھائی جا تے اوتوں رولا پائی جا‘‘(اندرون خانہ کھاتے جائو اور ظاہری طور پر شور مچاتے جائو) کا ڈرامہ بے نقاب ہو اور یہ قانون کے سخت شکنجے میں آ جائیں وہ قطعاً ان رہنمائوں کو قابل قبول نہیں ہے۔
رہبروں والا کون سا کام ہے جو آج تک انہوں نے سرانجام دینے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے اداروں پر تنقید بہت آسان ہے مگر بقول شاعر ’’پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے‘‘ والا معاملہ ہے۔ سیاسی طور پر بونے لوگ جن کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی خاص عمل نہیں ہے اپنے عیبوں پر پردہ ڈالنے کے لیے قومی اداروں خاص طور پر پاک فوج کی قیادت کو ملکی خرابیوں پر مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ اس قسم کی چھیڑ چھاڑ مزید خرابی کا باعث بنتی ہے۔ اہل سیاست کو اگر بڑا بننا ہے تو اداروں کو چھوئے اور چھیڑے بغیر اپنے آپ کو ان سے بڑا ثابت کریں۔ بعینہ جیسے ایک شخص نے تختہ سیاہ پرلگی ہوئی ایک لائن کو بغیر چھوئے اور چھیڑے چھوٹا کر دیا اس کے متوازی ایک بڑی لائن لگا کر۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ رہنما بڑا نہیں بننا چاہتے ۔ ان کے نزدیک سیاست ایک کھیل ہے۔  اقتدار کے اس کھیل میں کبھی مخالف چت ہوتا ہے اور کبھی یہ خود‘ وہ بلند پایہ مقاصد جن کے لیے لوگ بزم سیاست کا رخ کرتے ہیں ان کے پیش نظر نہیں ہیں ۔ حکومت کو گرانا کیسے ہے اور اپنی حکومت بنانا کیسے ہے‘ کی ذہنی الفت کے عادی اس گروہ کا تازہ ہدف چیئرمین سینیٹ ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے کیا فرق پڑے گا؟ ابھی تک تو یہ اس بات پر بھی مکمل طور پر متفق نہیںہو سکے کہ نیا چیئرمین سینیٹ کون ہو گا۔ پاکستانی سیاست ایک ٹھہرے ہوئے پانی کا جوہڑ ہے جہاں گندگی اور غلاظت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ رہبر کمیٹی اگر بڑے فیصلے کرتی تو اس کا پہلا فیصلہ ہوتا کہ تمام سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی الیکشنز کا اہتمام کریں جو کہ صحیح معنوں میں جمہوری اور مساوی مواقع کے اصولوں کے تحت انعقاد پذیر ہوں۔ سیاسی جماعتیں نئی قیادت کا انتخاب کرتی ہیں تو ان کی شگفتگی بھی قائم رہتی ہے اور سیاسی عمل بھی پراگندہ نہیں ہوتا لیکن رہبر کمیٹی جن جماعتوں پر مشتمل ہے ان کی جمہوریت پسندی اس دن عیاں ہوگئی جب انہوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کرتے وقت آئین سے آرٹیکل17(4) نکال دیا کیونکہ یہ آئینی شق  سیاسی جماعتوں کو پارٹی الیکشن کا پابند بناتی تھی اور یہ  پابندی انہیں کسی طرح منظور نہ تھی۔

 

تازہ ترین خبریں